خود کوزه و خود کوزه گر و خود گل کوزه
Al-Risala, December 2019, p. 4
By Maulana Wahiduddin Khan
یعنی وہ خود ہی کوزہ ہے، خود ہی کوزہ بنانے والا اور خود ہی کوزہ کی مٹی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ معرفت کے حصول میں آدمی کو خود اپنا حج بننا پڑتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ معرفتِ اصلاُ اللہ کی معرفت کا لیکن اس معرفت کا آغاز خود اپنی ذات کی معرفت سے ہوتا ہے۔ کسی عارف نے درست طور پر کہا ہے : مَنْ عَرَفَ نَفْسَهُ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّه (حلیۃ الاولیاء، جلد 10، صفحہ 208)۔ یعنی جس نے اپنے آپ کو جان لیا، اس نے اپنے رب کو جان لیا۔ حدیث میں آیا ہے : خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6227)۔ یعنی اللہ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تم اپنی ذات کے عارف بنو، اپنے خالق کے عارف بن جاؤ گے۔
اللہ کی معرفت کے لیے لازمی شرط یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ حقیقت شناس وہ اپنے آپ کو کٹ ٹو سائز (cut to size) بنائے ۔ وہ یہ جانے کہ اللہ قادرِ مطلق ہے، اور وہ صرف عاجزِ مطلق کی حیثیت رکھتا ہے۔ جب انسان اپنے آپ کو حقیقت واقعہ کی سطح پر پہنچائے، تب وہ اس قابل ہوتا ہے کہ اس کو خدا کی معرفت حاصل ہو سکے۔