خدا انسانی فطرت کی آواز ہے
Al-Risala, November 2019, pp. 44–45
By Maulana Wahiduddin Khan
1- فرانس کی ایک فلم ایکٹرس گائنا لولو برائیگیڈا (Gina Lollobrigida) جنوری 1975ء میں ہندوستان آئی تھی۔ ایک پریس کانفرنس میں ایک اخباری رپورٹر سے اس کا سوال وجواب یہ تھا:
To a question whether she believed in God, Gina said: I beleive in God, I believe in God, more when I am on an aeroplane. (The Times of India, 3 January 1975)
ایک سوال کے جواب میں کہ کیا وہ خدا کو مانتی ہے، گائنا نے کہا: میں خدا کو مانتی ہوں، میں خدا کو مانتی ہوں، اس وقت اور بھی زیادہ جب میں ہوائی جہاز میں ہوتی ہوں۔ آدمی جب ہوائی جہاز میں اڑ رہا ہو تو اس وقت وہ مکمل طور پر ایسے خارجی اسباب کے رحم و کرم پر ہوتا ہے جن کے توازن میں معمولی فرق بھی اس کو ہلاک کرنے کے لیے کافی ہے۔ انسان کی یوہی بے چارگی سمندری سفروں میں بھی ہوتی ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: ”کیا تم دیکھتے نہیں کہ کشتی سمندر میں اللہ کے فضل سے چلتی ہے، تاکہ وہ تمہیں اپنی قدرتیں دکھائے۔ درحقیقت اس میں نشانیاں ہیں ہر اس شخص کے لیے جو صبر اور شکر کرنے والا ہو۔ اور جب سمندر میں ان لوگوں کو موجیں بدلیوں کی طرح گھیر لیتی ہیں تو یہ اللہ کو پکارتے ہیں، اپنے دین کو اسی کے لیے خالص کر کے۔ پھر جب وہ بچا کر انھیں خشکی تک پہنچادیتا ہے تو ان میں سے کوئی اعتدال پر رہتا ہے، اور ہماری نشانیوں کا انکار ہی کرتا ہے جو بد عہد اور ناشکرا ہے (32-31: 31)۔
کوئی شخص خواہ کتنا ہی سرکش اور منکر کیوں نہ ہو، جب مشکل حالات پڑتے ہیں تو وہ بے اختیار خدا کو پکار اٹھتا ہے۔ یہی اس بات کا ثبوت ہے کہ خدا انسانی فطرت کی آواز ہے۔ 2- روس میں اشتراکی انقلاب اکتوبر 1917ء میں آیا، اور تقریباً 74 سالوں کے بعد 1991 میں وہ ٹوٹ گیا۔ اس درمیان اشتراکی حکومت نے میڈیا، اور اسکول کو اینٹی مذہب پروپیگنڈے
سے فلڈ (flood) کر دیا۔ اس کے بعد حکومت روس نے ی دعویٰ کیا کہ قدیم مذہبی نظام مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔
اشتراکی نظریے کے مطابق مذہب، سرمایہ داری نظام کا ضمیمہ (appendix) تھا۔ داری نظام کے خاتمہ کے بعد قدرتی طور پر اس کے ضمیمہ کو بھی ختم ہو جانا چاہیے۔ روسی حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس نے سرمایہ داری نظام کو روس سے ختم کر دیا ہے۔ مگر حیرت انگیز بات ہے کہ مذہب اب بھی وہاں زندہ ہے۔ حتیٰ کہ روس کی جدید نسل میں دوبارہ مذہب پروان چڑھ رہا ہے۔ ہ اس سلسلہ میں ایک دلچسپ واقعہ روسی ڈکٹیٹر مارشل اسٹالن (1964-1879) کا ہے۔ اسٹالن خدا کا منکر تھا۔ مگر اس کی زندگی میں ایسے واقعات ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ مشکل اوقات میں وہ بے اختیار خدا کو یاد کرنے لگتا تھا۔ ونسٹن چرچل (1965-1874) نے دوسری جنگ عظیم کے موقع پر اگست 1942 ء میں ماسکو کا سفر کیا تا کہ ہٹلر کے خلاف دوسرا محاذ (سکینڈ فرنٹ) قائم کرنے کے لیے روسی لیڈروں سے گفتگو کرے۔ چرچل نے اس سلسلہ میں اتحادیوں کا فوجی منصوبہ اسٹالن کے سامنے رکھا، جس کا خفیہ نام ٹارچ (Torch) رکھا گیا تھا۔ اسٹالن چونکہ خود بھی ہٹلر کی بڑھتی ہوئی یلغار سے خائف تھا، اس نے اس فوجی منصوبہ میں گہری دلچسپی لی۔ چرچل کا بیان ہے کہ منصوبہ کی تشریح کے ایک خاص مرحلہ پر جب کہ اسٹالن کی دلچسپیاں اس سے بہت بڑھ چکی تھیں۔ اس کی زبان سے نکلا خدا اس منصوبہ کو کامیاب کرے:
“May God prosper this undertaking”