Al-Risala · November 2019

ایک تجربہ

Al-Risala, November 2019, pp. 49–51

By Maulana Wahiduddin Khan

اپریل 1986 کو میں نے بھوپال کا سفر کیا۔ یہ سفر تامل ناڈو ایکسپریس کے ذریعہ ہوا اور واپسی کا سفر بذریعہ ہوائی جہاز طے ہوا۔ 19 اپریل کی صبح کو سو کر اٹھا، تو ہماری ٹرین مدھیہ پردیش کے میدانوں میں دوڑ رہی تھی۔ جگہ جگہ درخت اور سبزہ کا منظر تھا۔ صبح کا سورج بلند ہو کر پوری طرح فضا کو روشن کر رہا تھا۔ اس قسم کی ایک دنیا کا وجود میں آنا تمام عجائبات میں سب سے بڑا عجوبہ ایک ایسی دنیا جہاں پانی اور سبزہ ہو، جہاں سورج ایک خاص تناسب سے روشنی اور حرارت پہنچائے، جہاں بے شمار اسباب جمع ہوں، جس نے اس بات کو ممکن بنایا ہے کہ ایک ٹرین تیار ہو، اور زمین کی سطح پر تیز رفتاری کے ساتھ دوڑے۔

بنانے والے نے اس دنیا کو عجیب ڈھنگ سے بنایا ہے۔ یہاں واقعہ دکھائی دیتا ہے، مگر صاحبِ واقعہ نظر نہیں آتا۔ یہاں تخلیق (creation) کا منظر ہر طرف پھیلا ہوا ہے، مگر ان کے درمیان خالق (Creator) بظاہر کہیں موجود نہیں۔ اس صورتِ حال نے بہت سے لوگوں کو خدا کا منکر بنا دیا ہے۔ کہتے ہیں کہ جب ہم خدا کو دیکھتے نہیں، تو ہم کیسے اسے مانیں، مگر خدا کے انکار کے لیے یہ بنیاد کافی نہیں۔ ہم جس ٹرین پر سفر کر رہے ہیں وہ ایک بہت بڑی ٹرین ہے۔ وہ 110 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے مسلسل دوڑ رہی ہے۔ ہم اس کے اندر بیٹھے ہوئے منزل کی طرف چلے جا رہے ہیں۔ ریل کے ڈرائیور کو نہیں دیکھتے۔ اس کا نام بھی ہم کو نہیں معلوم۔ مگر ہمیں یقین ہے کہ گاڑی کا ایک ڈرائیور ہے، اور وہی اس کو چلا رہا ہے۔

ہم کو یہ یقین کیوں ہے۔ منکر خدا کہیں گے، اس لیے کہ اگر چہ ہم ڈرائیور کو نہیں دیکھتے، مگر ہم اس کو دیکھ سکتے ہیں۔ ہمارے لیے یہ ممکن ہے کہ کسی بھی اسٹیشن پر اتر کر انجن کے پاس جائیں، اور وہاں اس کو دیکھیں۔ لیکن یہ محض ایک مغالطہ ہے۔ اگر ہم اسٹیشن پر اتر کر انجن کے پاس جائیں، اور گاڑی کے ڈرائیور کو دیکھیں تو ہم کیا چیز دیکھیں گے۔ ہم صرف ہاتھ پاؤں والے ایک جسم کو دیکھیں گے ۔ کیا یہی دکھائی دینے والا جسم ہے جو گاڑی کو چلا رہا ہے۔ انجن کو چلانے والا دراصل ذہن

ہے، نہ کہ ظای جسم۔ چنانچہ موت کے بعد ڈرائیور کا جسم پوری طرح موجود رہتا ہے، مگر وہ گاڑی کو چلا حقیقت یہ ہے کہ یہاں بھی وہی صورت حال ہے۔ ہم گاڑی کا ایک ڈرائیور مان رہے ہیں، بغیر اس کے کہ ہم نے ڈرائیور کو واقعی طور پر دیکھا ہو۔

موجودہ زمانہ کے منکرین خدا کہتے ہیں کہ یہ دنیا محض اتفاق سے بن گئی ہے۔ اس کا کوئی موجد اور خالق نہیں۔ مگر موجودہ کائنات جیسی با معنی کائنات کا محض اتفاق سے ظہور میں آنا ممکن نہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی کباڑ خانہ میں دھماکہ ہونے سے ایک ایکسپریس ٹرین برآمد ہو جائے یا اچانک ایک ہوائی جہاز بن کر ہوا میں اڑنے لگے۔

لیوس ٹامس (Lewis Thomas) ایک امریکی سائنس داں اور فلسفی ہے۔ اس کی پیدائش 1913 میں ہوئی، اور وفات 1993 میں ہوئی۔ بائیولوجی پر اس کی ایک کتاب ہے۔ میں اس نے زمین کی بابت یہ الفاظ لکھے ہیں ۔ وہ خلا میں لٹکا ہوا، اور بظاہر ہر ایک زندہ کرہ ہے: hanging there in space and obviously alive. (Lewis Thomas, The Fragile Species, Collier, 1993, p. 135)

یہ زمین (planet earth) کی نہایت صحیح تصویر ہے۔ زمین ایک اتھاہ خلا ( vast space ) میں مسلسل گردش کر رہی ہے۔ اسی کے ساتھ زمین کے جو احوال ہیں، وہ انتہائی استثنائی طور پر ایک زندہ کرہ کے احوال ہیں۔ یہ چیزیں اتنی حیرت ناک ہیں کہ اگر ان کو سوچا جائے، تو رونگٹے کھڑے ہو جائیں، اور بدن میں کپکپی طاری ہو جائے۔ زمین میں اور بقیہ کائنات میں اتنی زیادہ نشانیاں ہیں کہ اگر کوئی آدمی ان میں سنجیدگی سے (sincerely) غور کرے، تو یہ کائنات اس کے لیے خدا کی معرفت اور جلال و جمال کا آئینہ بن جائے۔

زیر نظر شمارہ آنے والی کتاب ’’خالق کی دریافت‘‘ کے منتخب مضامین پر مشتمل ہے۔

عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر مولانا وحید الدین خاں کے قلم سے اسلام ایک ابدی حقیقت ہے، لیکن ہر دور میں ضرورت ہوتی ہے کہ اسلامی تعلیمات کو جدید اسلوب میں بیان کیا جائے، تا کہ بدلے ہوئے حالات میں لوگ اسلام کی اہمیت کو دوبارہ دریافت کرسکیں۔ اس مقصد کے لئے مختلف موضوعات پر تیار کردہ ان کتابوں کا مطالعہ کریں، نیز قرآن کے ترجمے اور دعوتی لٹریچر برادرانِ وطن تک پہنچا کر اپنا دعوتی رول ادا کریں۔ کائنات ایک آئینہ ہے، وہ اس لیے ہے تا کہ آدمی اس کے اندر خالق کائنات کو دیکھ سکے اس کے اندر خالق کائنات کے چہرہ کو دیکھ لے۔

Printed page