Al-Risala · October 2019

زندہ قوم، زوال یافتہ قوم

Al-Risala, October 2019, pp. 30–31

By Maulana Wahiduddin Khan

عبد المحیط خان (2010-1932) میرے چھوٹے بھائی ہیں۔ انھوں نے 1955 میں بنارس ہندو یونیورسٹی سے انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔ ایک گفتگو کے دوران انہوں نے بنارس ہندو یونیورسٹی کا اپنا ایک ذاتی تجربہ بیان کیا۔

ہندو یونیورسٹی میں ان کو لمڈی ہاسٹل (LIMDI Hostel) میں رکھا گیا۔ اس ہاسٹل کے ہر کمرے میں دو طالب علم کے رہنے کا انتظام تھا۔ ہمارے بھائی کا داخلہ ہوا، تو وہاں کے وارڈن مسٹر پی پانڈے (V.P. Panday) نے کہا کہ تم مسلمان ہو تم کو نماز اور قرآن پڑھنا ہوگا، اس لیے میں تم کو ایک غیر مشترک کمرہ دیتا ہوں، تا کہ تم کو کوئی پریشانی نہ ہو۔ یونیورسٹی کے قاعدہ کے مطابق، صرف مانیٹر کو تنہا اور غیر مشترک کمرہ دیا جاتا تھا۔ چنانچہ مسٹر پانڈے نے ہمارے بھائی کو مانیٹر بنا اس پر انہوں نے کہا کہ میں تو پڑھنے لکھنے والا آدمی ہوں، مانیٹری میں کیسے کروں گا۔ پانڈے نے کہا تم کچھ مت کرنا، صرف رجسٹر پر دستخط کر دینا، اور بس۔ بقیہ کام دوسرے لوگ کر دیں چنانچہ ہمارے بھائی تعلیم کی پوری مدت میں اس کمرہ میں غیر مشترک طور پر رہے۔ میرے بھائی نے بتایا کہ اس واقعہ کا ذکر انہوں نے یوپی کے ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے انہوں نے یہ بات سن کر میرے بھائی سے کہا کہ مسٹر خان، پانڈے نے نہایت ہوشیاری سے آپ کو اچھوت بنا دیا۔ ‘‘ یہ کوئی اتفاقی بات نہیں۔ یہی موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا عام مزاج ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان اپنی زوال یافتہ نفسیات کی بنا پر منفی مزاج (negative mentality) کا شکار ہو گئے ہیں۔ ان کو ہر واقعہ میں صرف منفی پہلو دکھائی دیتا ہے۔ حتی کہ مثبت واقعات میں بھی وہ کوئی نہ کوئی منفی پہلو تلاش کر لیتے ہیں۔ اس کی ایک مثال اوپر کا واقعہ ہے۔ یہ زوال یافتہ قوم کا حال ہے۔ مگر جب کوئی قوم عروج کی حالت میں ہو تو اس کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ اس کو ہر واقعہ میں مثبت پہلو دکھائی دیتا ہے۔ حتی کہ وہ اپنے ایجابی مزاج کی

بنا پر اس قابل ہو جاتی ہے کہ وہ منفی واقعہ میں بھی مثبت پہلو دریافت کرلے۔ دور اول کے مسلمانوں کے اندر یہ صفت کامل طور پر موجود تھی۔ اس کی ایک تاریخی مثال یہ ہے کہ خلیفہ ثانی عمر فاروق کے زمانہ میں مسلم فوجیں ایران میں داخل ہوئیں ۔ ان کے اقدامات اتنے کامیاب تھے کہ ایرانی فوجی اپنا حوصلہ کھو بیٹھے ۔ وہ ان کے بارے میں کہنے لگے : دیواں آمدند، دیواں آمدند (دیو آگئے، دیو آگئے) الأخبار الطوال للدینوری، صفحہ 126۔ اس وقت ایرانی حکومت نے جنگ کو روک کر گفت و شنید (negotiation) کا سلسلہ شروع کیا۔ اس دوران مسلم فوج کے کئی وفد ایرانیوں سے ملے۔ آخری وفد عاصم بن عمر و کا تھا۔ انہوں نے شاہ ایران یزدگرد کے دربار میں پہنچ کر جس بے باکی کا مظاہرہ کیا اس سے شاہ ایران غصہ ہوگیا۔ اس نے حکم دیا کہ مٹی کا ایک ٹوکرا لایا جائے۔ اس کے بعد اس نے صحابی کے سر پر مٹی کا یہ ٹوکرارکھوایا اور حکم دیا کہ ان کو اسی حال میں شہر کے باہر نکال دو۔ صحابی اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر واپس روانہ ہوئے۔ وہ اسلامی فوج کے سردار سعد بن ابی وقاص کے خیمہ میں پہنچے اور مٹی کا ٹوکرا ان کے سامنے رکھ کر پورا قصہ بتایا۔ شاہ ایران کا یہ سلوک بلاشبہ سخت اشتعال انگیز تھا۔ مگر حضرت سعد غصہ نہیں ہوئے۔ بجائے انہوں نے کہا کہ تم لوگوں کو خوش خبری ہو کیوں کہ خدا کی قسم انہوں نے اپنے ملک کی کنجیاں ہمارے حوالے کر دیں۔ مٹی کا ٹوکرا دینے سے انہوں نے یہ فال لیا کہ ایرانیوں نے خود ہی اپنا ملک ہمارے حوالے کر دیا ہے۔ (أَبْشِرُوا فَقَدْ وَاللَّهِ أَعْطَانَا اللَّهُ أَقَالِيدَ مُلْكِهِمْ. وَتَفَاءَلُوا بِذَلِكَ أَخْذَ بِلَادِهِمْ) البدایة والنہایة، جلد 9، صفحہ 628۔

اس تقابل سے واضح ہوتا ہے کہ زوال کی نفسیات اور عروج کی نفسیات میں کیا فرق ہے۔ زوال کی نفسیات میں مبتلا لوگ محرومی کے احساس میں جیتے ہیں، چنانچہ وہ ہر واقعہ سے منفی غذا لینے اس کے برعکس جو لوگ عروج کی نفسیات میں جیتے ہوں، وہ ہر واقعہ سے مثبت غذا لیتے وہ اس قابل ہوتے ہیں کہ انتہائی ناموافق حالات میں بھی موافق پہلو تلاش کر لیں، حتی کہ اپنے minus کو بھی اپنے plus میں تبدیل کر لیں۔

Printed page