اہل جنت کے درجات
Al-Risala, September 2019, pp. 43–46
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ الحدید میں جنت کا ذکر کرتے ہوئے یہ الفاظ آئے ہیں: سَابِقُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ (57:21)۔ یعنی لوگو، دوڑو اپنے رب کی معافی کی طرف اور ایسی جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان اور زمین کی وسعت کے برابر ہے۔ اہل جنت کی زبان سے یہ خبر دی گئی ہے: وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي صَدَقَنَا وَعْدَهُ وَأَوْرَثَنَا الْأَرْضَ نَتَبَوَّأُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ نَشَاءُ فَنِعْمَ أَجْرُ الْعَامِلِينَ (39:74)۔ یعنی اور وہ کہیں گے کہ شکر ہے اُس اللہ کا جس نے ہمارے ساتھ اپنا وعدہ سچ کر دکھایا اور ہم کو اس زمین کا وارث بنا دیا۔ ہم جنت میں جہاں چاہیں مقام کریں۔ پس کیا خوب بدلہ ہے عمل کرنے والوں کا۔
قرآن کے اس بیان سے اندازہ ہوتا ہے کہ جنت ایک ایسی دنیا ہوگی جو تمام جنتیوں کے لیے کھلی ہوئی ہوگی۔ کوئی جنتی انسان اس وسیع دنیا میں جہاں چاہے گا اپنا مبو آ (اقامت گاہ) بنا سکے گا۔ اقامت یا سکونت کے اعتبار سے ہر جنتی کو یکساں آزادی حاصل ہوگی۔
دوسری آیتوں اور حدیثوں سے یہ ثابت ہے کہ جنت میں فرق مراتب ہوگا۔ کچھ جنتی افراد دوسرے جنتیوں کے مقابلے میں زیادہ اونچی جنت کے مالک ہوں گے۔ مثلاً قرآن کے مطابق، اُن میں سے کچھ سابق ہوں گے، اور کچھ مقتصد (الفاطر، 35:32)۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ فرق مراتب کس اعتبار سے ہوگا۔ غور کرنے سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ یہ فرق استمتاع (enjoyment) کے اعتبار سے ہوگا۔ جنت اپنے ظواہر کے اعتبار سے غالباً ہر ایک کے لیے یکساں ہوگی، مگر جنت کی نعمتوں سے محظوظ ہونے کا جو معاملہ ہے، وہ ہر ایک کے لیے یکساں نہ ہوگا۔ کسی کو جنت کی نعمتوں سے زیادہ حظ ملے گا، اور کسی کو نسبتاً کم۔
محظوظیت کا یہ فرق معرفت یا شعور کے فرق کی بنیاد پر ہوگا۔ دنیا کی زندگی میں جو شخص شعور یا معرفت کے جس درجے پر پہنچا ہوگا، اُسی درجے کے برابر وہ جنت کی نعمتوں سے محظوظ ہو سکے گا۔
مکانی اعتبار سے جنت کے تمام افراد یکساں طور پر اقامت میں شریک ہوں گے، مگر جو شخص شعوری اعتبار سے ارتقا کے جس درجے پر ہوگا اُسی نسبت سے وہ جنت کی نعمتوں سے متمتع ہو سکے گا۔ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے ایک حدیث کا مطالعہ کیجیے۔ محدث البیہقی نے ایک روایت ان الفاظ میں نقل کی ہے : اَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ رَوَاحَةَ قَالَ لِصَاحِبِ لَهُ: تَعَالَ حَتَّى نُؤْمِنَ سَاعَةً . قَالَ: أَوَ لَسْنَا بِمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: بَلَى، وَلَكِنَّا نَذْكُرُ اللهَ فَنَزْدَادُ إِيمَانًا (شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر 49) ۔ یعنی عبداللہ ابن رواحہ صحابی نے اپنے ایک ساتھی سے کہا کہ آؤ، ہم ایک ساعت کے لیے ایمان لائیں۔ ساتھی نے کہا کہ کیا ہم مومن نہیں ہیں ؟ ابن رواحہ نے کہا کہ ہاں، مگر جب ہم اللہ کو یاد کرتے ہیں تو ہم اپنے ایمان میں اضافہ کرتے ہیں۔
اس روایت سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایک انسان وہ ہے جو کلمۂ توحید کا اقرار کرنے کے بعد یہ سمجھے کہ وہ صاحبِ ایمان ہوگیا، جو ایمان اُس کو ملنا تھا وہ اُسے مل گیا۔ ایمان یا عقیدہ کے اعتبار سے اب اُسے کچھ اور پانا نہیں ہے۔ اس کے مقابلے میں دوسرا انسان وہ ہے جو بار بار اللہ کو یاد کرے، وہ اللہ پر غور و فکر کرے۔ اور اس طرح وہ اپنی معرفت ایمانی کو بڑھاتا رہے۔ اُس کا ایمان مسلسل شعوری ترقی کرتا رہے۔
