روحانیت اور مذہب
Al-Risala, October 2019, pp. 12–13
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک تعلیم یافتہ ہندو سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ روحانیت دراصل مذہب کا اعلیٰ اب دنیا میں مذہب کا دور ختم ہو رہا ہے۔ اب ساری دنیا میں روحانیت کا دور آ رہا ہے۔ میں نے کہا اصل بات یہ ہے کہ آپ کی یہ بات رواجی مذہب کے لیے درست ہے۔ عام رواج میں جس چیز کو مذہب کہا جاتا ہے وہ دراصل مذہب کا ظاہری فارم ہے۔ جہاں تک مذہب کی اصل اسپرٹ کا تعلق ہے، وہ وہی ہے جس کوروحانیت کہا جاتا ہے۔
روحانیت مذہب کا اعلیٰ درجہ نہیں۔ روحانیت مذہب کی اصل اسپرٹ ہے۔ کو مادی سطح سے اٹھا کر اعلیٰ فکری سطح پر پہنچا دیتا ہے۔ اسی کا نام روحانیت ہے۔ حیوانات جسمانی سطح پر جیتے ہیں۔ انسان کا امتیاز یہ ہے کہ وہ روح کی سطح پر جینے لگے۔ (بنگلور کا سفر) کامیابی کا راز ایک صاحب نے سوال کیا کہ زندگی کی کامیابی کا راز کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم
اخلاقی قدروں اور انسانی اصولوں کے مطابق زندگی گزاریں تو ہم کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ کہا کہ انسان کی زندگی کے دومر حلے ہیں۔ ایک ہے موت سے پہلے کی عارضی زندگی اور دوسرا ہے موت کے بعد کی ابدی زندگی۔ آپ جو طریقے بتا رہے ہیں، ہو سکتا ہے کہ وہ انسان کو عارضی زندگی میں بظاہر کامیاب کردے۔ مگر موت کے بعد کی ابدی زندگی میں اس قسم کی کامیابی کسی کے لیے مددگار بننے موت کے بعد کی زندگی کو کامیاب بنانے کے لیے یہ جاننا ہوگا کہ اس کے لیے خالق کا کریشن پلان کیا ہے۔ (بنگلور کا سفر)