Al-Risala · November 2019

Nature and Science Speak about God

Al-Risala, November 2019, pp. 18–21

By Maulana Wahiduddin Khan

اخباری سائز کی اس 28 صفحے کی کتاب میں کائنات کے متعلق سائنسی دریافتوں کے حوالے سے یہ واضح کیا گیا ہے کہ خدا کا وجود ایک حقیقت ہے اور اسے کسی طرح جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ بچھو، بھڑ اور اسی طرح کے بہت سے دوسرے پانی اور خشکی کے جاندار ہیں جو ڈنک مار کر دشمن کا مقابلہ کرتے ہیں یا شکار کو قابو میں لاتے ہیں۔ ان کے ڈنک کی نوک پر ایک نہایت چھوٹا سوراخ ہوتا ہے جس کے ذریعہ وہ ایک قسم کا زہر اپنے دشمن کے جسم میں داخل کر دیتے ہیں۔ یہ سوراخ اگر ڈنک کے بالکل سرے پر ہوتا تو ڈنک چھوٹے وقت سوراخ بند ہو جاتا۔ اس کے علاوہ خود چچھونے میں ڈنک زیادہ اچھی طرح کام نہ کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ ڈنک کی نوک کا سوراخ ہمیشہ ذرا سا ترچھا ہوتا ٹھیک اسی طرح جیسے ڈاکٹر کی سرینچ (syringe) میں ہوتا ہے۔ “یہ ایک بہت چھوٹی سی مثال اسی طرح جس چیز کو دیکھیے اس کے اندر ایک نہایت ذہین نقشہ سازی نظر آئے گی۔ کوڑا کرکٹ کا ایک بے ترتیب انبار نہیں ہے، بلکہ اس کے اندر زبر دست مقصدیت اور نظم پایا جاتا کیا ایک شعوری منصوبہ بندی کے بغیر ایسا ہو سکتا ہے۔

دیمک اپنے قد کے مقابلے میں ہزار گنا بڑا مکان بناتے ہیں۔ اگر ہم اپنی جسامت کی نسبت سے اتنا بڑا مکان بنائیں تو ہم کو ایک میل سے بھی زیادہ اونچی تعمیر کرنی پڑے گی۔ دیمک لکڑی میں رہ سکتے ہیں اور اسی کے اندر اپنے مکانات تراشتے ہیں ان کی زندگی کے مطالعہ سے بے شمار حیرت انگیز واقعات سامنے آئے ہیں۔ صرف ایک مثال لیجیے۔ دیمک لکڑی کو کھاتے ہیں۔ پتھر کے بعد لکڑی تمام معلوم چیزوں میں سب سے زیادہ عسیر الہضم (indigestible) ہے، مگر دیمک کے لیے یہ کوئی مشکل کام نہیں۔ وہ اس مقصد کے لیے مخصوص جبڑے رکھتے ہیں جو آرے کا کام دینے کے ساتھ

