Al-Risala · December 2019

عقیدہ اور بین اقوامی معاملات

Al-Risala, December 2019, pp. 28–32

By Maulana Wahiduddin Khan

ہجرت نبوی کے چھٹے سال حدیبیہ کا واقعہ پیش آیا۔ اسلام میں حدیبیہ کا واقعہ ایک تاریخ ساز حدیبیہ کا واقعہ پورے معنوں میں ایک سنت رسول ہے۔ حدیبیہ کے موقعہ پر جو واقعات ان میں سے ایک واقعہ وہ ہے جو بین اقوامی معاملات کے لیے ایک بنیادی اصول کی حیثیت رکھتا ہے۔

حدیبیہ کے موقعہ پر رسول اللہ اور قدیم مکہ کے مشرک لیڈروں کے درمیان صلح کی گفت و شنید (negotiation) شروع ہوئی۔ یہ گفت و شنید تقریباً دو ہفتہ تک جاری رہی۔ جب اس کی شرطیں طے ہو گئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کاغذ پر صلح نامے کے دستاویز لکھوانا شروع آپ نے علی بن ابی طالب سے کہا: اُکْتُبْ یَا عَلِيُّ: عَلِیُّ:ہَذَا مَا صَالََحَ عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ (اے علی لکھو، یہ وہ شرائط ہیں جس پر محمد رسول اللہ نے صلح کی)۔ سہیل بن عمر و جو اس وقت مشرک قیادت کی نمائندگی کر رہے تھے، انھوں نے کہا کہ ہم آپ کو اللہ کا رسول نہیں مانتے، آپ وہ لکھیے جس کو ہم مانتے ہیں (اكْتُبْ فِي قَضِيَّتِنَا مَا تَعْرَفُ)۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اعتراض کو مان لیا، اور کہا خدا کی قسم میں جانتا ہوں کہ میں اللہ کا رسول ہوں، لیکن اے علی تم رَسُولُ اللہ کا لفظ مٹاؤ اور اس کی جگہ لکھو محمد بن عبد اللہ۔ علی ابن ابی طالب نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد روایت کے الفاظ یہ ہیں: فَقَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرِنِي مَكَانَهُ، حَتَّى أَمْحُوَهُ، فَمَحَاہُ، وَکَتَبَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الله (تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا، مجھے اس لفظ کی جگہ دکھاؤ، تا کہ میں خود اس کو مٹادوں، پھر رسول اللہ نے خود اپنے ہاتھ سے اس لفظ کو مٹا دیا، اس کے بعد علی نے اس جگہ پر محمد بن عبداللہ لکھا)۔ تفصیل کے لیے دیکھیے صحیح البخاری (حدیث نمبر 3184)، صحیح مسلم (حدیث نمبر 1784-1783)، مسند احمد (حدیث نمبر 16800)، صحیح ابن حبان (حدیث نمبر 4869)، وغیرہ۔

یہ واقعہ دوسری سنتوں کی طرح ایک سنت رسول ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملے میں ڈی لنکنگ (de-linking) کی پالیسی اختیار کی۔ عقیدہ اور بین اقوامی معاملے کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا۔ آپ نے فریقِ ثانی کے مسلمہ کے مطابق معاہدہ لکھوایا، نہ کہ خود اپنے عقیدہ کے مطابق۔

اسی طرح کی ایک مثال یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری زمانے میں عرب کے دو آدمیوں نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ ایک یمامہ کا مسیلمہ بن حبیب، اور دوسرا صنعاء کا اسود بن کعب مسیلمہ نے 10 ہجری میں ایک خط رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا۔ اس خط کا مضمون یہ تھا: اللہ کے رسول مسیلمہ کی جانب سے اللہ کے رسول محمد کے نام، سلام علیک، اما بعد، بے شک میں نبوت کے معاملے میں آپ کے ساتھ شریک کیا گیا ہوں، اس لیے نصف زمین ہمارے لیے اور نصف زمین قریش کے لیے۔ مسیلمہ کی طرف سے دو قاصد اس کا یہ خط لے کر مدینہ آئے۔ ان کا نام ابن النواحہ اور ابن اُثال تھا۔ جب مسیلمہ کے دونوں قاصد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، تو رسول اللہ نے کہا: کیا تم دونوں بھی وہی کہتے ہو جو وہ کہتا ہے۔ دونوں نے کہا کہ ہاں۔ آپ نے فرمایا کہ اگر یہ بات نہ ہوتی کہ قاصدوں کو قتل نہیں کیا جاتا تو میں تم دونوں کی گردنیں کٹوادیتا (لَولَا أَنَّ الرُّسُلَ لَا تُقْتَلُ لَضَرَبْتُ أَعْنَاقَكُمَا ) ۔ راوی حضرت عبد اللہ بن مسعود کہتے ہیں: فَجَرَتْ سُنَّةٌ أَنْ لَا يُقْتَلَ الرَّسُولُ ۔ یعنی پھر یہ سنت جاری ہو گئی کہ قاصدوں کو قتل نہیں کیا جائے گا ( دیکھیے ، سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 2761 ، مسند احمد، حدیث نمبر 3708)۔

