Al-Risala · November 2019

Water, water everywhere, Nor any drop to drink.

Al-Risala, November 2019, p. 48

By Maulana Wahiduddin Khan

جو حال کولرج کے خیالی ملاح کا ہوا، وہی حال امکانی طور پر اس دنیا میں تمام انسانوں کا ہے۔ انسان پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ مگر پانی کا تمام ذخیرہ سمندروں کی صورت میں ہے، جن میں 1/10 حصہ نمک ملا ہوا ہے۔ اس بنا پر سمندر کا پانی اتنا زیادہ کھاری ہے کہ کوئی آدمی اس کو پی نہیں سکتا۔ اس کا حل قدرت نے بارش کی صورت میں نکالا ہے۔ سورج کی گرمی کے اثر سے سمندروں میں تبخیر (evaporation) کا عمل ہوتا ہے۔ سمندر کا پانی بھاپ بن کر فضا کی طرف اٹھتا ہے مگر مخصوص قانون قدرت کے تحت اس کے نمک کا جزء سمندر میں رہ جاتا ہے، اور صرف میٹھے پانی کا جزء اوپر جاتا یہی صاف کیا ہوا پانی بارش کی صورت میں دوبارہ زمین پر برستا ہے، اور انسان کو میٹھا پانی عطا کرتا ہے، جس کی انسان کو سخت ترین ضرورت ہے۔

بارش کا عمل ازالہ نمک (desalination) کا ایک عظیم آفاقی عمل ہے۔ آدمی اگر صرف اس ایک واقعہ پر غور کرے تو اس پر ایسی کیفیت طاری ہو کہ وہ خدا کے کرشموں کے احساس سے رقص

Printed page