دعوت کا ایک طریقہ
Al-Risala, October 2019, pp. 9–10
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک غیر مسلم سے ملاقات ہوئی۔ ان سے میں نے روحانیت کے انداز میں کچھ باتیں کہیں۔ میری باتوں کو سن کر متاثر نظر آئے۔ انھوں نے کہا کہ میں سچائی کا متلاشی (seeker) ہوں۔
کہا کہ آپ کو میں ایک دعا بتاتا ہوں۔ آپ اس کو پابندی کے ساتھ روزانہ پڑھیں۔ پھر میں نے یہ قرآنی دعا ایک کاغذ پر لکھی اور اس کو انہیں دیا۔ میں نے کہا کہ آپ اس دعا کو روزانہ پڑھیں۔ وہ دعا یہ تھی: رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ (28:24) ۔ یعنی خدایا، جو خیر تو نے میری طرف اُتارا، میں اس کا محتاج ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں اس دعا کو روزانہ پڑھوں گا۔ (عرب امارات کا سفر) عرب امارات کے سفر میں ایک مسئلے کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ جب بھی کوئی اصلاح کا کام کیا جائے، خاص طور پر جب کہ وہ گہری بنیادوں پر کیا جا رہا ہو تو میڈیا میں اس کا چرچا یقینی ہے۔ میڈیا کے مزاج کے مطابق، یہ چرچا تقریباً ہمیشہ منفی انداز سے ہوتا ہے۔ دعوت کے میدان میں کام کرنے والے مردوں اور عورتوں کو چاہیے کہ وہ میڈیا کی اس منفی رپورٹنگ کی پروا نہ کریں۔ منفی رپورٹنگ کے اندیشہ کی بنا پر وہ ایسا نہ کریں کہ میڈیا سے اعراض کرنے لگیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں ہر مائنس پوائنٹ کا ایک پلس پوائنٹ ہوتا ہے۔ یہی حال میڈیا کا بھی میڈیا کی ناقص رپورٹنگ پھر بھی ایک مفید کام کرتی ہے، اور وہ آپ کے کام کی پبلسٹی ہے۔ پبلسٹی کے بغیر کوئی بھی کام آگے نہیں بڑھ سکتا۔ پبلسٹی لوگوں کے اندر تجسس پیدا کرتی ہے، اور تجسس پیغام کی اشاعت کا ذریعہ بنتا ہے۔