ان سننِ رسول سے اسلام کا ایک نہایت اہم اصول معلوم ہوتا ہے۔ ان سے یہ اصول اخذ ہوتا ہے کہ اہل ایمان عقیدہ کے معاملے میں اپنے عقیدہ پر قائم رہیں گے۔ لیکن جہاں تک بین اقوامی معاملات کا تعلق ہے، اس میں اہل ایمان بین اقوامی اصولوں (international norms) کو اسی طرح مانیں گے، جس طرح دوسرے لوگ ان کو مانتے ہیں۔ یہ اصول ان تمام معاملات پر قابلِ عمل ہوگا جو بین اقوامی تعلقات پر مبنی ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ بین اقوامی معاملات میں بین اقوامی رواج پر عمل کیا جائے گا۔ میں بین اقوامی تعلقات کے لیے کچھ رواج ہوتے ہیں۔ موجودہ زمانے میں بھی اس قسم کے بہت سے رواج ہیں۔ اب اقوام متحدہ نے ان کو زیادہ منظم صورت دے دی ہے۔ اس قسم کے تمام رواج مسلم ملکوں میں بھی اسی طرح قابل احترام ہوں گے، جس طرح غیر مسلم ملکوں میں ان کو قابل احترام سمجھا البتہ اگر اس قسم کے معاملات میں کوئی ایسی چیز یا رواج پایا جائے، جو صریحاً حرام ہو۔ بین اقوامی میٹنگوں میں شراب پیش کرنا، تو اس مخصوص جز کی حد تک اس کی پیروی نہیں کی جائے گی۔ بیسویں صدی کے وسط میں اقوام متحدہ (United Nations) کی تشکیل ہوئی۔ قوموں نے اس تنظیم کی ممبر شپ قبول کی۔ اس تنظیم کے تحت 10 دسمبر 1948 کو ایک منشور تمام قوموں کے اتفاق رائے سے منظور کیا گیا۔ جس کا ٹائٹل یہ تھا— دی یونیورسل ڈکلریشن آف ہیومن

The Universal Declaration of Human Rights(UDHR)

اب یہی منشور تمام قوموں کے اوپر نافذ ہوگا۔ اس معاملے میں کسی ملک کے لیے اپنی الگ پالیسی بنانے کا جواز نہیں۔ یہ منشور مسلم ملکوں کے لیے بھی اسی طرح قابل عمل ہے، جس طرح وہ غیر مسلم ملکوں کے لیے قابل عمل ہے۔

انھیں معاملات میں سے ایک معاملہ وہ ہے، جس کو اقلیاتی حقوق (minority rights) کہا جاتا ہے۔ مسلم ملکوں میں غیر مسلم لوگ ایک مذہبی اقلیت کے طور پر آباد ہیں۔ اسی طرح غیر مسلم ملکوں میں مسلمان ایک مذہبی اقلیت کے طور پر رہتے ہیں ۔ ان دونوں معاملات میں یکساں طور پر بین اقوامی اصول کی بنیاد پر معاملہ کیا جائے گا۔

مروجہ مسلم فقہ میں اس معاملے میں ذمی کا تصور پایا جاتا ہے۔ ذمی کا مطلب ہے پروٹیکٹڈ کمیونٹی (protected community)، یعنی مسلم ملکوں میں رہنے والی غیر مسلم اقلیت۔ موجودہ فقہ کے مطابق، اس ذمہ (protection) کے عوض ذمی لوگوں کو ایک مخصوص ٹیکس (جزیہ) ادا کرنا ہوتا

