Al-Risala · December 2019

ادبی انقلاب

Al-Risala, December 2019, pp. 36–40

By Maulana Wahiduddin Khan

نیوٹن (1727ء-1642ء) کی دریافتوں کے نتیجہ میں جو عظیم ذہنی انقلاب ہوا، اس کے بعد یورپ میں ایک ترقی یافتہ تکنیک وجود میں آئی، اور پھر مطالعہ کے قطعی طریقے (exact methods) پیدا ہوئے، جن کو مسائل پر منطبق کیا جانے لگا۔ اس نہج نے فلسفہ، الہیات اور سیاسیات کے طریق مطالعہ کو متاثر کیا۔ اس باب میں ہم ادب پر اس انقلاب کے اثرات کا مطالعہ

سائنسی علم (scientific knowledge) سے پیدا شدہ صورت حال نے لکھنے والوں پر قابلِ لحاظ اثر ڈالا ہے۔ شکسپیر (1616ء-1564ء) جو کچھ پورے اعتماد اور سنجیدگی کے ساتھ لکھ سکتا تھا، وہ ملٹن (1674ء-1608ء) کے لیے ناممکن اور الگزیڈر پوپ (1744ء-1688ء) کے لیے ناقابل قیاس تھا، اگر چہ ادبی صلاحیتوں (literary talents) کے اعتبار سے تینوں یکساں بلندی کے انسان تھے۔ شکسپیر کو تینوں میں سب سے اونچا مقام حاصل ہوا۔ اس کی کم از کم جزئی وجہ یہ تھی کہ اسے ایک خوش قسمت عہد (fortunate period) ملا۔ وہ انگریزی زبان کے ایک عظیم دور کے آغاز میں اور عظیم ذہنی انقلاب سے پہلے پیدا ہوا۔ جس زمانہ میں اس نے اپنی تحریریں لکھیں، اس وقت استعار اتی انداز اہمیت رکھتا تھا، جونیوٹن کے بعد اسے پھر حاصل نہ ہو سکا۔ تمثیل موجودہ زمانہ میں دو قسم کی ہو سکتی ہے۔ ایک تمثیل وہ ہے، جو سائنس داں کے لیے عملی نمونہ (working model) کا کام دیتی ہے۔ ایٹم کا قدیم تصور کہ وہ بالکل گول ہے، انتہائی سخت اسی قسم کا ایک ماڈل تھا۔ بعد کور درفورڈ (1938ء-1871ء) کا ایٹمی تصور بھی اس کی ایک مثال تھا، جس کے مطابق اس کے اندر ایک ایٹمی نیو کلیس تھا، جو مثبت برقی چارج رکھتا تھا، اور اس کے گرد الکٹران (electron) سیاروں کی طرح حرکت کر رہے تھے۔ تمثیل کی یہ قسم تجزیات سے حاصل شدہ علم کے خلاصہ کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ اگر اندازہ درست ثابت ہو تو ماڈل باقی رہتا ہے، اور

اگر اندازہ درست ثابت نہ ہو تو ماڈل کی یا تو تصحیح کی جاتی ہے یا اسے ختم کر دیا جاتا ہے۔ ادبی کنایہ (literary analogy) جو عام طور پر تشبیہ کی شکل میں ہوتا ہے، اس کا مقصد بالکل مختلف ہوتا ہے۔ یہ اس لیے وضع کیا جاتا ہے کہ قاری کو ایک بیان کی صداقت کے بارے میں ایک دلچسپ مثال کے ذریعے متاثر کیا جائے۔ سائنسی ماڈل کے مقابلہ میں یہ بالکل وقتی نوعیت کی سائنسی ماڈل سائنس داں کے اندازوں کو ظاہر کرنے کے لیے اس وقت تک استعمال کیا جاتا ہے، جب تک وہ غلط ثابت نہ ہو جائے۔ مزید یہ کہ ادبی تمثیل اپنی ذات میں کوئی ایک چیز دوسرے لفظوں میں یہ کہ وہ حقیقی نہیں سمجھی جاتی۔

تاہم عظیم ذہنی انقلاب سے پہلے یہ دو قسم کی تمثیلات ایک دوسرے سے بالکل الگ الگ نہیں تھیں ۔ یہ سمجھا جاتا تھا کہ اخلاقی نظام ہر اعتبار سے نہایت گہرائی کے ساتھ طبیعی دنیا سے مربوط جب شکسپیئراپنے ایک ڈرامہ کے کردار کی زبان سے فوجی نظم و ضبط پر استدلال کرتے ہوئے اس سے کہتا ہے کہ سورج سیاروں کے درمیان کمانڈر کی سی پوزیشن رکھتا ہے تو وہ محض ایک تشبیہ نہیں دیتا بلکہ اپنے یقین کے مطابق وہ کائنات کی فطرت کے بارہ میں ایک صحیح سائنسی بیان دیتا ہے۔ خدائی نظام کا ایک جز تھا کہ سورج سیاروں کے اوپر حکمراں ہو، اور اسی طرح Agamemnon یونانیوں کے اوپر حکومت کرے، اور ان دونوں میں سے کسی کی حکمرانی میں بھی فرق آنا وسیع تر کائنات میں خلل پیدا کرنے کا سبب بن سکتا تھا:

