خیر خواہی کا ذہن
Al-Risala, October 2019, pp. 19–21
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک سوال یہ تھا کہ غیر مسلموں میں اسلام کا پیغام کیسے پہنچایا جائے۔ میں نے کہا کہ اس سلسلے میں سب سے پہلا کام یہ ہے کہ ان لوگوں کو کافر کہنا چھوڑ دیا جائے۔ حتیٰ کہ دل سے بھی انہیں ایسا نہ سمجھا ان کو صرف انسان سمجھا جائے اور انسان کہا جائے۔ جب تک ایسا نہیں ہو گا ان کے لیے آپ کے دل میں سچی خیر خواہی پیدا نہیں ہو گی، اور سچی خیر خواہی کے بغیر دعوتی کام کا آغاز ہی نہیں ہو سکتا۔ میں نے کہا کہ ایک بزنس مین لوگوں کو صرف کسٹمر کے روپ میں دیکھتا ہے، وہ ان کو مسلم اور کافر، یا اپنی قوم اور غیر قوم کے الفاظ میں نہیں بانٹتا، وہ سب کو یکساں طور پر انسان کے روپ میں اسی طرح سچا داعی وہ ہے، جو انسان کو اپنے اور غیر، یا دوست اور دشمن میں تقسیم نہ کرے، بلکہ سب کے لیے شفقت کا وہی جذبہ رکھے، جو ایک ماں کے دل میں اپنی اولاد کے لیے ہوتا ہے۔
رسول اللہ نے عرب میں دعوتی کام شروع کیا تو آپ نے یہ فرمایا: اے انسانو! ، اے میری قوم والو! پیغمبر لوگوں کی ہدایت کا حریص ہوتا ہے۔ یہی پیغمبر کا سب سے بڑا دعوتی سرمایہ ہے۔ قرآن کو پڑھیں تو اس میں اس قسم کی کوئی چیز نہیں ملے گی جس کو آج کل پروگرام کہا جاتا ہے۔ رسول اور اصحاب رسول کے دل میں لوگوں کی ہدایت کے لیے بے پناہ شفقت اور خیر خواہی موجود تھی۔ یہی جذبہ ان کے لیے دعوتی کام کا سب سے بڑا رہنما بن گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ داعی ایک پروگرام ساز انسان ہوتا ہے۔ وہ ہر موقع کے لیے خود ہی پروگرام وضع کر لیتا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ آج کل دعوت کے نام پر بہت سے کام کیے جا رہے ہیں، مگر میرے علم کے مطابق یہ سب مطلوب دعوتی کام نہیں۔ ان کاموں میں سے کوئی ڈیبیٹ ہے، کوئی اصلاح ہے، کوئی کمیونٹی ورک ہے اور کوئی قومی یا سیاسی کام ہے۔ بذات خود یہ سب کام مفید ہو سکتے ہیں، مگر ان کاموں کو دعوت الی اللہ کا کام نہیں کہا جا سکتا۔ (بنگلور کا سفر) عصر حاضر کا فتنہ ایک اور بات جو سمجھ میں آئی وہ یہ کہ قدیم زمانہ کا فتنہ اگر شرک تھا تو موجودہ زمانہ کا فتنہ مادیت یا مال ہے، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے: إِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ فِتْنَةً وَفِتْنَةُ أُمَّتِي الْمَالَ (جامع الترمذي، حدیث نمبر 2336)۔ یعنی بیشک ہر امت کا ایک فتنہ ہے، اور میری امت کا فتنہ مال ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نبوت محمدی کے ظہور کے بعد ایک زمانہ ایسا آئے گا جب کہ مال یا مادیت سب سے بڑا فتنہ بن جائے گا۔
پٹاپرھی میں تقریباً پچاس ہزار لوگ جمع تھے۔ ان کی ننانوے فیصد تعداد ہندو کمیونٹی سے تعلق یہی منظر دوسرے ہندو پیشواؤں کے یہاں نظر آتا ہے۔ عورت اور مرد دونوں بہت بڑی تعداد میں ان کے آشرموں میں آتے ہیں تا کہ ان کا آشیرواد لے سکیں۔ اس تمام بھیڑ کا محرک صرف ایک ہے اور وہ ہے مادی برکت حاصل کرنا۔ ایسے لوگوں کو اگر اسلام کا پیغام پہنچایا جائے تو وہ اس کی طرف اسی وقت متوجہ ہوں گے جب کہ انہیں اسلام میں مادی فائدہ دکھائی دے، جیسا کہ گرو
لوگوں کے درشن اور آشیرواد سے وہ مفروضہ طور پر سمجھتے ہیں۔ گروؤں کی یہ ساری مقبولیت در اصل فرضی امیدوں کی تجارت (false hopes business) کے ہم معنی ہے، اس کے سوا وہ اورکچھ نہیں۔ ایسی حالت میں اسلام کا مؤثر دعوتی اپروچ یہ ہوسکتا ہے کہ اسلام کے تصورِ جنت کو اُن کے سامنے نمایاں کیا جائے۔ لوگوں کو بتایا جائے کہ آپ لوگ اپنا جو مادی محل بنانا چاہتے ہیں وہ موجودہ دنیا میں بننے والا نہیں۔ موت کے بعد جنت کی دنیا ہی میں آپ کو اپنی خوشیوں کا محل مل سکتا ہے۔ جنت کو آپ قبل از موت مرحلہ حیات میں تلاش کر رہے ہیں، وہ صرف بعد از موت مرحلہ حیات میں حاصل ہوسکتا ہے۔ میرے تجربہ کے مطابق یہی اسلوب زیادہ مؤثر ہے۔ اس کو دین کی مادی تعبیر نہیں کہا جاسکتا۔ کیوں کہ مادی تعبیر ہمیشہ مادی دنیا کے حوالے سے کی جاتی ہے۔ جب کہ جنت کی بات جب بھی کی جائے گی آخرت کے حوالے سے کی جائے گی۔ اس کو جنتی تعبیر تو کہہ سکتے ہیں لیکن اس کو مادی تعبیر نہیں کہا جاسکتا۔ (بنگلور کا سفر)