Al-Risala · October 2019

ایک پروفیسر کا واقعہ

Al-Risala, October 2019, pp. 7–9

By Maulana Wahiduddin Khan

دہلی کی ایک یونیورسٹی کے پروفیسر کا قصہ مجھے معلوم ہوا۔ وہ بہت سادہ زندگی گزارتے تھے۔ ان کے پاس سواری کے لیے ایک بائیسکل کے سوا کچھ اور نہ تھا۔ ان کے بچے جب بڑے ہوئے تو انھوں نے اپنے باپ سے کہا کہ اتنے دنوں سے آپ سروس کر رہے ہیں اور آپ کے پاس سواری کے لیے ایک بائیسکل کے سوا کچھ اور نہیں۔ حالاں کہ یہاں دوسرے لوگوں کے پاس کار ہے، جس پر وہ اور ان کی فیملی کے لوگ سواری کرتے ہیں۔ انھوں نے جواب دیا کہ میری عمر تو بائیسکل پر گزر گئی، اب اگر تم لوگ کار چاہتے ہو، تو خود کما کر کار خرید لو۔ میں تو اپنے لائف اسٹائل کو بدلنے والا نہیں ہوں۔ اس واقعے میں یہ سبق ہے کہ باپ کو اپنے بیٹے کے حق میں کیسا ہونا چاہیے۔ باپ کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ سادہ زندگی گزارے، وہ قناعت کے اصول پر قائم رہے، اور بیٹوں کو یہ موقع دے کہ وہ خود محنت کر کے اپنی آمدنی بڑھائیں۔ وہ اپنی کمائی سے کار خریدیں، اور گھر بنائیں۔ باپ کو ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ وہ بیٹے کے لیے کمائی کرے۔ بیٹے کی ترقی خود اپنی محنت کی کمائی سے ہوگی، نہ کہ باپ کی کمائی سے۔

جو باپ اپنے بیٹے کے ساتھ ایسا سلوک کرے، اس کے بیٹے کے اندر اپنے آپ اعلیٰ اخلاقی اوصاف پیدا ہوگا۔ اس کے اندر محنت کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس کے اندر خود اعتمادی کی صفت وہ سادہ زندگی کی اہمیت کو سمجھے گا۔ وہ سماج کو دینے والے (giver) ممبر بنے گا، نہ کہ لینے والا (taker)۔ اس کے اندر شکایت کی نفسیات نہیں پیدا ہوگی، بلکہ وہ مثبت نفسیات کا حامل انسان بن کر تیار ہوگا۔ اس کے اندر سادگی کی نفسیات پرورش پائے گی، جو کہ اعلیٰ اخلاقیات کی ایسا انسان حقیقت پسند انسان بنے گا۔ ایسا انسان اپنے سماج کا پرابلم ممبر نہیں بنے گا، بلکہ وہ اپنے سماج کا مفید ممبر بنے گا۔ اچھا انسان اچھی تربیت سے بنتا ہے، نہ کہ لاڈ پیار (pampering) کی کثرت سے۔

ایک دعوتی گفتگو عرب امارات کے سفر (مئی 2004) میں جناب عاطف سید انور علی کاظم (38 سال) سے 9 مئی کی صبح کو ملاقات ہوئی۔ انہوں نے اپنی زندگی کے کچھ انوکھے واقعات بتائے۔ اپنا ایک تجربہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرا ملنا جلنا دبئی کے ایک عیسائی سے تھا۔ وہ کسی قدر اسلام کی طرف پھرانھوں نے کہا کہ میں ایک عالم سے ملا اور ان سے کہا کہ آپ میرے ساتھ چل کر اس عیسائی سے ملیں، اور اس کی تالیف قلب کے طور پر آپ کی طرف سے اسے ایک تحفہ پیش کیا جائے۔ اس عالم نے کہا: اِنَّ الْعِلْمَ يُؤْتَى وَلَا يَأْتِي (المدخل إلى السنن الكبرى للبیہقی، اثر نمبر 686)۔ کے پاس جایا جاتا ہے، علم خود نہیں آتا۔