The rise of science led to a separation of reason from emotion: and naturally enough, an age of prose followed an age of poetry. (p. 108)

سائنس کے عروج نے عقل اور جذبات کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا، اور فطری طور پر شاعری کے دور کی جگہ نثر کے دور نے لے لی۔

سترھویں صدی کے وسط سے پہلے نثر بھی رنگین اور شاعرانہ طرز کی ہوتی تھی۔ (1667_ اور ایڈیسن (1719_ 1672) کے وقت سے یہ محض سخن سازی سمجھی جانے لگی۔

ما قبل سائنس کے استعاراتی انداز کی ایک مثال لائیلی (1606_1554) کی کتاب (Euphues) میں ملتی ہے۔ یہ کتاب پہلی بار 1579 میں شائع ہوئی۔ اس وقت وہ ایک پسندیدہ کتاب تھی، اپنے اسٹائل کے اعتبار سے بھی اور اخلاقی مضامین کے اعتبار سے بھی۔ 1636 تک وہ بار بار چھپتی رہی۔ اس کے بعد عام قارئین میں اس نے اپنی جاذبیت کھودی اور محض ایک ادبی عجوبہ (literary (curiosity بن کر رہ گئی۔

1650 تک ایک شخص انگلش لٹریچر میں عالم خیال اور عالم فطرت کے درمیان کاملیت (wholeness) پاتا ہے۔ اس صدی کے وسط سے دونوں کے درمیان خلیج پیدا ہونا شروع ہوئی، اور آرٹ اور سائنس کی تقسیم کی شکل میں دونوں الگ الگ ہو گئے۔ اس کے بعد انگریزی میں ایک سادہ اور استعارہ اور کنایہ سے خالی انداز پیدا ہونے لگا، جس کی سب سے بڑی وجہ یورپ میں سائنس کی طرف بڑھتا ہوا رجحان تھا۔

سادگی اظہار(simplicity of expression) پیدا ہونے کی اور بھی وجہیں تھیں۔ سترہویں صدی میں جب تعلیم بڑھی، تو یونان اور لاطینی کلاسیکل کتابوں کے مقابلہ میں لوگ زیادہ تر فلکیات، بحریات، جہاز سازی اور گھڑی سازی کے مطالعے میں دلچسپی لینے لگے۔ اس طرح فطری طور پر سادہ زبان کا رجحان بڑھا۔ کیونکہ یہ مضامین شاعرانہ طرز کے ادب میں بیان نہیں کیے جا سکتے پچھلے سو برس میں اخبار کی زبان بھی اس سے متاثر ہوئی ہے۔ تعلیمی انفجار (literary (explosion کے بعد عوامی صحافت (popular journalism) پیدا ہوئی، اور اسٹائل میں سادگی آتی چلی گئی۔ سترھویں صدی کے بعد پیدا ہونے والے ادب کو ٹھیک ٹھیک حقائق (precise (facts بیان کرنے تھے۔ اس لیے سادہ اندازِ بیان کا پیدا ہونا بالکل فطری تھا۔ سپراٹ (Sprat) نے 1667 میں (History of Royal Society) لکھی، اور اس میں نثر کے اسٹائل کے اصول مقرر کیے۔ اس میں اس نے لکھا کہ ہم کو فطری طرز کلام (natural (way of speaking اختیار کرنا چاہیے جس میں ریاضیاتی ڈھنگ کی واقعیت ہو، اور لفظی رنگینیوں

سے خالی ہو۔ 1664 میں رائل سوسائٹی نے بالقصد ایک کمیٹی قائم کی جس کا مقصد یہ تھا کہ انگریزی زبان کے اسٹائل میں اصلاح کی کوشش کرے۔

