”درست، مگر یہ ذرات سرخ کیوں ہوتے ہیں؟ “
Al-Risala, November 2019, pp. 22–24
By Maulana Wahiduddin Khan
”ہمم... خون میں ایک خاص مادہ ہوتا ہے جس کا نام ہیموگلوبن ان ذرات میں ایک خاص مادہ ہوتا ہے (Hemoglobin)
مادہ جب پھیپھڑے میں آکسیجن جذب کرتا ہے تو سرخ ہو جاتا ہے۔ ’’ٹھیک ہے، مگر ہیموگلوبن کے حامل سرخ ذرات آخر کہاں سے آئے۔ ’’وہ آپ کی تلی (spleen) میں بن کر تیار ہوتے ہیں۔ جو کچھ آپ نے فرمایا، وہ بہت عجیب ہے، مگر مجھے بتائیے کہ ایسا کیوں ہے کہ خون، سرخ ذرات، تلی اور دوسری ہزاروں چیزیں اس طرح ایک کل کے اندر باہم مربوط ہیں، وہ اس قدر صحت کے ساتھ یک جا ہو کر کیسے عمل کرتی ہیں کہ میں سانس لیتا ہوں، میں دوڑتا ہوں، میں بولتا ہوں ، میں زندہ ہوں۔ ’’یہ قدرت کا قانون ہے۔ ’’وہ کیا چیز ہے جس کو آپ قانونِ قدرت کہتے ہیں۔ ’’اس سے میری مراد طبعی اور کیمیاوی طاقتوں کا اندھا عمل ہے۔ مگر کیا وجہ ہے کہ یہ اندھی طاقتیں ہمیشہ ایسی سمت میں عمل کرتی ہیں، جو انہیں ایک متعین انجام کی طرف لے جائے ۔ کیسے وہ اپنی سرگرمیوں کو اس طرح منظم کرتی ہیں کہ ایک چڑیا اُڑنے کے قابل ہو سکے، ایک مچھلی تیر سکے اور ایک انسان اپنی مخصوص صلاحیتوں کے ساتھ وجود میں آئے۔ ”میرے دوست ، مجھ سے یہ نہ پوچھو، سائنس داں صرف یہ بتا سکتا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ اس کے پاس اس سوال کا جواب نہیں ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ کیوں ہو رہا ہے۔ یہ سوال و جواب موجودہ سائنس کی حقیقت واضح کر رہا ہے۔ بے شک سائنس نے ہم کو بہت سی نئی باتیں بتائی ہیں۔ مگر اس نے جو کچھ بتایا ہے وہ صرف کچھ ہونے والے واقعات ہیں۔ واقعات کیوں کر رہے ہیں اس کا جواب سائنس کے پاس نہیں ہے۔ ایک مکھی کے نازک اعضاء کس طرح کام کرتے ہیں۔ بے شک سائنس نے اس سلسلے میں ہم کو بہت کچھ بتایا ہے، مگر وہ کون ۲۲، اس بات کا عا د ی س ا تھ |
ذہن ہے، جس نے سوچا کہ مکھی کو ان نازک اعضا کی ضرورت ہے، اور اس کو کمال کاریگری کے ساتھ ایسے اعضاء فراہم کیے۔ کائنات کے نظم اور اس کی موزونیت کی تشریح کرنے کے لیے اور یہ بتانے کے لیے کہ مختلف قسم کی بے شمار اندھی طاقتیں ایک مخصوص انجام کی طرف اپنا عمل کیوں کرتی ہیں—ہم کو ان طاقتوں کی موجودگی کے سوا کس چیز کی ضرورت ہے۔ ایک بچے ہوئے بستر کی تشریح محض اس طرح نہیں ہوسکتی کہ آپ چادر، تکیہ اور پلنگ کے نام لے لیں۔ ایک محل، نام ہے لاکھوں اینٹیں اور دوسری چیزیں اپنے صحیح ترین مقام پر نصب ہونے کا۔ انسانی جسم کے کسی چھوٹے سے چھوٹے عضو کے وجود میں آنے کے لیے ضروری ہے کہ کروڑوں ایٹم ایک منفرد اور مخصوص ترتیب کے ساتھ یک جا اندھی طاقتیں ہرگز اس طرح کی مقصدیت کا اظہار نہیں کر سکتیں، وہ واقعات کے اندر معنویت اور ہم آہنگی پیدا نہیں کر سکتیں۔
حقیقت یہ ہے کہ فطرت کا قانون کائنات کا ایک واقعہ ہے، وہ کائنات کی توجیہہ نہیں ہے۔ ایک ایسا واقعہ ہے جو خود اپنے وجود کے لیے ایک توجیہہ کا طالب ہے۔ اس موقع پر مصنف کے الفاظ نقل کرنے کے قابل ہیں۔ وہ لکھتا ہے - قانون قدرت کا ئنات کی تشریح نہیں کرتا۔ وہ خود اس کا طالب ہے کہ اس کی تشریح کی جائے:
