فتنہ عام
Al-Risala, September 2019, pp. 36–38
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے : سَتَكُوْنُ فِتَنٌ، القَاعِدُ فِيْهَا خَيْرٌ مِنَ القَائِمِ، وَالقَائِمُ خَيْرٌ مِنَ المَاشِي، وَالمَاشِي فِيْهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي، مَنْ تُشْرِفْ لَهَا تَسْتَشْرِفْهُ، فَمَنْ وَجَدَ مَلْجَاً أَوْ مَعَاذًا، فَلْيُعُذْ بِهِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 7082)۔ یعنی عنقریب فتنے ہوں گے۔ بیٹھنے والا، کھڑے رہنے والے سے بہتر ہوگا، اور کھڑا رہنے والا، چلنے والے سے بہتر ہوگا، اور چلنے والا کوشش کرنے والے سے بہتر ہوگا، جو اس کی طرف جھانکے گا، وہ اس میں واقع ہو جائے گا، تو جو بھی کوئی پناہ گاہ یا بچنے کی جگہ پائے، تو وہ اس میں پناہ لے لے۔
اس حدیث میں ایک عمومی فتنے کا ذکر ہے۔ اس سے مراد غالباً وہ دور ہے، جب ٹیکنالوجی کی دریافت کے نتیجے میں مواقع (opportunities) بہت زیادہ بڑھ جائیں گی۔ ہر آدمی کو دکھائی دے گا کہ وہ بھی ان سب چیزوں کو پاسکتا ہے، جو بظاہر دوسرا آدمی پائے ہوئے ہے۔ اعتبار سے، سیاسی عہدے کے اعتبار سے، مادی فائدے کے اعتبار سے امکانات اتنے زیادہ بڑھ جائیں گے کہ اس کی رسائی ہر آدمی تک ہو جائے گی۔ گھر کے معاملے میں، اپنی فیملی کے معاملے میں، اپنے بچوں کے معاملے میں، ہر آدمی بڑی بڑی ترقی کا خواب دیکھنے لگے گا۔ یہ فتنہ ہر آدمی کو مادہ پرست بنا دے گا۔ ہر آدمی پر ایک ہی شوق غالب ہوگا کہ وہ اور اس کی فیملی زیادہ سے زیادہ دنیوی ترقی حاصل کرے۔
مادی ترقی کی دوڑ اس زمانے میں اتنا زیادہ عام ہو جائے گی کہ دوسری چیز آدمی کو نظر ہی نہیں آئے گی۔ دنیا پرستی کا کلچر مکمل طور پر آخرت پسندی کے اوپر غالب آجائے گا۔ آدمی کو نظر آئے گا کہ جنت جب مجھ کو اسی دنیا میں مل رہی ہے، تو میں جنت کو پانے کے لیے آخرت کا انتظار کیوں کوئی آدمی اگر خود دنیا کی ترقی حاصل نہ کرسکا، تو وہ اپنی اولاد کو ترقی کی اس دوڑ میں ہمہ تن شامل
انسان کی دریافت خدا تمام خوبیوں کا سرچشمہ ہے۔
God is the eternal source of all kinds of beauty and goodness. کس انداز میں قسم کا اعلٰی خدا نے انسان کو بنایا۔ انسان اپنی ذات میں ایک مکمل وجود ہے۔ اس کے اندر ہر قسم کی اعلیٰ صلاحیتیں کمال درجہ میں موجود ہیں۔ انسان کے دماغ (brain) میں 100 million billion billion پارٹیکل ہیں۔ یہ واقعہ اس بات کی علامت ہے کہ انسان کے خالق نے انسان کے اندر لا محدود صلاحیتیں رکھ دی ہیں۔
اسی کے ساتھ انسان کو ایک ایسی انوکھی چیز دی گئی ہے، جو وسیع کائنات میں کسی کو حاصل یہ ہے احساس مسرت۔ انسان اس کائنات میں واحد مخلوق ہے جو pleasure کا احساس رکھتا ہے اور وہ pleasure سے انجوائے کرنے کی لامحدود capacity رکھتا ہے۔ انسان کے لیے ہر چیز اامکانی طور پر خوشی کا ذریعہ ہے۔