اس وقت کے یورپ میں عوامی لہر پوری طرح شعر، استعارہ اور شاعرانہ نثر (poetic prose) کے خلاف تھی۔ فلاسفہ عام طور پر اس طرح کے بیان کو سچائی (truth) میں ایک رکاوٹ ہابس (1679-1588) کے نزدیک وہ سیدھے فکر (straight thinking) میں خلل پیدا کرنے والا تھا۔ روسو (1778-1712) نے کہا تھا کہ ڈیکارٹ (1650-1596) کے فلسفہ نے شاعری کو قتل کر دیا ہے۔ جان لاک (1704-1632) نے صاف طور پر کہا کہ شاعری خوبصورت تصویروں کا مجموعہ ہے، مگر وہ بنیادی طور پر گمراہ کن ہے۔ ملٹن آخری شاعر تھا جو قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا، اور سرٹامس براؤن (1682-1606) شاید آخری شخص تھا، جس نے اس طرز کی نثر لکھی۔ ٹامس براؤن ایک تعلیم یافتہ شخص تھا۔ مگر وہ قدیم طرز کی زبان استعمال کرتا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ خواہش کے باوجود رائل سوسائٹی کا فیلو نہ بنایا جا سکا۔ اس وقت کے اہل فکر ایک ایسی نثر وجود میں لانا چاہتے تھے جو فلسفہِ فطرت کے نئے میکانکی تصور سے ہم آہنگ ہو :

They were interested in the development of prose style in accordance with new mechanical concepts of natural philosophy. (p. 117)

نثر میں سادگی پیدا کرنے کی تحریک کا سہرا خاص طور پر جان ڈرائیڈن (1700-1631) کے سر ہے۔ اس نے مسلسل اس کی تبلیغ کی، اور خود سادہ نثر استعمال کی۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ جدید انگریزی در حقیقت ڈرائیڈن کی زبان ہے۔

اٹھارویں صدی کو ’’ایج آف ریزن‘‘ کہا جاتا ہے۔ نیوٹن کے بعد محسوس کیا گیا کہ جس طرح عالم افلاک میں نظم و ضبط ہے، اسی طرح لٹریچر کو بھی نظم و ضبط کا پابند ہونا چاہیے۔ (1606-1687) اور ڈرائیڈن نے شاعرانہ زبان کے ذریعہ تاثیر پیدا کرنے کے بجائے یہ

کوشش کی کہ متوازن خیالات(well-balanced thoughts)کو معتدل اور مناسب زبان میں ادا کر کے یہ فائدہ حاصل کیا جائے۔

ایڈیسن(1719-1672) نے اپنی کتاب(The Spectator) میں انھیں خیالات کی اس ادبی تحریک (literary move) نے ارسطو کو دوبارہ اہمیت کا مقام دے دیا۔ پوپ نے فطرت (nature) کی پیروی کی تلقین کی، انگریزی شاعر ورڈسورتھ ( William Wordsworth) کی بیان کردہ فطرت کی نہیں، بلکہ وہ فطرت جس کو نیوٹن نے دریافت کیا تھا۔ ولیم بلیک(1827-1757) نے اس کے خلاف احتجاج کیا۔ وہ شاعر (poet) کو اسی قسم کی ایک مخلوق سمجھتا تھا، جیسے قدیم اسرائیلی پیغمبر۔ اسی طرح ورڈسورتھ(1850-1770) نے بھی اس کے خلاف احتجاج کیا۔ اس نے کہا کہ حقیقت کی کچھ اور قسمیں ہیں، جو ان مادی صداقتوں کے علاوہ ہیں، جن کو سائنس داں بیان کرتے ہیں۔ یہ دوسری قسم کی صداقتیں وہ ہیں جن تک صرف شاعر کی پہنچ ہو سکتی ہے۔

رومانوي تحریک (Romantic Movement) ایک معنی میں نیوٹنی قطعیت (Newtonian Certainty) کے خلاف شاعرانہ ردِ عمل تھی، اور ہابس کے خلاف جس نے کہا تھا کہ انسان بنیادی طور پر ایک مشین ہے۔ رومانیت(Romanticism) ایک قسم کی فراریت رومانیت شاعری کے اندر 1798 سے جنگ عظیم 18-1914 تک رہی۔ اب یورپ میں تین سو سالہ دور کا ردِ عمل ہورہا ہے۔ صنعتی دور کی خشکی سے اکتا کر وہ سائنس کے ساتھ آرٹ کی اہمیت کو بھی تسلیم کر رہا ہے۔ سترھویں صدی میں سائنس نے زبردست ترقی کی تھی۔ آرٹ نے بھی قدیم زمانہ میں بہت بلند مقام حاصل کیا تھا۔ ہوسکتا ہے مستقبل میں وہ دوبارہ اپنے مقام پر لوٹ آئے۔

(جان فریڈرک ویسٹ(John Frederick West) کی کتاب دی گریٹ انٹلکچول ریولیوشن کے ایک باب استعارہ کی موت [The Death of Metaphor] کا ترجمہ)

Printed page