اس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ اصحابِ ایمان میں معرفت کے اعتبار سے درجات ہوتے کوئی اعلیٰ معرفت کے درجے پر ہوتا ہے اور کوئی اُس سے کم معرفت کے درجے پر۔ کا یہ فرق جنت میں استمتاع کے اعتبار سے فرق پیدا کر دے گا۔
ایک مومن وہ ہے جس نے قرآن میں اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ پڑھا، تو اُس نے کسی شک اور تردد کے بغیر اس حقیقت کو مان لیا۔ اْس نے یقین (conviction) کے درجے میں اُس کو قبول قرآن کا دوسرا قاری وہ ہے کہ جب اْس نے اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ پڑھا تو اس آیت میں تخلیق الہی کے ایسے گہرے معانی اْس کے ذہن میں تازہ ہوگئے کہ اُس کے اندر اہتزاز (thrill) کی کیفیت پیدا ہوگئی ۔ وہ حمدِ خداوندی کے جذبے سے سرشار ہوگیا۔
اسی طرح ایک مومن وہ ہے جس کے سامنے اللہ کا ذکر کیا جائے تو وہ اُس کو ایک سچائی مان کر اُس کو قبول کرلے۔ مثلاً چھینک آنے پر ایک شخص اگر کہے: اَلْحَمْدُ للّٰہِ، تو اُس کو سن کر اُس کی زبان پر یہ کلمہ آجائے کہ یر حمک اللہ۔ اس کے مقابلے میں دوسرا مومن وہ ہے جس کے سامنے اللہ کا ذکر کیا جائے تو اپنی بڑھی ہوئی معرفت کی بنا پر اُس کا یہ حال ہو کہ اللہ کی عظمت کے احساس سے اُس کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں۔ اللہ کی کبریائی کو سوچ کر اُس کا دل دہل اُٹھے، جیسا کہ قرآن میں ہے: اِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَاِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ اٰیٰتُهُ زَادَتْهُمْ اِيْمَانًا وَّعَلٰى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ (8:2)۔ یعنی ایمان والے تو وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل دہل جائیں اور جب اللہ کی آیتیں ان کے سامنے پڑھی جائیں تو وہ ان کا ایمان بڑھادیتی ہیں اور وہ اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں۔
اسی طرح ایک مومن وہ ہے جس نے قرآن میں یہ آیت پڑھی: وَالَّذِيْ هُوَ يُطْعِمُنِيْ یعنی اور جو مجھ کو کھلاتا ہے اور پلاتا ہے۔ اُس نے اس آیت کو اُس کے ظاہری مفہوم کے اعتبار سے لیا اور اُس کی زبان پر شکر کے الفاظ آگئے۔ دوسرا مومن وہ ہے جو اس آیت کو پڑھے تو اُس کے ذہن میں حقائق کا ایک دفتر کھل جائے۔ وہ سوچے کہ زمین و آسمان کے اندر بے شمار سرگرمیاں ظہور میں آئیں ۔ اُس کے بعد یہ ممکن ہوا کہ وہ چیز بن کر تیار ہو جس کو ہم کھانا اور پانی کہتے ہیں اور جو زندگی کی بقا کے لیے لازمی طور پر ضروری ہے۔ یہ سوچ کر اُس کے سینے میں کمالات خداوندی کے اعتراف کا ایک سمندر موجزن ہو جائے۔ حتیٰ کہ یہ احساس اُس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی شکل میں بہہ پڑے۔
یہ دونوں ہی مومن حمد خداوندی کے احساس کے حامل ہیں۔ مگر معرفت کے فرق کے اعتبار سے دونوں کے درمیان اتنا زیادہ فرق پیدا ہو گیا ہے کہ اُس کو لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ قرآن وحدیث سے ثابت ہے کہ جو لوگ سچے دل کے ساتھ ایمان لائیں، جن کی نیتیں جو بقدر استطاعت اللہ کے احکام کی پابندی کریں، وہ جنت میں جائیں گے۔
ایمان کا ابتدائی درجہ ہے۔ ایمان کا اعلیٰ درجہ وہ ہے جو معرفت کے سفر کے ساتھ ترقی کرتا رہتا جو ربانی سمندر میں فکری غوطہ لگانے سے حاصل ہوتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ دونوں قسم کے اصحاب ایمان کے لیے جنت ہے۔ مگر جنت کی نعمتوں سے محظوظ ہونے کے معاملہ میں ایک مومن اور دوسرے مومن کے درمیان وہی فرق ہو جائے گا، جو دنیا میں معرفت حق کے اعتبار سے دونوں کے درمیان پایا جاتا تھا۔