اعلیٰ انسان
Al-Risala, December 2019, p. 15
By Maulana Wahiduddin Khan
دین کی راہ میں قربانی سے عام طور پر جسمانی یا مالی قربانی مراد لی جاتی ہے۔ اوقات اس کا تقاضا ہوتا ہے کہ اپنی ذات کے تقاضوں کی قربانی پیش کی جائے۔ کیوں کہ اس طرح کی قربانی کے بغیر دین کا کوئی بڑا کام نہیں کیا جاسکتا۔ جتنی بڑی قربانی اتناہی بڑا کام۔ ہر آدمی دو قسم کے تقاضوں کے درمیان جیتا ہے— ذاتی تقاضے اور مشن کے تقاضے۔ تقاضے اپنی ذات کے محدود مفاد کے درمیان جینے کے لیے ہوتے ہیں، اور مشن کے تقاضے انسانیت کے وسیع تر مفاد کے لیے ہوتے ہیں۔ عام آدمی اپنی ذات یا اپنی فیملی کے تقاضے پورے کرنے کے لیے جیتا ہے۔ اس کی زندگی اپنے آپ سے شروع ہوتی ہے، اور اپنے آپ ہی پر ختم ہوتی ہے۔ لیکن جس شخص کو اس کا غور وفکر مین آف مشن (man of mission) بنادے، جو اپنی ذات سے اوپر اٹھ کر اعلیٰ مشن کے لیے جینے والا بن جائے ۔ اس کی زندگی بالکل بدل جاتی ہے۔ وہ دوسرے انسانوں جیسا ہوتا ہے، لیکن حقیقت کے اعتبار سے وہ ایک مختلف انسان بن جاتا ہے۔ اس کی سوچ، اس کی دوڑ دھوپ، اس کی توانائی کا استعمال اپنی ذات سے اوپر اٹھ کر اعلیٰ مشن کے لیے وقف ہو جاتا ہے۔ اگر وہ مومن ہے، تو اللہ رب العالمین کے لیے، اگر وہ عام انسان ہے، تو اس کی تو جہات کا مرکز انسانی بہبود بن جاتا ہے۔
انسان دراصل وہی ہے، جو مین آف مشن ہو۔ جس کے مطالعہ اور غور و فکر نے اس کو عمل کا ایک برتر نشانہ دے دیا ہو۔ جس کے صبح و شام ایک اعلیٰ مقصد کے لیے وقف ہو گئے ہوں ۔ جس کے فکر اور عمل کا مرکز ایک برتر مقصد بن گیا ہو۔ جو اسی مقصد کو لے کر رات کو سوئے، اور اسی مقصد کو لے کر صبح کو اٹھے۔ جو ٹھہرے تو اسی مقصد کے لیے، اور چلے تو اسی مقصد کے لیے۔ یہی وہ انسان ہے، جو صحیح معنوں میں انسان کہے جانے کا مستحق ہے۔ عام انسان اپنے ماحول کی پیداوار ہوتا ہے۔ جو کلچر اس کو اپنے ماحول سے ملا، اسی کو وہ اپنا کلچر بنا لیتا ہے۔