I wish I could see this sunset forever.
Al-Risala, September 2019, pp. 47–51
By Maulana Wahiduddin Khan
نیچر بے حد حسین ہے۔ اس کو دیکھنے سے کبھی آدمی کا جی نہیں بھرتا۔ آدمی چاہتا ہے کہ نیچر کو مستقل طور پر دیکھتا رہے۔ مگر زندگی کے تقاضے اس کو مجبور کرتے ہیں، اور اس سے سیر ہوئے بغیر وہ اس کو چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔
نیچر (nature) موجودہ دنیا میں جنت کی نمائندہ ہے۔ وہ آخرت کی جنت کی ایک جھلک ہے۔ جنت میں جو لطافت، جو حسن، جو بے پناہ کشش ہوگی، اس کا ایک دور کا مشاہدہ موجودہ دنیا میں نیچر کی صورت میں ہوتا ہے۔ نیچر ہم کو جنت کی یاد دلاتی ہے۔ وہ ہم کو بتاتی ہے کہ دنیا میں جنت والے عمل کرو تا کہ آخرت میں خدا کی جنت کو پاسکو۔ دنیا میں آدمی جنت کی جھلک سے بھی پوری طرح لطف اندوز نہیں ہو سکتا۔ آخرت کی کامل دنیا میں آدمی کے لیے ممکن ہوگا کہ وہ جنت سے آخری حد تک لطف اندوز ہو سکے۔ 6 مئی 1985 آخرت میں خدا کی جنت کے دروازے ان لوگوں کے لیے کھولے جائیں گے، جو دنیا میں اپنے دل کے دروازے خدا کی نصیحت کے لیے کھولیں۔
جنت اور جہنم کا فیصلہ دراصل دل کی دنیا میں ہوتا ہے۔ خدا اپنے کسی بندے کے ذریعہ آدمی کے دل کے دروازہ پر دستک دیتا ہے۔ وہ کسی بندۂ خاص کے ذریعے اس کے پاس اپنا پیغام بھیجتا یہ لمحہ کسی انسان کی زندگی میں نازک ترین لمحہ ہوتا ہے۔ اگر وہ اس وقت اپنے دل کے دروازے کھول دے تو گویا کہ اس نے اپنی جنت کا دروازہ کھول لیا۔ اگر وہ اس وقت اپنے دل کے دروازے
بند رکھے تو گویا اس نے اپنے اوپر جنت کے دروازے کو بند کر لیا۔ اس دنیا میں حق کو قبول کرنا یا حق کا انکار کرنا ہی وہ خاص لمحہ ہے جب کہ آدمی کے لیے ابدی جنت یا ابدی جہنم کا فیصلہ ہوتا ہے۔ غالباً 1970 میں مجھے تاج محل دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ تاج محل کو دیکھنے سے پہلے تاج محل کے بارے میں بہت سے مضامین پڑھے تھے۔ ان مضامین میں تاج محل مجھے بہت عظیم محسوس ہوتا تھا۔ مگر جب میں نے تاج محل کو دیکھا تو وہ اس سے بہت کم تھا جو میں اپنے ذہن میں سمجھ رکھا تھا۔ یہی حال تمام انسانی مصنوعات کا ہے۔ انسانی ساخت کی کسی چیز کے بارے میں اسے دیکھنے سے پہلے جو میری رائے تھی وہ اس کو دیکھنے کے بعد باقی نہ رہی۔ ہر انسانی چیز دیکھتے ہی اس سے کم نظر آئی جو دیکھنے سے پہلے محسوس ہوتی تھی۔ مگر فطرت کے مناظر کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ واقعہ اس سے بہت زیادہ عظیم ہے جو دیکھنے سے پہلے سن کر یا پڑھ کر میں سمجھ رہا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فطرت کا ہر واقعہ انتہا حد تک عظیم اور حسین ہے، انسانی الفاظ اس کو پوری طرح بیان نہیں کر پاتے۔ یہاں ہر بولا ہوا لفظ اصل حقیقت سے بہت کم ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فطرت دیکھنے میں اس سے زیادہ نظر آتی ہے جتنا کہ وہ پڑھنے یا سننے میں محسوس ہو رہی تھی۔ 19 ستمبر 1985 موجودہ زمانے کے ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ انسان کے دماغ (brain) میں جو پارٹیکل ہیں وہ پوری کائنات کے مجموعی پارٹیکل سے بھی زیادہ ہیں۔ انسانی دماغ کی استعداد بے پناہ ہے مگر کوئی بڑے سے بڑا انسان بھی اب تک اپنے دماغ کو دس فی صد سے زیادہ استعمال نہ کر سکا۔ حقیقت یہ ہے کہ آدمی ایک امکان ہے۔ مگر موجودہ دنیا اپنی محدودیتوں کے ساتھ اس امکان کے ظہور کے لیے ناکافی ہے۔ انسانی امکان کے ظہور میں آنے کے لیے ایک لامحدود اور وسیع تر دنیا درکار ہے۔ جنت کی دنیا، ایک اعتبار سے، اسی لیے بنائی گئی ہے کہ وہاں آدمی کے امکانات پوری طرح ظہور میں آسکیں۔ جنت کے بارے میں قرآن میں ”عندك“ (تمھارے پاس) اور ”عند ربهم“ (ان کے
رب کے پاس) کے الفاظ آئے ہیں۔ اس سے میں یہ سمجھا ہوں کہ جنت مجلس خداوندی میں جگہ پانے کا دوسرا نام ہے۔ خدا کی صفت خاص یہ ہے کہ وہ پرفیکٹ (perfect) ہے۔ خدا کے قریب جو دنیا ہوگی وہاں ہر چیز پرفیکٹ ہوگی۔ وہاں پرفیکٹ باتیں ہوں گی۔ پرفیکٹ سلوک ہوگا۔ یہ ایک پرفیکٹ ماحول ہوگا، اور پرفیکٹ ماحول میں جینے ہی کا نام جنت ہے۔ یہ پرفیکٹ دنیا اتنی زیادہ قیمتی ہے کہ انسان کا کوئی بھی عمل، خواہ وہ کتنی ہی مقدار میں ہو، اس کی قیمت نہیں بن سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی شخص کو اپنے عمل کی قیمت پر جنت میں جگہ نہیں مل سکتی۔ تاہم ایک چیز ہے جو جنت کی قیمت ہے۔ اور وہ ہے پرفیکٹ تھنکنگ۔ آدمی عمل کی سطح پر پرفیکٹ نہیں بن سکتا۔ مگر سوچ (تھنکنگ) کی سطح پر وہ پرفیکٹ بن سکتا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو موجودہ دنیا میں آدمی کو حاصل کرنا ہے، اور یہی وہ چیز ہے جو کسی آدمی کو جنت میں داخلے کا مستحق بنائے گی۔ 19 اکتوبر 1985 جنت صبر کے اُس پار ہے، مگر اکثر لوگ جنت کو صبر کے اس پار تلاش کرنے لگتے ہیں۔ 6 نومبر 1985 قرآن میں اہل جنت کے بارہ میں آیا ہے کہ وہ با اقتدار بادشاہ کے پاس سچی نشستوں پر بیٹھے ہوئے ہوں گے (فی مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِيكٍ مُقْتَدِرٍ ) 54:55۔
موجودہ دنیا میں آدمی جھوٹی نشستوں پر بیٹھا ہوا ہے۔ آخرت میں آدمی سچی نشستوں پر بٹھایا ہر آدمی فریب اور استحصال کے ذریعہ اونچی جگہ پائے ہوئے ہے۔ یہاں ہم کو ایسے لوگوں کے درمیان زندگی گزارنا پڑتا ہے، جو اپنے آپ کو اس کا پابند نہیں سمجھتے کہ وہ اپنے اختیار کو صرف عدل کے دائرے میں استعمال کریں۔
آخرت کا معاملہ اس سے مختلف ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کو ہر قسم کا کامل اختیار حاصل ہے۔ نے اپنے آپ کو اس کا پابند بنا رکھا ہے کہ وہ عدل اور رحمت کے دائرہ ہی میں اپنے اعلیٰ اختیارات کو استعمال کرے ( کَتَبَ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ [6:12]) اسی کے ساتھ وہ ایک ایسی ہستی ہے، جو
