ختم نبوت کا مطلب
Al-Risala, October 2019, pp. 16–19
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک موقع پر میں نے ایک حدیث کی وضاحت کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: میرے اوپر نبوت ختم ہوگئی، میرے بعد کوئی اور نبی آنے والا نہیں ( مسند احمد، حدیث نمبر اس کا مطلب سادہ طور پر صرف یہ نہیں ہے کہ گنتی کے اعتبار سے پیغمبروں کی فہرست مکمل ہوگئی، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر اسلام کے بعد اب کسی اور پیغمبر کے آنے کی ضرورت باقی وہ اسباب ختم ہوگئے، جس کی وجہ سے بار بار پیغمبر بھیجے جاتے تھے۔ میں نے کہا کہ پیغمبر کا مقصد ہدایت الہی کو انسانوں تک پہنچانا ہے۔ اس کے لیے پیغمبر کا شخصاً موجود ہونا ضروری نہیں۔ اگر ایک ایسا گروہ موجود ہو، جو پیغمبر کے نمائندے کی حیثیت سے امر حق لوگوں تک پہنچاتا رہے تو ایسی حالت میں پیغمبر مبعوث نہیں کیا جائے گا۔ پیغمبر اسلام کے بعد تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ خدا کا کلام (قرآن) اپنی اصلی حالت میں مکمل طور پر محفوظ ہو گیا۔ اس بات کی ضمانت بن گئی کہ ہر نسل میں اور ہر زمانہ میں ایسے افراد موجود رہیں، جو ہدایت الہی کی صحیح معرفت حاصل کر کے اُسے دوسروں تک پہنچائیں۔ پیغمبر آخر الزماں سے پہلے اس قسم کی ضمانت موجود نہ تھی اس لیے بار بار پیغمبر بھیجے جاتے رہے۔ (ممبئی کا سفر، نومبر 2004) سفر میں دعوت ایک مجلس میں میں نے بتایا کہ موجودہ زمانہ میں سفر دعوت کا بہترین ذریعہ ہے۔ میں میں نے مولانا محمد ذکوان ندوی کا ایک تجربہ بتایا۔ یہ تجربہ ان کے بیان کے مطابق یہ ہے : ”جون 2005 کو میں نے دہلی اور لکھنؤ کے درمیان ایک سفر کیا۔ یہ سفر گومتی ایکسپریس کے ذریعہ ہوا۔ جب میں اپنی ڈائری لکھ رہا تھا، تو میرے ہم سفر مسٹر ہریش نے سوال کیا: آپ کیا لکھ میں نے کہا: ڈائری۔ اس طرح بات چیت شروع ہوئی۔ پھر میں نے انھیں گڈ ورڈ بکس سے چھپے ہوئے ہندی اور انگریزی کے کچھ دعوتی پمفلٹس دیے۔ اس کو انھوں نے پڑھا۔
سے کافی متاثر ہوئے، اور انہوں نے کہا میں آپ لوگوں سے ملنے آؤں گا۔ مسٹر ہریش دہلی کے ایک ٹی وی چینل (آنکھوں دیکھی) کے نمائندہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ کو جب بھی کوئی پروگرام کرنا ہو، فون کیجئے۔ میں اپنی ٹیم کے ساتھ آؤں گا اور پروگرام ریکارڈ کر کے نشر کروں گا۔ دوسری سیٹ پر بیٹھے ہوئے ایک صاحب مسٹر شنکر رونیار (غازی آباد) نے بھی بڑھ کر ایک پمفلٹ لیا اور اس کو پڑھنے کے بعد کہا: بہت اچھا لکھا ہے۔ مگر اس میں کچھ کڑپنھ ہے۔ کہا کہ پمفلٹ میں لکھی ہوئی کوئی ایک بات بتائیے جس سے آپ نے یہ جانا کہ اس میں کڑپنھ اس پر وہ خاموش ہو گئے۔ پھر انہوں نے کہا: اسلام میں چار شادی کا حکم ہے جس کی کوئی لاجک میری سمجھ میں نہیں آتی۔ میں نے کہا: آپ کی عمر مجھ سے بہت زیادہ ہے، آپ مجھے کسی ایک مسلم فیملی کا نام بتائیے جس نے چارشادیاں کی ہوں۔ تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد انہوں نے کہا: میرے علم میں تو ایسا کوئی آدمی نہیں۔ میں نے کہا: جو چیز عملاً موجود نہیں اس میں الجھنے کی ضرورت کیا ہے۔ تھوڑی دیر گفتگو کرنے کے بعد وہ دوسرے پمفلٹ دیکھنے لگے۔ پھر کافی اختلاط شروع ہو گیا، اور کئی لوگوں نے سوالات شروع کر دیے۔ مسٹر شنکر رونیار نے ہندی کتابچہ سَفَلتا کے سوتر پڑھا اور کہا: اس کا لکھنے والا تو بڑا گیانی معلوم ہوتا ہے۔ وہ کافی متاثر ہوئے، انہوں نے کہا کہ اس رائٹر سے تو ملنا میں ضرور دہلی آکر ان سے ملوں گا، اور آشیرواد لوں گا۔ سامنے بیٹھی ہوئی دو غیر مسلم خواتین نے بھی دوسرے ہندی انگریزی پمفلٹس کے علاوہ ’’سفلتا کے سوتر دیکھا اور بہت پسند کیا۔ پوچھا کہ آپ نے اس کتابچے سے کیا سیکھا؟ انہوں نے کہا مجھے اس سے حوصلہ ملا، اور میں نے سیکھا کہ آدمی کو کسی بھی حال میں اپنا حوصلہ نہیں کھونا چاہیے۔
