مدعو سے میل جول
Al-Risala, October 2019, pp. 21–22
By Maulana Wahiduddin Khan
پٹیا پرتھی کے سفر سے پہلے میری ملاقات دہلی میں ایک صاحب سے ہوئی، جو ایک بڑے مدرسے میں تدریس کا کام کرتے ہیں۔ اُن سے اس سفر کا ذکر ہوا تو انہوں نے کہا کہ سائی بابا کے ماننے والے تو اُن کو خدا کہتے ہیں، اس قسم کا عقیدہ کھلا ہوا شرک ہے۔ اس مشرکانہ ماحول میں جانا آپ کے لیے درست نہیں۔ مگر اس کانفرنس میں شرکت کے بعد مجھے ایک ایسی حقیقت دریافت ہوئی جو دعوتی کام کرنے والوں کے لیے بہت ضروری ہے۔ یہاں مجھے معلوم ہوا کہ سائی بابا خود تو اپنے کو خدا نہیں بتاتے ہیں، مگر ان کے معتقدین ان کے بارے میں ایسا ہی کہتے ہیں۔ مگر اہم بات یہ ہے کہ اس کانفرنس میں مجھے اسلام پر بولنے کے لیے بلایا گیا۔ کسی شرط کے بغیر ایک عظیم مجمع کے سامنے مجھے اسلام پر بولنے کا موقع دیا گیا۔ میں نے اپنی تقریر میں صاف طور پر کہا کہ اسلام کا مقصد ہے انسان کو خدا کا پرستار (worshipper of God) بنانا۔ سائی بابا کے معتقدین ان کی حد درجہ تعظیم مگر میں یہاں اسی طرح رہا، جس طرح سیکولر کانفرنسوں میں رہتا ہوں۔ میری تقریر کے
بعد کسی نے اس پر اعتراض نہیں کیا، بلکہ ہر ایک نے اس پر اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا۔ نے کہا کہ ہم اپنے اسکولوں میں قرآن کو پڑھاتے ہیں، اور ہم اس پر پورا عقیدہ رکھتے ہیں۔ اس تجربے سے مجھے ایک اہم حقیقت کا علم ہوا۔ وہ یہ کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کوئی آدمی ایک لفظ بولتا ہے وہ اس لفظ کو خود اپنے ذہن کے اعتبار سے بولتا ہے مگر سننے والا اس کو اپنے ذہن کے اعتبار سے لے لیتا ہے۔ اس سے غیر ضروری قسم کے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ مثلاً سیکولرزم کے لفظ کو لیجیے، جدید تعلیم یافتہ لوگ سیکولرزم کا لفظ کثرت سے استعمال کرتے ہیں۔ اس کو سن کر مذہبی لوگ غصہ ہوتے ہیں۔ وہ سمجھ لیتے ہیں کہ جدید تعلیم یافتہ طبقہ مذہب کا دشمن ہے۔ حالانکہ یہ صرف سمجھنے کا جدید تعلیم یافتہ طبقہ سیکولر ازم کو سادہ طور پر ایک جمہوری طریقے کے معنی میں لیتا ہے، اس کے برعکس مذہبی طبقہ سیکولر ازم کا ترجمہ "لا دینیت" کر کے اُس کو اینٹی مذہب کے معنی میں لے لیتا اس سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ حالاں کہ سیکولر ازم صرف ایک غیر جانب دارانہ پالیسی کا نام ہے، نہ کہ کسی مخالفانہ پالیسی کا نام۔ (بنگلور کا سفر)