Al-Risala · October 2019

تمام مذاہب سچے ہیں

Al-Risala, October 2019, pp. 13–14

By Maulana Wahiduddin Khan

کچھ ہندو حضرات سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ماننا یہ ہے کہ تمام مذہب سچے آدمی جس مذہب کی بھی پیروی کرے وہ نجات پا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ راستے جدا ہو سکتے ہیں مگر منزل ایک ہے۔

میں نے کہا کہ ایک تصرف کے ساتھ آپ کی بات درست ہے۔ وہ یہ کہ تمام مذاہب سچے تھے، مگر بعد کو ہر مذہب کے اندر تبدیلیاں ہو گئیں۔ اب صرف قرآن غیر محرف حالت میں ہے۔ تمام مذہبی کتابیں تحریف کی بنا پر غیر مستند ہو چکی ہیں۔ اس لیے اصولی طور پر ہر مذہب کی ابتدائی صداقت کو مانتے ہوئے میں کہوں گا کہ اب قابل تقلید کتاب صرف قرآن ہے۔ اب نجات کا دارو مدار صرف قرآن کے اتباع پر ہے۔ یہ اس لیے نہیں کہ قرآن افضل کتاب ہے بلکہ اس لیے کہ قرآن دوسری مذہبی کتابوں کے مقابلے میں محفوظ اور مستند حالت میں موجود ہے۔ (بنگلور کا سفر) قومی ذہن، دعوتی ذہن موجودہ زمانہ میں دعوتی نقطہ نظر سے سب سے بڑا حادثہ یہ پیش آیا ہے کہ قومی شکایتوں کو لے کر مسلمان تمام دنیا کو اپنا دشمن سمجھنے لگے۔ ہندو، یہودی، عیسائی، امریکن، یوروپین، سب کے سب مسلمانوں کو اپنے دشمن نظر آتے ہیں۔ اُن کو دکھائی دیتا ہے کہ یہ سب لوگ مسلمانوں کے خلاف سازش میں مشغول ہیں۔ اس منفی سوچ کا نتیجہ یہ ہوا کہ انسانیت عامہ ‘‘مسلمانوں کا کَنْسَرن نہ رہی۔

اسلام کی حقیقی تعلیمات ایک مومن کو انسان فرینڈلی بناتی ہیں۔ جس آدمی کا ذہن قرآن سے بنا ہو وہ دوسری قوموں کو رحمت و شفقت کی نظر سے دیکھے گا۔ وہ یک طرفہ طور پر اُن کا خیر خواہ بنا رہے اسی کا نام مثبت ذہن ہے۔ یہ مثبت ذہن جب مسلمانوں میں ہو تو اس کے نتیجے میں اُن کے اندر حوصلہ اور آفاقیت پیدا ہوگی۔ وہ ہر شعبے میں کامیاب رہیں گے۔ اسی کے ساتھ اُن کا یہ مثبت ذہن دعوت کے عمل کو تیز تر کرنے میں معاون بنے گا۔ (ممبئی کا سفر، نومبر 2004) ایک صاحب کے سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ آرٹ آف تھنکنگ کا سب سے بڑا راز یہ ہے کہ آپ ایک چیز اور دوسری چیز کے فرق کو جانیں۔ مثال کے طور پر آپ لوگ اکثر ڈیبیٹ (debate) کو دعوت کہتے ہیں۔ حالاں کہ ڈیبیٹ اور دعوت میں بنیادی فرق ہے۔ ڈیبیٹ اپنے مقابل میں دوسرے کو زیر کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ ڈیبیٹ در اصل ایک قسم کی تقریری پہلوانی ہے۔ کے مقابلہ میں دعوت ایک دردمندانہ عمل ہے۔ دعوت کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ فریق ثانی کو دل سوزی کے انداز میں سچائی کا پیغام پہنچایا جائے تا کہ وہ اُسے اپنے دل کی بات سمجھے اور اُس کو قبول کرلے۔ ڈیبیٹ (مناظرہ) اور دعوت دونوں کے نتائج ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ سے ڈیبیٹر کے اندر فخر کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور دوسری طرف فریق ثانی کے اندر وہ نفرت کا جنگل اگاتا ڈیبیٹ اپنے نتیجے کے اعتبار سے دعوت کا قاتل ہے۔ دعوت کا معاملہ اس سے بالکل مختلف دعوت در اصل محبت و شفقت کا اظہار ہے۔ وہ داعی کے اندر احساسِ ذمے داری کو جگاتی ہے اور دوسری طرف مدعو کے اندر یہ احساس پیدا کرتی ہے کہ وہ اپنے اندر نظر ثانی کرے اور سچائی کا متلاشی بن جائے، یہاں تک کہ سچائی کو اپنا کر وہ خدا کے ان بندوں میں شامل ہو جائے جن سے خدا قیامت میں راضی ہوگا۔ (ممبئی کا سفر، نومبر (2004)

Printed page