Nature does not explain, she is herself in need of an explanation. اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی چیز میں معنویت کا ہونا، اس بات کا صریح ثبوت ہے کہ اس کے پیچھے کوئی ذہن کام کر رہا ہے۔ زندگی کا جرثومہ جو ایک مرد کے جسم میں پرورش پاتا ہے، وہ جسم کے دوسرے خلیوں (cells) کے بالکل مشابہ ہوتا ہے، مگر اس میں دوسرے خلیوں سے بالکل مختلف خصوصیت ہوتی ہے، اس کے اندر یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ عورت کے ایک خلیے سے ہم آہنگ ہو کر مکمل طور پر ایک نیا انسان وجود میں لا سکے۔ یہ کس طرح ممکن ہوتا ہے کہ دو خلیے جن میں سے ہر ایک دو بالکل مختلف جسموں میں پرورش پاتے ہیں، وہ اس قدر حیرت انگیز طور پر باہم مل کر عمل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کیا ایک تخلیقی ذہن کی کارفرمائی تسلیم کیے بغیر اس کی تشریح کی جاسکتی ہے۔
کائنات میں ایک تخلیقی ذہن کو ماننا محض ایک بے بنیاد روایت کو ماننا نہیں ہے۔ بہت سے ناگزیر نتائج ہم کو اس عقیدہ تک پہنچاتے ہیں، بے شمار علمی حقیقتیں ہم کو مجبور کرتی ہیں کہ ہم کائنات کے پیچھے ایک ذہن کی کار فرمائی تسلیم کریں۔ ٹھیک اسی طرح جیسے ریڈیو کی آواز ہم کو یہ ماننے پر مجبور کرتی ہے کہ ہم کچھ لہروں کی موجودگی تسلیم کریں، حالانکہ ہم ان لہروں کو بالکل نہیں دیکھتے۔ گلاس میں شکر ڈالیں تو تھوڑی دیر میں وہ اس طرح گھُل مل جائے گی کہ آنکھوں کو دکھائی نہیں دے مگر زبان سے چکھ کر آپ پانی میں شکر کی موجودگی کو معلوم کر سکتے ہیں۔ اسی طرح خدا آنکھوں کو نظر نہیں آتا مگر جب ہم اپنے گرد و پیش کی دنیا کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمارا وجدان (intuition) پکار اٹھتا ہے کہ بے شک یہاں ایک خدا ہے، اس کے بغیر موجودہ کائنات وجود میں نہیں آسکتی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ علم کے اضافہ نے انسان کو خدا سے دور نہیں کیا بلکہ اور اس کے قریب کیا خدا کے وجود پر شک کرنا محض اپنی جہالت کا اعلان کرنا ہے۔ پاسچر کا قول کس قدر صحیح ہے جس کو مصنف نے کتاب کے صفحہ اول پر درج کیا ہے:
A smattering of science turns people away from God-Much of it brings them back to Him. معمولی علم آدمی کو خدا سے دور کرتا ہے، زیادہ علم اس کو خدا سے قریب کرنے والا ہے۔ موجودہ زمانہ کے ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ انسان کے دماغ (brain) میں جو پارٹیکل ہیں وہ پوری کائنات کے مجموعی پارٹیکل سے بھی زیادہ ہیں۔ انسانی دماغ کی استعداد بے پناہ ہے مگر کوئی بڑے سے بڑا انسان بھی اب تک اپنے دماغ کو دس فی صد سے زیادہ استعمال نہ کر سکا۔
حقیقت یہ ہے کہ آدمی ایک امکان ہے۔ مگر موجودہ دنیا اپنی محدودیتوں کے ساتھ اس امکان کے ظہور کے لیے نا کافی ہے۔ انسانی امکان کے ظہور میں آنے کے لیے ایک لامحدود اور وسیع تر دنیا درکار ہے۔ جنت کی دنیا، ایک اعتبار سے، اسی لیے بنائی گئی ہے کہ وہاں آدمی کے امکانات پوری طرح ظہور میں