اعلیٰ ترین معیاری ذوق رکھتا ہے ۔ وہ پرفیکٹ سے کم پر کبھی راضی نہیں ہوتا۔ ایسے شہنشاہ کے پڑوس میں جگہ پانا کس قدر پر مسرت اور لذیذ ہوگا اس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ قرآن میں اہل جنت کی صفات میں سے ایک صفت یہ بیان ہوئی ہے کہ وہ اس دن کی مصیبت سے ڈرتے ہیں جو ہر طرف پھیل پڑے گی ۔ وہ اللہ کی محبت میں محتاج کو اور یتیم کو اور قیدی کو کھلاتے (اور یہ کہتے ہیں کہ ہم جو تم کو کھلاتے ہیں تو صرف اللہ کی خوشی چاہنے کے لیے کھلاتے ہیں ۔ سے نہ بدلا چاہتے ہیں، اور نہ شکر گزاری ۔ ہم اپنے رب سے ایک ایسے دن کے بارے میں ڈرتے ہیں جو بڑی اداسی والا اور سختی والا ہوگا (10-7: 76) ۔ ان آیات کو پڑھ کر ایک صاحب نے کہا کہ ایسے موقع پر یہ الفاظ عربی میں کہنا چاہیے یا اس کو اپنی زبان میں بھی کہا جا سکتا ہے۔ میں نے کہا کہ آپ اس آیت کا مطلب نہیں سمجھے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جب کسی حاجت مند کی مدد کی جائے تو اس وقت زبان سے یہ الفاظ دہرائے جاتے رہیں ۔ اس سے مراد الفاظ نہیں بلکہ یعنی جب کسی کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے تو آدمی کے دل میں یہ احساس طاری ہونا اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ان الفاظ کو یاد کر لے اور ہر ایسے موقع پر ان الفاظ کو دہرادیا کرے۔ زبان سے کچھ الفاظ بھی نکل پڑتے ہیں مگر اصلًا یہاں جس چیز کا ذکر ہے وہ احساسات ہی ہیں۔ 19 دسمبر 1985 قرآن میں آیا ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے اوپر رحمت کو لکھ رکھا ہے (كَتَبَ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ [6:12] ) ۔ موجودہ دنیا میں انسان کے پاس اقتدار ہے۔ مگر اس نے اپنے آپ کو رحمت اور عدل کا پابند نہیں کیا ہے، اس لیے موجودہ دنیا فساد اور خرابیوں سے بھر گئی ہے۔ مگر آخرت میں سارا اقتدار صرف ایک اللہ کے پاس ہوگا، اور اللہ نے ہر قسم کا مطلق اختیار رکھنے کے باوجود اپنے آپ کو رحمت اور عدل کا پابند کر رکھا ہے۔ اس لیے آخرت کی دنیا سراپا خیر ہوگی۔ وہاں صرف وہی ہوگا جو از روئے حق ہونا چاہیے، اور وہ نہ ہو سکے گا جو از روئے حق نہیں ہونا چاہیے آخرت کی یہ خصوصیت آخرت کو ایک معیاری دنیا بنا دے گی ۔ اسی معیاری دنیا کا دوسرا نام جنت ہے۔
September 2019 • Rs. 30 خصوصی شمارہ : جنت کی دنیا جنت کو پانے کی کم سے کم شرط یہ ہے کہ آدمی دل کی گہرائیوں سے جنت کا حریص بن گیا ہو۔ عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر مولانا وحید الدین خاں کے قلم سے مولانا وحید الدین خاں مولانا وحید الدین خاں مولانا وحید الدین خاں قرآنی آیات کی کائنات میں فکری روشنی میں مولانا وحید الدین خاں مولانا وحید الدین خاں مولانا وحید الدین خاں مولانا وحید الدین خاں مولانا وحید الدین خاں سیرت و رویہ کا عملی اور انقلابی مطالعہ مولانا وحید الدین خاں اسلام ایک ابدی حقیقت ہے، لیکن ہر دور میں ضرورت ہوتی ہے کہ اسلامی تعلیمات کو جدید اسلوب میں بیان کیا جائے، تاکہ بدلے ہوئے حالات میں لوگ اسلام کی اہمیت کو دوبارہ دریافت کرسکیں۔ اس مقصد کے لئے مختلف موضوعات پر تیار کردہ ان کتابوں کا مطالعہ کریں، نیز قرآن کے ترجمے اور دعوتی لٹریچر برادرانِ وطن تک پہنچا کر اپنا دعوتی رول ادا کریں۔ مولانا وحید الدین خاں سنہ تقسیم رسول مولانا وحید الدین خاں مولانا وحید الدین خاں Buy online at www.goodwordbooks.com