خدا نے اسی قسم کی انوکھی صلاحیتوں کے ساتھ انسان کو پیدا کیا۔ اس کے بعد خدا نے ایک حسین دنیا بنائی جس کا نام اس نے جنت رکھا۔ جنت ایک perfect world ہے، جس میں ہر قسم کا pleasure اپنی آخری perfect صورت میں موجود ہے۔ انسان اور یہ جنت دونوں گویا ایک دوسرے کا مثنی (کاؤنٹر پارٹ) ہیں۔ انسان جنت کے لیے ہے اور جنت انسان کے لیے۔ جگہ ہے جہاں انسان کو پورا fulfillment ملے ۔ جنت گویا انسان کی تکمیل ہے۔ جنت کے بغیر انسان بے معنی ہے، اور انسان کے بغیر جنت بے معنی۔ جنت کے بغیر انسان کی زندگی ادھوری ہے، اور انسان کے بغیر جنت ادھوری۔
انسان اس جنت کا مکانی باشندہ ہے، مگر یہ جنت کسی انسان کو پیدائشی یا نسلی حق کے طور پر نہیں انسان اس جنت کا امکانی باشندہ ہے، گریه جنت کی انسان کی پیدائش یا ہاں سے دور رہیں۔
جنت میں داخلہ کی شرط یہ ہے کہ انسان یہ ثابت کرے کہ وہ اپنی خصوصیات کے اعتبار سے اس کا
موجودہ دنیا کو خدا نے اسی مقصد کے لیے selection ground کے طور پر بنایا ہے۔ موجودہ دنیا کے حالات اس طرح بنائے گئے ہیں کہ یہاں کا ہر جز انسان کے لیے ایک ٹسٹ پیپر کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں انسان ہر لمحہ trial پر ہے۔ خدا ہر انسان کے قول وعمل کا record تیار کر اسی record کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ وہ کون عورت اور مرد ہیں، جو جنت میں بسانے کے لیے اہل باشندہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔
انسان کو اس دنیا میں مکمل آزادی ملی ہوئی ہے۔ یہ آزادی انعام کے طور پر نہیں بلکہ test کے طور پر ہے۔ خدا یہ دیکھ رہا ہے کہ انسان اپنی آزادی کو کس طرح استعمال کرتا ہے۔ جو عورت اور مرد اپنی آزادی کو خدا کے نقشہ کے مطابق درست طور پر استعمال کریں، ان کو جنت میں بسانے کے لیے چُنا جائے گا اور جو لوگ آزادی کو misuse کریں وہ Day of Judgement میں قابلِ رد (rejected lot) قرار پائیں گے۔
انسان کی زندگی دو دوروں میں تقسیم ہے۔ قبل از موت دور (pre-death period) اور بعد از موت دور (post-death period)۔ قبل از موت دور امتحانی دور (trial period) ہے، اور بعد از موت دور انعام پانے کا دور (reward period)۔ یہی وہ سب سے بڑی حقیقت ہے، جس کو جاننے اور اختیار کرنے میں انسان کی کامیابی اور ناکامی کا راز چھپا ہوا ہے۔ جنت کے حصول کا مدار جس چیز پر ہے، وہ ہے اپنی خواہشوں پر کنٹرول کرنا اور اپنی عقل کو ترقی دینا۔ انسان کے اندر بہت سی خواہشیں ہیں۔ اسی خواہش کے راستے سے شیطان نے آدم کے اوپر حملہ کیا، اور وہ کامیاب ہر خواہش انسان کے اندر شیطان کے داخلے کا دروازہ ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنی خواہش کے ہر دروازے پر چوکی دار بنارہے، تاکہ شیطان اس کے اندر داخل ہو کر اُس کو خدا کی رحمت سے دور نہ کرسکے۔