دوران گفتگو بہت سے لوگوں نے شوق سے CPS کے کتابچے لیے، ایک صاحب مسٹر ہریش کمار (پنجاب) اپنی سیٹ سے اُٹھ کر میرے پاس آئے اور کچھ کتابچے حاصل کیے۔ میں نے ان سے کچھ باتیں کیں اور پوچھا آپ کیا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا میں نغمے گاتا ہوں۔ میں نے کہا کہ سچا نغمہ ایک خدائی نغمہ ہے۔ آپ سچے نغمے گائیے۔ اس پر وہ مسکرائے اور کتابچے لے کر اپنی فیملی کے
ساتھ بیٹھ گئے ۔ تھوڑی دیر کے بعد میرے پاس آئے اور کہا میں آپ سے مل کر بہت خوش ہوا۔ نے تو میری آنکھیں کھول دیں۔ مجھے آپ سے محبت محسوس ہورہی ہے۔ آپ برائے کرم میری اس کتاب پر اُردو میں میرا نام اور اپنا فون نمبر لکھ دیں۔ میں نے کہا آپ اُردو جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا نہیں، بس آپ کی یادگار ہو جائے گی۔
دورانِ سفر ان حضرات سے دعوتی انداز میں باتیں ہوتی رہیں۔ اس طرح نو گھنٹے کا یہ سفر خدا کے فضل سے ایک دعوتی سفر بن گیا۔ اپنی منزل پر پہنچنے کے بعد اُن لوگوں نے کہا ”آپ کا بہت بہت شکریہ کہ آپ کی وجہ سے ہمارا سفر بہت اچھا گزرا۔ اس سفر میں ہمیں سچائی ملی، یہ سفر ہمارے لیے ایک تاریخی سفر بن گیا“۔
یہ تجربہ بتاتا ہے کہ موجودہ زمانہ میں دعوت کے امکانات کتنے بڑھ گئے ہیں۔ سفر اور دوسرے مواقع پر ایسا ہوتا ہے کہ بار بار لوگوں سے ملاقاتیں ہوتی ہیں، اگر آدمی کے اندر داعیانہ ذہن موجود ہو تو وہ ان ملاقاتوں کو کامیابی کے ساتھ دعوت کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ (ممبئی کا سفر، نومبر 2004) دعوتی مزاج، فقہی مزاج 17 جولائی 2005 کو اتوار کا اسپرچول کلاس 1، نظام الدین ویسٹ مارکیٹ میں تھا۔ بلڈنگ کے ایک فلور کو خالی کر کے اس کو ایک ہال کی صورت میں از سر نو بنایا گیا ہے۔ یہ فلور اب ان شاء اللہ اسی خاص مقصد کے لیے استعمال ہوگا۔ اس اسپرچول کلاس میں عورت اور مرد دونوں ایک ہال میں بیٹھے ہوئے تھے۔ آج کی ملاقات میں اس پر ایک صاحب نے اعتراض کیا کہ وہاں عورت اور مرد دونوں ایک ہال میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ عورتوں کے لیے ایک علیحدہ کمرہ مخصوص ہونا یہ صاحب خود بھی 17 جولائی کے اس پروگرام میں شریک تھے۔
حقیقت یہ ہے کہ معاملے کو دیکھنے کے دو مختلف زاویے ہیں۔ ایک ہے فقہی زاویہ اور دوسرا ہے دعوتی زاویہ۔ فقہی نقطہ نظر سے آپ کی بات درست ہوسکتی ہے مگر دعوتی مصلحت کے اعتبار سے یہاں دیکھیں تو جو ہورہا ہے وہی آپ کو درست نظر آئے گا۔ آپ چوں کہ دعوتی کام نہیں کر رہے ہیں
اس لیے آپ اس قسم کی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔ اگر آپ اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقے میں دعوتی کام کریں تو آپ کی سمجھ میں آئے گا کہ یہاں جو ہو رہا ہے عملی طور پر وہی درست ہے۔ یہ در اصل تالیف قلب کا مسئلہ ہے اور تالیف قلب کی اہمیت کو صرف داعی انسان سمجھ سکتا ہے۔
تالیف قلب کی اہمیت اسلام میں بہت زیادہ ہے۔ اسی لیے زکوٰۃ کی آٹھ مدوں میں سے ایک مد تالیف قلب کی ہے۔ تالیف قلب سے مراد وہی چیز ہے جس کو دل جوئی کہا جاتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ لوگوں کے دلوں کو نرم کیا جائے تاکہ وہ کھلے ذہن کے ساتھ اسلام پر غور و فکر تالیف قلب دراصل ایک دعوتی ضرورت ہے۔ تالیف قلب کا مقصد یہ ہے کہ دعوت کے موافق ماحول بنایا جائے۔ اس کی مختلف صورتیں ہیں۔ مثلاً لوگوں کے لیے کوئی مفید رفاہی کام کرنا، لوگوں کے مزاجی بگاڑ کی بنا پر ان کی رعایت کرنا، داعی اور مدعو کے درمیان حالات کو معتدل بنانا، لوگوں کو کس نوعیت کا مادی فائدہ پہنچانا تا کہ وہ اس سے متاثر ہو کر اسلام پر غور و فکر کر سکیں۔ کہ بزنس میں جس چیز کو کسٹمر فرینڈلی سلوک کہا جاتا ہے، اسی کو مدعو کے اعتبار سے استعمال کرنے کا نام تالیف قلب ہے، یعنی مدعو فرینڈلی سلوک اختیار کرنا۔ (بنگلور کا سفر )