انسان کی تخلیق
Al-Risala, December 2019, p. 5
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ الاحزاب میں انسان کی تخلیق کی نوعیت کو بیان کیا گیا ہے۔ ان آیتوں کا ترجمہ یہ ہے: ہم نے امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تو انھوں نے اس کو اٹھانے سے انکار کیا اور وہ اس سے ڈر گئے، اور انسان نے اس کو اٹھا لیا۔ بے شک وہ ظالم اور جاہل تا کہ اللہ منافق مردوں اور منافق عورتوں کو اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو سزا دے۔ مومن مردوں اور مومن عورتوں پر توجہ فرمائے۔ اور اللہ بخشنے والا، مہربان ہے۔ قرآن کی اس آیت میں انسان کی منفرد نوعیت کو بتایا گیا ہے۔ کائنات کی بقیہ تمام چیزوں کا معاملہ یہ ہے کہ ان کو کوئی اختیار حاصل نہیں۔ اللہ کو یہ مطلوب ہوا کہ وہ ایک صاحب اختیار مخلوق پیدا اس منصوبے کے تحت اللہ نے انسان کو پیدا کیا۔ مذکورہ آیت میں امانت سے مراد اختیار (freedom of choice) ہے۔ اس منصوبے کے تحت انسان کو صلاحیتیں دی گئیں، ان کا فطری نتیجہ یہ تھا کہ انسان ایڈونچرسٹ (adventurist) بن گیا۔ یہی وہ حقیقت ہے، جس کو ظلوم و جہول کے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔
انسان کو امانت کی نعمت دینا، انسان کے لیے عظیم رحمت کا معاملہ تھا۔ اس امانت (اختیار) کو پا کر یہ اندیشہ تھا کہ انسان بگاڑ کا شکار ہو جائے ، ان احوال کے اندر ہی وہ مطلوب انسان بنتا ہے، جس کو قرآن میں مومن کہا گیا ہے۔ انسان فرشتہ نہیں، انسان لازمی طور پر غلطی کرتا ہے، لیکن انسان کی عظمت یہ ہے کہ وہ ہر غلطی کے بعد ندامت (repentance) میں مبتلا ہوتا ہے۔ وہ توبہ کرتا ہے، یعنی وہ یوٹرن لیتا ہے۔ اس معاملے میں اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ انسان سے توبہ کو قبول فرمائے گا۔ مزید یہ کہ غلطی کرنا اور پھر تو بہ کرنا کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ ایک ذہنی عمل (intellectual process) ہے، اس کے دوران انسان کی شخصیت اعلیٰ ترقی کے مدارج طے کرتی ہے، اور آخر کار جنت میں داخلے کا مستحق بن جاتی ہے۔