اسلامی تحریک کی ابتدا
Al-Risala, October 2019, pp. 22–24
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک تعلیم یافتہ مسلمان کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تئیس سالہ دور نبوت کو دو دوروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے— مکی دور اور مدنی دور۔ دونوں دور تدریجی دور نہیں تھے، بلکہ وہ اضافی (relative) دور تھے۔ دونوں کے درمیان فرق کی اس نوعیت کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔
بعض لوگوں نے ان دونوں دوروں کو لے کر اسلام کا ایک انقلابی نظریہ بنایا ہے۔ کے حوالے سے کہتے ہیں کہ اسلام کی تحریک دعوت سے شروع ہوتی ہے پھر پُر امن مزاحمت (passive resistance) کا زمانہ آتا ہے۔ اُس کے بعد ہجرت ہوتی ہے اور پھر اہل ایمان منظم ہو کر جنگی اقدام شروع کر دیتے ہیں۔ یہ تقسیم سرتا سر بے بنیاد ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مکی دور اور مدنی دور اسلام کی عملی تاریخ کا حصہ ہیں، وہ دعوت الی اللہ کی کسی نظری ترتیب کا اظہار نہیں۔
اصل یہ ہے کہ اسلامی تحریک ہمیشہ دعوت سے شروع ہوتی ہے۔ دعوت سے مراد خدا کے پیغام کو خدا کے بندوں تک پُرا من طور پر پہنچانا ہے۔ اسلامی تحریک اپنے آغاز میں بھی دعوت ہے، اور اپنے اختتام میں بھی دعوت۔ دعوت کے سوا اسلامی تحریک کا کوئی ابدی نشانہ نہیں۔ انسان چوں کہ پیدا ہوتے ہیں، اور کچھ سالوں کے بعد مر جاتے ہیں، اس لیے دعوت کا عمل ایک ایسا عمل ہے، جو ایک جنریشن کے بعد دوسری جنریشن میں جاری رہتا ہے۔ یہ دعوتی عمل جاری رہے گا، یہاں تک کہ قیامت آجائے۔ دعوت کے بعد مزید جو واقعات پیش آتے ہیں ان کا تعلق داعی سے نہیں ہے بلکہ ان کا تعلق مدعو سے ہے۔ دعوت کا عمل یکساں نوعیت کا ایک عمل ہے مگر جن انسانوں کے درمیان دعوت کا عمل کیا جاتا ہے وہ ہمیشہ یکساں نہیں ہوتے۔ دوسرے انسانوں کا یہی فرق مختلف قسم کے واقعات کو ظہور میں لانے کا اصل سبب ہے۔ پیغمبروں کی تاریخ بتاتی ہے کہ دعوت کے بعد کبھی طوفان نوح جیسا واقعہ پیش آیا، کبھی مدعو کی طرف سے وہ صورت پیش آئی، جس کا ایک نمونہ حضرت یونس کی زندگی میں کبھی وہ واقعہ پیش آیا، جس کی ایک مثال حضرت یوسف کے معاصر بادشاہ کے یہاں دکھائی اسی طرح مختلف پیغمبروں کے یہاں مختلف نمونے نظر آتے ہیں۔ انہی میں سے ایک نمونہ وہ ہے جس کی مثال پیغمبرِ اسلام کے زمانے میں مکی اور مدنی دور کی صورت میں پیش آیا۔ اب عالمی افکار کے انقلاب کے بعد دنیا میں بالکل نئی صورت حال سامنے آئی ہے۔ دعوت کا طریقہ اور مدعو کا رَدِّ عمل دونوں بدل چکے ہیں۔ دورِ قدیم کے تجربات کو لے کر بعض یہ کہتے ہیں کہ موجودہ زمانے میں بھی ہم کو اسی طریقے کو دہرانا ہے، مثلاً وہ کہتے ہیں کہ قدیم زمانہ کے داعی آگ میں ڈالے گئے اور اُن سے جنگ کی گئی اور ان کو ملک بدر کیا گیا، یہ سب واقعات موجودہ زمانے کے داعیوں کے ساتھ بھی پیش آنے چاہئیں، ورنہ ان کی دعوت پیغمبرانہ دعوت نہیں قرار پائے گی۔ اس قسم کا نظریہ بلاشبہ ایک بے بنیاد نظریہ ہے۔ اس قسم کے واقعات کا تعلق دعوت سے نہیں بلکہ مدعو کے رَدِ عمل سے ہے۔ قرآن میں اہلِ ایمان کو یہ دعا سکھائی گئی تھی : رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا (2:286) ۔ یعنی اے ہمارے رب! ہم پر بوجھ نہ ڈال جیسا
تو نے ڈالا تھا ہم سے اگلوں پر۔
حقیقت یہ ہے کہ نبوت محمدی کے ظہور کے بعد تاریخ میں تدریجی تغیر کا ایک عمل شروع ہوا۔ جس کے نتیجے میں آخر کار یہ ہوا کہ اسلامی دعوت کے راستے کی تمام رُکاوٹیں ختم ہوگئیں، اور داعیوں کے لیے یہ ممکن ہو گیا کہ وہ آزادانہ ماحول میں دعوت الی اللہ کا عمل جاری کر سکیں۔ مگر بدقسمتی سے زمانۂ جدید کے یہ قیمتی مواقع استعمال نہ ہو سکے۔ اس کا سب سے بڑا سبب مذکورہ قسم کا نام نہاد انقلابی نظریہ اس نظریے کے ماننے والوں کے دماغ میں یہ بسا ہوا تھا کہ اگر زندان و سلاسل کی جھنکار بلند نہ ہو اور جنگ و جدال کا معرکہ گرم نہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ دعوت الی اللہ کا کام ہی نہیں ہوا۔ انہوں نے خود ساختہ طور پر مڈ بھیڑ اور مسلح ٹکراؤ کی صورتیں پیدا کر رکھیں ہیں، اور اس کے بعد پُر فخر طور پر کہتے ہیں کہ دیکھو، ہم وہ لوگ ہیں، جو حقیقی دعوت الی اللہ کا کام کرتے ہیں۔ انقلابی اسلام کے ان نام نہاد مجاہدین پر صحابیِ رسول حضرت عبداللہ بن عمر کے الفاظ صادق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخت ہدایات کے باوجود جب خلافتِ راشدہ کے آخری زمانے میں مسلمان اسلام کے نام پر خونیں لڑائی لڑنے لگے، اُس وقت حضرت عبداللہ بن عمر نے اس کے خلاف آواز بلند کی۔ انہوں نے کہا کہ تم لوگ اپنے اس متشددانہ عمل کو جہاد سمجھتے ہو حالاں کہ وہ ہرگز جہاد نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے رسول اللہ کی قیادت کے تحت لڑ کر فتنے کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا تھا، اب تم اپنی خود ساختہ لڑائی کے تحت اس ختم شدہ فتنے کو دوبارہ زندہ کر رہے ہو۔ حدیث نمبر 4513) (بنگلور کا سفر)