Al-Risala · December 2019

اصلاح کا آغاز

Al-Risala, December 2019, p. 16

By Maulana Wahiduddin Khan

عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ لوگ اصلاح کا آغاز تنقیدی عمل سے کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں یہ ہوتا ہے کہ شروع ہی میں فریقین کے درمیان نزاع کا ماحول بن جاتا ہے، اور پھر اصلاح کا کام صحیح انداز سے نہیں ہو پاتا۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ اصلاح کا آغاز ایڈجسٹمنٹ (adjustment) سے اس معاملے میں ایڈجسٹمنٹ دراصل غیر نزاعی (non-controversial) طریقے کا دوسرا نام ہے۔ اجتماعی اصلاح کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنے ماحول میں عمل کا آغاز نزاع سے نہ کرے، اس کے برعکس، وہ یہ کرے کہ موافق پہلو سے اپنے عمل کا آغاز کر کے بتدریج غیر موافق پہلو کی طرف جائے۔

جو شخص بھی اپنے ماحول میں اصلاح کا کام کرنا چاہتا ہو، اس کو ہمیشہ نتیجہ خیز (result oriented) طریقہ اختیار کرنا چاہیے، یعنی جو طریقہ مفید نتیجہ پیدا کرے، اس کے مطابق اپنے عمل کی منصوبہ بندی کرنا، اور جو طریقہ مثبت نتیجہ پیدا نہ کرے، اس سے درگزر کرنا۔ تجربہ بتاتا ہے کہ نزاعی طریقہ ہمیشہ بے نتیجہ رہتا ہے، اور غیر نزاعی طریقہ ہمیشہ مفید نتیجہ پیدا کرتا ہے۔ اصلاح کا کام عملاً یہ ہے کہ دوسرا آدمی اپنے خلاف بات کو سنے، اور اس کو اپنائے۔ اصلاح کا عمل ہمیشہ ذاتی احتساب بن جاتا ہے، اور ذاتی احتساب ایک ایسی چیز ہے، جو کبھی نزاعی انداز میں کامیاب نہیں ہوتی۔ ذاتی احتساب کے عمل کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے ضروری ہے کہ جو کچھ کیا جائے، وہ غیر نزاعی انداز میں کیا جائے۔

اس سلسلے کے تمام تجربات یہ بتاتے ہیں کہ جب بھی نزاع کا طریقہ اختیار کیا گیا، تو اختلاف بڑھا، اور جب بھی غیر نزاعی طریقہ اختیار کیا گیا تو لوگوں کے اندر اصلاح کا عمل جاری ہوا۔ یہ نتیجہ اپنے آپ میں اس بات کا ثبوت ہے کہ غیر نزاعی طریقہ ہمیشہ نتیجہ خیز ہوتا ہے، اور نزاعی طریقہ ہمیشہ بے نتیجہ بن کر رہ جاتا ہے۔

Printed page