ساتھ پیسنے کا کام بھی کرتے ہیں۔ تاہم لکڑی خواہ کتنی ہی پیس ڈالی جائے، وہ بہر حال لکڑی ہی رہے گی، اور پیٹ میں جا کر غذا کی ضرورت پوری کرنے کے بجائے صرف بد ہضمی پیدا کرے گی۔ پھر کیا چیز ہے، جو دیمک کی مدد کرتی ہے۔ اس کام کے لیے دیمک کی آنتوں میں نہایت چھوٹے چھوٹے خورد بینی کیڑے موجود ہیں۔ یہ کیڑے نگلی ہوئی لکڑی پر مخصوص عمل کر کے اس کے اندر ایسی تبدیلیاں پیدا کر دیتے ہیں کہ وہ ہضم ہو کر جزو بدن ہو سکے۔ یہ حیرت انگیز انتظام کون کرتا ہے۔ مرغی کے انڈے پر غور کیجیے۔ ہر ایک انڈے میں سات ایسی مختلف خصوصیات پائی جاتی ہیں، جو اتنی اہم ہیں کہ ان میں سے ایک بھی اگر نہ ہو تو انڈا، انڈا نہ رہے گا چُونے کا خول، خول کے اندر مسامات جو ہوا کو گزرنے کا راستہ دیتے ہیں، پتلی جھلی جو اِستر کی طرح چاروں طرف ہوتی ہے، زردی اور سفیدی جو خول کے اندر بچے کی غذا ہیں، بچے کا جرثومہ، تار جو جرثومے کو صحیح رُخ پر باقی رکھتے ان میں سے کسی ایک چیز کو انڈے سے الگ کر دیجیے، اور انڈا کبھی بھی چوزے کی پرورش گاہ نہیں بن سکے گا۔ کیا یہ سات مختلف چیزیں محض اتفاق سے یکجا ہوگئی ہیں، اتفاق‘ ان سات مختلف چیزوں کی موجودگی کی تشریح نہیں کر سکتا، جو ٹھیک اور بالکل صحیح حالت میں پائی جا رہی ہیں۔ اس سے زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ اتفاق سے صرف یہی چیزیں کیوں اکٹھا ہوئیں۔ کیوں نہ درخت کی پتی، کوئی لکڑی، پتھر کا ایک ٹکڑا اور اس طرح کی ہزاروں چیزیں جن کا موجود ہونا ممکن تھا خول کے اندر آگئیں، جن میں سے کوئی ایک چیز بھی اگر وہاں ہوتی تو وہ سارے انڈے کو برباد کردیتی۔ سب سے زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ جب مرغی کا بچہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ انڈے سے باہر نکلے، اس وقت اس کی چونچ پر ایک چھوٹی سی سخت سینگ ظاہر ہوتی ہے۔ اس کی مدد سے وہ اپنے خول کو توڑ کر باہر آجاتا ہے۔ کام پورا کر کے بچے کی پیدائش کے چند دن بعد خود بخود جھڑ جاتی ہے۔

خود اپنے وجود پر غور کیجیے۔ انسان کو جو جسم حاصل ہے وہ کس قدر حیرت انگیز ہے۔ ایک ایسا ٹیلی فون ایکسچینج جو ہر آن زمین کے تمام مردوں، عورتوں اور بچوں سے تعلق جوڑے ہوئے ہو، ان سے پیغامات وصول کرتا ہو اور ان کے نام پیغام بھیجتا ہو، اگر آپ ایک ایسے ٹیلی فون

اکسچینج (exchange) کا تصور کرسکیں تو آپ دماغ کے ناقابل یقین حد تک پیچیدہ نظام کا صرف ایک ہلکا سا اندازہ کر سکتے ہیں۔

آپ کے دماغ (brain) کے اندر تقریباً ایک ہزار ملین عصبی خانے (nerve cells) ہر خانے سے بہت باریک تار نکل کر تمام جسم کے اندر پھیلے ہوئے ہیں جن کو عصبی ریشے (nerve fibres) کہتے ہیں۔ ان پتلے ریشوں پر خبر وصول کرنے اور حکم بھیجنے کا ایک نظام تقریباً ستر میل فی گھنٹے کی رفتار سے دوڑتا رہتا ہے۔

دل کو دیکھیے، اس کا اوسط قد چار انچ لمبا اور ڈھائی انچ چوڑا ہوتا ہے۔ اس کا وزن آٹھ اونس سے زیادہ نہیں ہوتا مگر انسانی جسم کا یہ چھوٹا سا پمپ رات دن مسلسل چلتا رہتا ہے۔ اس کی حرکت دن میں ایک لاکھ بار ہوتی ہے اور وہ ہر تیرہ سیکنڈ میں تقریباً ایک گیلن خون سارے جسم میں بھیج دیتا ہے۔ ایک سال میں دل جتنا خون پمپ کرتا ہے وہ اتنا ہوتا ہے جو ایک ایسی ٹرین کو پوری طرح بھر سکے، جو 65 بڑے بڑے تیل کے ویگن لیے ہوئے ہو۔ دل کی اس حیرت انگیز کارکردگی کو حاصل کرنے کے لیے عجیب و غریب ہنر مندی کے ساتھ اس کو موزوں ترین بنایا گیا ہے۔

