Al-Risala · December 2019

محرر کی ایک صفت

Al-Risala, December 2019, p. 25

By Maulana Wahiduddin Khan

تحریر کی ایک صفت وہ ہے، جس کو ادبی اعتبار سے روانی (fluent language) اور مضمون کے اعتبار سے بندھی ہوئی زبان (compact language) کہا جاتا ہے۔ یہ کسی تحریر کی ایک خصوصی صفت ہے۔ یہ صفت جس تحریر میں ہو، وہ سمجھنے کے اعتبار سے زود فہم ( easily understandable) ہوگی، اور پڑھنے کے اعتبار سے دلچسپ مطالعہ (interest reading کی صفت کا حامل ہوگی۔

یہ کسی تحریر کی ایک امتیازی صفت ہے۔ یہ صفت کسی مصنف میں اس وقت پیدا ہوتی ہے، جب کہ کثرت مطالعہ کی وجہ سے وہ اپنے موضوع پر پوری طرح حاوی (be in control متعلقہ موضوع پر اس کا مطالعہ اتنا جامع ہو کہ وہ جب لکھے، اور بولے تو وہ زیر بحث موضوع کا کامل احاطہ کیے ہوئے ہو۔

جس تحریر میں یہ صفت ہو، اس کے اندر بہت زیادہ وضوح (clarity) ہوگا۔ جو شخص اس کو پڑھے گا، وہ کسی مقام پر اٹکے بغیر صاحب تحریر کی بات کو بخوبی طور پر سمجھ لے گا۔ یہ کسی تحریر کی ایک اعلی صفت ہے۔ یہ اعلی صفت کسی شخص کے اندر اس وقت پیدا ہوتی ہے، جب کہ کثرت مطالعہ کی وجہ سے زیر بحث مضمون پوری طرح اس کی گرفت میں آ جائے۔ کثرت مطالعہ کی وجہ سے اٹ پٹاپن اس کی تحریر سے ختم ہو جائے۔ وہ جو کچھ کہے یا لکھے، وہ دوسروں کے لیے دو اور دو برابر چار کی طرح واضح ہو جائے۔ اس کا کلام پوری طرح گنجلک سے خالی ہو۔ کلام کی اس صفت کو ہندی میں سرل بھاشا کہا جاتا ہے۔

یہ مطالعہ علمی ہونا چاہیے، نہ کہ صحافتی۔ علمی مطالعہ وہ ہے، جو موضوعی (objective) ہو، جو جو کسی تعصب (bias) کے بغیر کیا گیا ہو، جس مطالعے میں سائنٹفک ٹمپر ( scientific temper) کی صفت پائی جائے۔

Printed page