Al-Risala · November 2019

سائنس اور عقیدہ خدا

Al-Risala, November 2019, pp. 29–31

By Maulana Wahiduddin Khan

پچھلی صدیوں کی علمی تاریخ بتاتی ہے کہ سائنس کے ارتقا کے ذریعے پہلی بار استدلال کی ایسی علمی بنیاد وجود میں آئی جو عالمی طور پر مسلمہ علمی استدلال کی حیثیت رکھتی تھی، پھر اس میں مزید ارتقا ہوا، اور آخر کار سائنس ایک ایسا علم بن گیا جو مسلمہ عقلی بنیاد پر یہ ثابت کر رہا تھا کہ کائنات ایک بالا تر شعور کی کار ایک سائنس داں نے کہا ہے ــــ کائنات کا مادہ ایک ذہن ہے : The stuff of the world is mind-stuff (Eddington)

1927 میں بلجیم کے ایک سائنس داں جارجز لیمسٹری (Georges Lemaitre) نے بگ بینگ (Big Bang) کا نظریہ پیش کیا۔ اس نظریے پر مزید تحقیق ہوتی رہی، یہاں تک کہ اس کی حیثیت ایک مسلمہ واقعہ کی ہوگئی۔ آخر کار 1965 میں بیگ گراؤنڈ ریڈی ایشن (background

(radiation کی دریافت ہوئی۔ اس سے معلوم ہوا کہ کائنات کے بالائی خلا میں لہر دار سطح (ripples پائی جاتی ہیں۔ یہ بگ بینگ کی شکل میں ہونے والے انفجار کی باقیات ہیں۔ ان لہروں کو دیکھ کر ایک امریکی سائنس داں جوئیل پرائمیک (Joel Primack) نے کہا تھا— یہ لہریں خدا کے ہاتھ کی تحریر ہیں :

The ripples are no less than the handwriting of God. جارج اسموٹ 1945 میں پیدا ہوا۔ وہ ایک امریکی سائنس داں ہے۔ اس نے 2006 میں فزکس کا نوبل پرائز حاصل کیا۔ یہ انعام اُن کو کاسمک بیک گراؤنڈ ایکسپلورر، کے لیے کام کرنے پر 1992 میں جارج اسموٹ نے یہ اعلان کیا کہ بالائی خلا میں لہر دار سطحیں پائی جاتی ہیں۔ بینگ کی باقیات ہیں۔ اُس وقت جارج اسموٹ نے اپنا تاثر ان الفاظ میں بیان کیا تھا— یہ خدا کے چہرے کو دیکھنے کے مانند ہے :

George Fitzgerald Smoot III (born February 20, 1945) is an American astrophysicist and cosmologist. He won the Nobel Prize in Physics in 2006 for his work on the Cosmic Background Explorer. In 1992 when George Smoot announced the discovery of ripples in the heat radiation still arriving from the Big Bang, he said it was "like seeing the face of God." (God For The 21st Century, Templeton Press,

مشہور سائنس داں ڈاکٹر اسٹیفن ہاکنگ نے کہا ہے : There is a “grand design” to the universe, but it has nothing to do with God. Science is coming close to “The Theory of Everything” and when it does, we will know the grand design.(Catherine Giordano: Here's Why Stephen Hawking Says There Is No God [www.owlcation.com])

وہ ایک دوسری جگہ کہتے ہیں:

One can't prove that God doesn't exist, but science makes God

کوانٹم فزکس کے نظریے کو اگر اس معاملے پر منطبق کیا جائے تو یہ کہا جاسکتا ہے : Probably, there is a God یہ خالص سائنس کا موقف ہے۔ لیکن جہاں انسان کے وجدان (intuition) کا تعلق ہے۔ اس کی سطح پر خدا کا وجود اتنا ہی یقینی ہے، جتنا کہ انسان کا وجود۔ جب یہ بات ثابت ہو جائے کہ کائنات کی تخلیق کے پیچھے ایک عظیم ذہن (mind) کی کار کائنات کے اندر جو معنویت ہے، جو منصوبہ بندی ہے، جو بے نقص ڈیزائن ہے، وہ حیرت انگیز طور پر ایک اعلیٰ ذہن کے وجود کو بتاتا ہے۔ کائنات میں ان گنت چیزیں ہیں۔ چیز اپنے فائنل ماڈل پر ہے۔ کائنات میں حسابی درستگی اتنے زیادہ اعلیٰ معیار پر پائی جاتی ہے کہ ایک سائنس داں نے کہا کہ کائنات ایک ریاضیاتی ذہن (mathematical mind) کی موجودگی کا اشارہ کرتی ہے۔

اس موضوع پر اب بہت زیادہ لٹریچر تیار ہو چکا ہے، جس کو انٹرنیٹ پر یا لائبریری میں دیکھا کائنات میں انٹیلیجنٹ ڈیزائن ہونے کی ایک مثال یہ ہے کہ ہمارا سولر سسٹم جس میں ہماری زمین واقع ہے، وہ ایک بڑی کہکشاں (galaxy) کا ایک حصہ ہے۔ لیکن ہمارا شمسی نظام کہکشاں کے بیچ میں نہیں ہے، بلکہ اس کے کنارے واقع ہے۔ اس بنا پر ہمارے لیے ممکن ہے کہ ہم محفوظ طور پر زمین پر زندگی گزاریں، اور یہاں تہذیب (culture) کی تعمیر کریں : The centre of the galaxy is a very dangerous place. Being in the outskirts of the galaxy, we can live safely from the hectic activities at the centre. اس حکیمانہ واقعہ کا اشارہ قرآن میں موجود تھا۔ مگر موجودہ زمانے میں سائنسی مطالعے کے ذریعہ اس کی تفصیلات معلوم ہوئیں، جو گویا قرآن کے اجمالی بیان کی تفسیر ہے۔ جب علم کا دریا یہاں تک پہنچ جائے تو اس کے بعد صرف یہ کام باقی رہ جاتا ہے کہ اس دریافت کردہ شعور یا اس ذہن کو مذہبی اصطلاح کے مطابق، خدا(God) کا نام دے دیا جائے۔

Printed page