عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر
Al-Risala, October 2019, pp. 10–12
By Maulana Wahiduddin Khan
"عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر“ کا مطلب ہے عصری ذہن کے لیے اسلام کو قابلِ فہم مثلاً بنگلور کے روزنامہ سالار کے شمارہ 26 جولائی 2005 میں پہلے صفحہ پر ایک خبر شائع ہوئی تھی، جس میں بتایا گیا تھا کہ مسلم علماء کے ایک وفد کو خطاب کرتے ہوئے یہاں کے پولیس کمشنر آ جے کمار نے کہا کہ: آپ کو چاہیے کہ جمعہ کے خطبے میں نئی نسل خصوصاً نوجوان طبقے کو آپ ایسا پیغام دیں کہ ان نوجوانوں میں خود اعتمادی، وطن پرستی اور ایک اچھا شہری بننے کا جذبہ پیدا ہو جائے، وہ اپنی زندگی صرف تعمیری کاموں ہی میں صرف کریں، اور کسی طرح کے منفی جذبات ان
کے اندر پیدا نہ ہوں‘۔
اس خبر کو لے کر بنگلور کے سفر میں محمد ضیاء صاحب نے کہا کہ میں جمعہ کی نماز باقاعدہ طور پر مسجد میں ادا کرتا ہوں، اور ہر ہفتے جمعہ کے خطبات سنتا ہوں، اسی کے ساتھ میں مسلم علماء کی تقریروں میں بھی شرکت کرتا ہوں، میں نے پایا کہ کمشنر صاحب نے مسلم علماء سے جو کام کرنے کے لیے کہا ہے، وہ کام بالفعل ہو رہا ہے۔ مسلم علماء برابر مسلم نوجوانوں کے سامنے قرآن و حدیث کے حوالے سے بہت سی باتیں بتاتے رہتے ہیں، مگر نوجوانوں پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ ایسی حالت میں اصل سوال یہ ہے کہ مزید کیا کیا جائے۔ کیوں کہ جہاں تک کمشنر صاحب کے مشورے کا تعلق ہے وہ تو علماء پہلے ہی سے انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے پوچھا کہ علماء کی تقریریں بے اثر کیوں ہو رہی ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ علماء جو باتیں کرتے ہیں، وہ روایتی زبان میں ہوتی ہیں۔ روایتی زبان اپنا اثر کھو چکی ہے۔ اب ضرورت ہے کہ زمانہ حاضر کی زبان میں لوگوں کو اسلام کا مثبت پیغام پہنچایا میں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ علماء عرصے سے یہ کہتے رہے ہیں کہ اسلام کے خاندانی نظام میں مرد کو قوام (حاکم) کا درجہ دیا گیا ہے۔ مگر جدید تعلیم یافتہ خواتین اس پر منفی رد عمل کا اظہار کرتی رہی ہیں۔ نئے دور کی خواتین کا ذہن صنفی مساوات (gender equality) کے نظریے پر بنا اس لیے ان خواتین کی سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ مرد کو خاندانی نظام میں قوام کا درجہ دیا جائے۔ اس سلسلے میں میں نے اپنا تجربہ بتایا۔ میں نے کہا کہ جدید تعلیم یافتہ خواتین، مسلم اور غیر مسلم دونوں، کے درمیان مجھے بار بار خطاب کرنے کا موقعہ ملا۔ خواتین اکثر قوامیت کے نظریہ پر اعتراض میں نے لفظ بدل کر قوّام کی جگہ باس (boss) کا لفظ استعمال کیا۔ میں نے کہا کہ ہر ادارہ اور ہر دفتر کو منظم طور پر چلانے کے لیے ایک باس ہوتا ہے۔ کارکن خواتین اپنے دفتروں میں اس باس کو پوری طرح تسلیم کرتی ہیں۔ اسی طرح مرد گھر کا باس ہے۔ پھر اس لیے اعتراض کیوں: Bossism is a universal principle, and home is not an exception. میں نے اپنے تجربے میں پایا کہ جدید تعلیم یافتہ خواتین کو جب میں باس کی اصطلاح میں اس بات
کو بتاتا ہوں تو وہ فوراً اس کو مان لیتی ہیں۔ ہمارے علماء کو چاہیے کہ وہ جدید علوم سیکھیں، اور وقت کے اسلوب میں اسلام کی تعلیمات پیش کریں۔ اس کے بغیر مسلم نوجوانوں میں کوئی حقیقی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔ خدائی ہدایت کی ضرورت ایک صاحب نے کہا کہ ہم کو خدا کی ہدایت کی کیا ضرورت۔ ہمارا ضمیر ہم کو بتا تار ہتا ہے۔ اگر ہم اپنے ضمیر کی آواز پر چلیں تو وہی نجات کے لیے کافی ہے۔ میں نے کہا کہ ضمیر کوئی قابل اعتماد اس لیے کہ دنیا کی زندگی میں بار بار آدمی کے اوپر ذاتی انٹرسٹ غالب آ جاتا ہے۔ مادی مصلحتوں کی بنا پر آدمی اپنے ضمیر کے خلاف چلنے لگتا ہے۔ آدمی کی یہ روش اس کے ضمیر کو دھیرے دھیرے بے حس بنا دیتی ہے۔ اس کی حساسیت یا ختم ہو جاتی ہے یا کمزور پڑ جاتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ آدمی کے پاس ضمیر کے علاوہ کوئی اٹل رہنمائی موجود ہو۔ یہ رہنمائی خدا کے سوا کوئی اور نہیں دے سکتا۔ (بنگلور کا سفر)