ذمی کے تصور کو اسلامی عقیدہ کی طرح ایک ابدی تصور سمجھا جاتا ہے، مگر یہ درست نہیں۔ موجودہ زمانے میں شہریت (citizenship) کا جو تصور ہے۔ اس کے مطابق، جدید ذہن کے لیے ذمی کا تصور بالکل ناقابلِ قبول ہے۔ خود مسلمان خواہ ذمی کے تصور کو کتنا ہی زیادہ اعلیٰ تصور بتائیں، وہ جدید ذہن کے لیے ایک توہین آمیز اصطلاح ہے۔ ان کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلم ملک میں رہنے والے غیر مسلم کا جو مقام ہے وہ ثانوی درجے کے شہری ( second class citizen) کا مقام ہے۔ جدید ذہن کے نزدیک اگر چہ پیغمبر اسلام نے حجۃ الوداع کے موقعہ پر مساوات انسانی کا اعلان کیا۔ لیکن جہاں تک مسلم ریاست کا تعلق ہے، اس کے اندر غیر مسلموں کو مساوی درجہ حاصل نہیں۔ ان کے لیے صرف یہ چوائس ہے کہ وہ یا تو مسلم ریاست میں ثانوی درجے کی شہری بن کر رہیں یا ریاست کو چھوڑ کر باہر چلے جائیں۔

مگر حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں اسلام کا اصول وہی ہوگا، جو عالمی قانون کے مطابق، تمام قوموں کا اصول ہے۔ اس کی اصل خود دورِ اول میں موجود ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ پہنچے، تو آپ نے وہاں کے لوگوں سے ایک معاہدہ کیا۔ اس کو اسلام کی تاریخ میں صحیفہ المدینہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس میں یہود کے تعلق سے یہ الفاظ ہیں: وَإِنَّ يَهُودَ ... أُمَّةٌ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ، لِلْيَهُودِ دِينُهُمْ، وَلِلْمُسْلِمِينَ دِينُهُمْ (سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 503)۔ یعنی بیشک یہود...، مومنین کے ساتھ، ایک امت ہیں۔ یہود کے لیے ان کا دین ہے، اور مسلمانوں کے لیے ان کا دین۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نئے شہری نظام کے تحت دونوں کا درجہ یکساں ہوگا۔ گویا کہ یہ عین وہی چیز ہے جس کو موجودہ زمانے میں یکساں شہریت (equal citizenship) کہا جاتا ہے۔

مسلم فقہ کا ایک مسلم اصول یہ ہے: الأحكام تتغيّر بتغيّر الزّمان والمكان (تيسير علم الفقہ یعنی زمان و مکان کے بدلنے سے احکام بدل جاتے ہیں۔ اس اصول کے انطباق کی مثالیں ماضی میں بھی ہیں اور حال میں بھی۔ ماضی میں اس کی مثال بنی قریظہ کے لیے سفر کا واقعہ ہے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 946)۔

حال کی نسبت سے اس اصول کے انطباق کی متعدد مثالیں موجود ہیں۔ مثال کے طور پر قرآن میں ہے کہ حج کے لیے مکہ آنے والے اونٹ پر سفر کر کے آئیں گے (الحج، 27: 22)۔ تمام مسلمان، علماء اور غیر علماء، ہوائی جہاز سے سفر کر کے مکہ پہنچتے ہیں۔ اسی طرح قرآن میں مسلم حکومت کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ قوت کے لیے خیل (cavalry) فراہم کرو (الانفال، 8:60)۔ لیکن آج مسلم حکومتیں جدید اسلحہ فراہم کرتی ہیں، وغیرہ۔ موجودہ زمانہ مکمل طور پر ایک بدلا ہوا زمانہ ہے۔ ہے کہ عقیدہ کے سوا بقیہ معاملات میں بھی حسب ضرورت اس کو اختیار کیا جائے۔ اسلامی احکام کے دو حصے ہیں۔ ایک وہ جن کا تعلق الدین (الشوری، 13: 42) سے ہے۔ اور اس کا دوسرا حصہ وہ ہے جس کا تعلق شریعت (المائدہ، 5:48) سے ہے۔ الدین کا حصہ ابدی اس میں کسی تبدیلی کی اجازت نہیں۔ لیکن شریعت کا حصہ ابدی نہیں، وہ حالات کے مطابق بدلا یہ تبدیلی اجتہاد کی شرطوں کے مطابق کی جائے گی۔

دنیا میں ہر آدمی کے لیے کوئی نہ کوئی نقصان مقدر ہے۔ دانش مند وہ ہے، جو نقصان کو خدا کا فیصلہ سمجھ کر اس پر راضی ہو جائے۔

پرامن جدوجہد کا نام جدوجہد ہے، متشددانہ جدوجہد سرے سے کوئی جدوجہد ہی

دشمن سے مقابلہ کرنے کی سب سے زیادہ کامیاب تدبیر یہ ہے کہ دشمن کو اپنا دوست بنا لیا جائے۔

دوسروں کو دوست بنانے کی سب سے زیادہ آسان تدبیر یہ ہے کہ آپ دوسروں سے نفرت کرنا چھوڑ دیجیے۔

آپ دوسروں کی ضرورت بن جائیں، تو آپ کو دوسروں سے شکایت نہ ہوگی۔

Printed page