Al-Risala · October 2019

الفاظ، الفاظ، الفاظ

Al-Risala, October 2019, p. 47

By Maulana Wahiduddin Khan

کچھ لوگ بولتے ہیں، وہ مسلسل طور پر بولتے ہیں، ان کے الفاظ کبھی ختم نہیں ہوتے۔ یہ الفاظ معانی سے خالی ہوتے ہیں۔ ان کے الفاظ میں نہ کوئی تجزیہ ہوتا ہے، نہ کوئی وزڈم (wisdom)، نہ کوئی گہری معنویت۔

یہ وہ لوگ ہیں، جن کے پاس الفاظ کے ذخیرے کا کبھی ختم نہ ہونے والا خزانہ ہوتا ہے، لیکن یہ الفاظ معنویت سے خالی ہوتے ہیں۔ آپ ان کی باتوں کو گھنٹوں سنتے رہیے، لیکن ان کی باتوں میں آپ کو کوئی حکمت یا کوئی دانشمندی کی بات نہیں ملے گی۔ حتیٰ کہ آپ اس سے بھی بے خبر رہیں گے کہ انھوں نے کیا کہا۔ ان کی باتوں میں آپ کو کوئی ٹھیک اوے نہیں ملے گا۔ یہ وہ لوگ ہیں، جن کے پاس حافظہ (memory) ہوتا ہے، مگر ان کے پاس دانش مندی (wisdom) نہیں ہوتی۔ کے پاس گہرا مطالعہ نہیں ہوتا۔

فارسی کا ایک مثل ہے : یک من علم را، دہ من عقل می باید۔ یعنی ایک من علم کے لیے دس من یہ بات اس وقت پیدا ہوتی ہے، جب کہ آدمی بولنے سے زیادہ سوچے، وہ بولنے سے زیادہ تجزیہ (analysis) کرے، اس کے اندر مثبت سوچ (positive thinking) پائی جاتی ہو، وہ نفرت اور تعصب سے خالی ہو، اس کے اندر وہ صفت ہوتی ہے، جس کو حدیث میں دعا کی شکل میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: اَللّٰهُمَّ أَرِنَا الْحَقَّ حَقّاً، وَارْزُقْنَا اتِّبَاعَهُ، وَأَرِنَا الْبَاطِلَ بَاطِلاً، وَارْزُقْنَا اجْتِنَابَهُ، وَلَا تَجْعَلْهُ مُلْتَبِساً عَلَيْنَا فَنَضِلَّ (تفسیر ابن کثیر، 1/427)۔ یعنی اے اللہ ہمیں حق کو حق کی صورت میں دکھا، اور اس کے اتباع کی توفیق دے، اور باطل کو باطل کی صورت میں دکھا، اور اس سے بچنے کی توفیق دے، اور اس کو ہمارے اوپر مبہم نہ بنا کہ ہم گمراہ ہو جائیں۔ اسی طرح یہ دعا: اَللّٰهُمَّ أَرِنَا الْأَشْيَاءَ كَمَا هِيَ (تفسیر الرازی، 13/37)۔ اے اللہ، مجھے چیزوں کو اسی طرح دکھا، جیسا کہ وہ ہیں۔

Printed page