کائنات میں اس طرح کی بے شمار چیزیں ہیں جن کی صرف فہرست بنانے کے لیے ایک پوری لائبریری کی ضرورت ہوگی، جب کہ انسان کا علم کائنات کے موجود حقائق کی نسبت سے کچھ بھی جو کچھ ہم نے دیکھا ہے، اس سے کہیں زیادہ ہے وہ چیز جس کو دیکھنا ابھی باقی ہے۔ یہ حیرت انگیز کاریگری، یہ مکمل منصوبہ بندی، یہ اعلیٰ ترین ذہانت کیا محض اتفاق (chance) سے وقوع میں آگئی ہے۔ بے شک بعض اوقات اتفاق سے بھی کوئی واقعہ ظاہر ہو جاتا ہے۔ ہوا کا ایک جھونکا کبھی سرخ گلاب کے زیرہ (pollen) کو اڑا کر سفید گلاب پر ڈال دیتا ہے، جس کے نتیجے میں زرد رنگ کا پھول کھلتا ہے۔ مگر اس قسم کا اتفاق محض جزوی اور خفیف تبدیلیاں پیدا کر سکتا وہ صرف اس مخصوص رنگ کے گلاب کی تو جیہہ کرتا ہے، نہ کہ وہ گلاب کے پورے وجود کا سبب اتفاق ہرگز اس کی توجیہہ نہیں کر سکتا کہ ایک مخصوص قسم کا نظام اس قدر تسلسل کے ساتھ کیوں

وہ ہم کو نہیں بتا تا کہ ہماری دنیا میں باقاعدگی اور تنظیم کیوں پائی جاتی ہے۔ اتفاق کا عمل کبھی بھی یکساں طور پر نہیں ہو سکتا۔ اتفاق کے لیے ممکن نہیں ہے کہ جو کچھ آج ہوا اسی کو کل بھی وجود پھر کیوں تمام چیزیں ہمیشہ یکسانیت کے ساتھ ایک ہی شکل میں ظاہر ہو رہی ہیں۔ میں نظم اور باقاعدگی کیوں پائی جاتی ہے۔

کچھ دھات کے ٹکڑے ہوا میں اچھالے جائیں تو کیا یہ ممکن ہے کہ وہ ڈھلے ہوئے حروف کی شکل میں زمین پر گریں اور گرتے ہی ایک بامعنی عبارت کی شکل میں کاغذ کے صفحہ پر اکٹھا ہو جائیں۔ اگر ایسا محض اتفاق سے نہیں ہو سکتا تو یہ کیوں فرض کر لیا گیا ہے کہ اتنی بڑی دنیا اتنی حیرت انگیز خصوصیات کے ساتھ محض اتفاق سے وجود میں آ گئی ہے۔ ایک نظریہ جس کو کسی تجربہ گاہ میں ثابت نہیں کیا جا سکتا اس کو علمی طور پر منوانے کی کیا دلیل ہے۔

دوسری توجیہہ جس پر مادہ پرست علماء انحصار کرتے ہیں وہ قانون قدرت (nature) ہے۔ "مرغی کے انڈوں سے بچے کیوں 21 روز میں نکلتے ہیں، اور شتر مرغ کے انڈوں سے 45 روز میں۔ اس طرح کے بے شمار سوالات ہیں جن کا جواب مادی علماء کے نزدیک یہ ہے کہ یہ ایک قانون بظاہر یہ ایک توجیہہ ہے مگر در حقیقت یہ جواب صرف ایک واقعہ کو بیان کرتا ہے۔ قانون فطرت کا لفظ بول کر ہم صرف کائنات کے نظم اور اس کی کارکردگی کا اعتراف کرتے ہیں۔ اس کی تو جیہہ نہیں کرتا کہ یہ نظم اور کارکردگی کیوں قائم ہے۔ یہ لفظ صرف یہ بتا تا ہے کہ چیزیں ہمیشہ ایک متعین اصول کے تحت وجود میں آتی ہیں اور ہمیشہ اسی طرح وجود میں آئیں گی۔ اس سے یہ نہیں معلوم ہوتا کہ جو کچھ ہو رہا ہے، وہ کیوں ہو رہا ہے۔ وہ واقعہ کا سبب نہیں بتا تا بلکہ صرف واقعہ کی تصویر پیش کرتا ہے۔

اگر آپ کسی ڈاکٹر سے پوچھیں کہ خون سرخ کیوں ہوتا ہے تو وہ جواب دے گا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ خون میں نہایت چھوٹے چھوٹے سرخ اجزاء ہوتے ہیں (ایک انچ کے ساتھ ہزار ویں حصے کے برابر) جن کو سرخ ذرات کہا جاتا ہے۔

Printed page