یہ قول دراصل امام مالک کا ہے۔ ایک مرتبہ عباسی خلیفہ ہارون رشید نے چاہا تھا کہ امام مالک انھیں اپنی کتاب موطأ سنانے کے لیے اس کے محل میں آئیں ۔ مگر امام مالک نے کہا کہ آپ کو میرے پاس آنا چاہیے۔ کیوں کہ طالب کو چاہیے کہ وہ خود چل کر علم کے پاس جائے، نہ کہ علم اس کے پاس آئے۔ عاطف صاحب نے مذکورہ جملے کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ یہ اصول مسلمانوں کے لیے ہے۔ یہ اصول غیر مسلموں کے لیے نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ غیر مسلم تک علم پہنچانا دراصل دعوت کا عمل ہے، اور دعوت ہمارا اپنا فریضہ ہے۔ جب ہم اسلام کا علم کسی غیر مسلم تک پہنچاتے ہیں، تو ہم خود اپنا فریضہ انجام دیتے ہیں، اور فریضہ ادا کرنا خود اس کا کام ہے، جس پر وہ چیز فرض ہو رہی ہو۔ یہ ایسا ہی ہے، جیسے مجھے نماز کا فرض ادا کرنا ہے، تو مجھے خود مسجد جانا پڑے گا۔ میرے پاس اٹھ کر نہیں چلی آئے گی۔

عاطف صاحب نے اس کے بعد تبلیغی جماعت کے بعض افراد سے رابطہ قائم کیا اور مذکورہ مسیحی کے بارے میں انہیں بتایا۔ وہ لوگ فوراً وہاں جانے کے لیے تیار ہوگئے، کیوں کہ ان کے اندر

پہلے ہی سے یہ مزاج تھا کہ دین کو چل کر پہنچانا چاہیے۔ چنانچہ تبلیغی جماعت کے 3 آدمی وہاں گئے۔ انھوں نے کچھ تحفہ (عطر، دعا کی کتاب اور کیسٹ) اس عیسائی کو پیش کیا، اور اس سے نرمی اور محبت کے ساتھ بات کی اور اس کو دین کا ابتدائی پیغام پہنچایا۔

عاطف صاحب نے مزید بتایا کہ تبلیغی لوگوں کا طریقہ یہ ہے کہ وہ ایسے موقع پر کم از کم تین آدمی کی جماعت بناتے ہیں۔ ان میں سے ایک امیر ہوتا ہے، اور دوسرا متکلم، اور تیسرا ذاکر۔ امیر گویا اس جماعت کا قائد ہوتا ہے۔ متکلم کا کام یہ ہے کہ وہ ضرورت کے وقت بات چیت کرے۔ ذاکر کا کام یہ ہے کہ وہ دل ہی دل میں اللہ کو یاد کرتا رہے اور دعا کرتا رہے کہ یہ مشن کامیاب ہو۔ یہ سن کر میں نے کہا کہ یہ طریقہ نہایت فطری ہے۔ وہ اسلام کی اسپرٹ کے عین مطابق ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی ہر مجلس میں یہی طریقہ اختیار کیا جانا چاہیے۔ اس طریقہ کو مسلم کلچر کا ایک جز بن جانا چاہیے۔ عاطف صاحب نے ایک اور بات بتائی۔ انھوں نے کہا کہ حق کے داعی کے اندر تین صفت ہونی چاہیے۔ یہ تین صفتیں انھوں نے قرآن کی ایک آیت سے اخذ کی ہیں۔ وہ آیت یہ ہے : وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِمَّنْ دَعَا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صَالِحاً وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ (41:33)۔ اور اس سے بہتر کس کی بات ہوگی، جس نے اللہ کی طرف بلایا، اور نیک عمل کیا، اور کہا کہ میں فرماں برداروں میں سے ہوں۔ انھوں نے کہا کہ داعی کے اندر پہلی مطلوب صفت یہ ہے کہ دعوتی کام پر مکمل یقین ہو، اور دوسرا یہ کہ جو چیز داعی دوسروں کو بتا رہا ہے وہ خود بھی اس پر عمل کرنے والا ہو، تیسرا یہ کہ آدمی کے اندر تواضع (humbleness) کی صفت پائی جائے ۔ ایک سچے داعی کے اندر یہ تین صفتیں ہونی چاہئیں۔ میں نے کہا کہ آپ کا یہ خیال بالکل درست ہے۔ یہی مزاج پوری امت میں ہونا چاہیے۔

Printed page