سوال و جواب
Al-Risala, December 2019, pp. 43–46
By Maulana Wahiduddin Khan
میں پاک کے عصر سے باہر آگیا ہوں ۔ یہ ہرمیں رنگ ہیں۔ میں ایک عرصے سے آپ کے مضامین اردو اور انگریزی میں پڑھتا ہوں، اور انٹرنیٹ پر آپ کی تقریریں سنتا ہوں۔ میرا سوال یہ ہے کہ الہام کی حقیقت کیا ہے؟ یہ وحی سے کس طرح جدا (اظہر مبارک، بھاگل پور، بہار)
اس سلسلہ میں غور کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح جو کہ قسم ، مس ، ملی ، مبتلا، اس معاملے پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح وحی کی دو قسمیں ہیں ــــ وحی متلو، اور وحی غیر متلو۔ اسی طرح الہام کی بھی دو قسمیں ہیں ــــ اجتہاد اور انسپریشن (inspiration) ہے ۔ میں یہ نہ کہوں کہ اس کی روح ان میں ہے | اب ہمارا پرس ہے، یہ رز
قسم کے معاملات پیغمبر کے ساتھ بھی ہوتے ہیں، اور غیر پیغمبر کے ساتھ بھی۔ اس مکی مثالیں غور کرنے سے سمجھ میں آتی ہیں۔ مثلاً کی دور میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نہایت غیر معمولی قسم کی حکیمانہ تدبیر اختیار کی، جس کو ڈی لنکنگ (delinking) کہا جاسکتا ہے، یعنی مکہ کے بت پرست زائرین سے ٹکراؤ نہ کرنا، بلکہ ان کو دعوت کے آڈینس (audience) کے طور پر استعمال کرنا۔ یہ ایک غیر معمولی تدبیر تھی، اور اتنی اعلیٰ تدبیر ربانی الہام کے بغیر نہیں ہو سکتی۔ الہام کی یہ قسم ایسے اہل ایمان کو نصیب ہوتی ہے، جو ری ایکشن کی نفسیات سے اپنے آپ کو کامل طور پر بچائیں۔ بدقسمتی سے مسلم علما نے اس اعلیٰ حکمت کو نہیں سمجھا، اس لیے وہ ایسے الہام کے وعایہ (container) بھی نہیں بنے۔
ہمارے علما کے لیے اس سے مشابہ حالات پیدا ہوئے، لیکن ہمارے علما نے حدیث کو حکمت (wisdom) کے طور پر نہیں لیا، بلکہ فقہی مسائل کے مآخذ کے طور پر لیا۔ اس لیے ان کا معاملہ یہ ہوا کہ وہ نبوی حکمت کو سمجھنے سے قاصر رہے، وہ خود ساختہ طور پر مسائل میں ترجیحات تلاش کرنے میں الجھ کر رہ گئے۔ جس چیز کو علما ترجیحی قول کہتے ہیں، وہ صرف حکمت نبوی کی دریافت میں محرومی کا نام ہوتا وحی سے مراد ہے لفظی انسپریشن، جو فرشتوں کے ذریعہ انبیا کو ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں الہام سے مراد ہے، اجتہادی انسپریشن۔
ایک قاری الرسالہ لکھتے ہیں: سورہ یوسف احسن القصص ہے۔ لیکن دوسرے انبیاء کے مقابلے میں اس میں انذار و تبشیر کا کوئی نمایاں پہلو نظر نہیں آتا۔ حالاں کہ انبیاء کرام کا اصل مقصد یہی وضاحت مطلوب ہے۔ (سید فیض احمد قادری، کوئمبٹور، تامل ناڈو)
حضرت یوسف کا قصہ جو قرآن میں بیان ہوا ہے، وہ ایک مخصوص پہلو سے بیان ہوا ہے۔ اس میں انذار و تبشیر کا معاملہ شامل نہیں۔ اس معاملے میں اللہ تعالیٰ کو ایک خاص رہنمائی دینا مطلوب
غالباً اسی بنا پر یہ ہوا کہ حضرت یوسف ، جو کہ مصر سے باہر ایک گاؤں میں پیدا ہوئے تھے، ان کو وہاں سے مصر میں لایا گیا، جہاں ایک متمدن حکومت قائم تھی۔ کیوں کہ یہ مثال مصر جیسے متمدن مقام میں قائم ہو سکتی تھی۔ تاکہ ایک مثال کی صورت میں ایک سنت رسول قائم ہو، وہ یہ کہ اس طرح کی صورت حال میں اہل ایمان کو کیا کرنا چاہیے، یعنی جب داعی ایک ایسے مقام پر ہو، جہاں ایک قائم شدہ حکومت موجود ہو، تو وہاں طریق کار (method) کیا ہونا چاہیے۔ وہ طریقہ ایک لفظ میں پریکٹیکل وزڈم (practical wisdom) پر مبنی ہونا چاہیے۔ یہ پریکٹیکل وزڈم کیا ہے، اس کو حضرت یوسف کی مثال کے ذریعے اس سورت میں بیان کیا گیا ہے۔
سورہ یوسف میں احسن القصص کا لفظ اپنے کامل معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ طریق کار کے معنی میں ہے، یعنی حضرت یوسف نے اپنے زمانے میں دعوت کا جو طریقہ (method) اختیار کیا، وہ بہترین طریقہ تھا۔ مزید غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بہترین طریقہ سے متعین طور پر مراد غیر نزاعی طریقہ (non-confrontational method) ہے۔
حضرت یوسف کا اختیار کردہ غیر نزاعی طریقہ کیا تھا۔ وہ یہ تھا کہ حضرت یوسف نے بادشاہ سے تخت اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ نہیں کیا، بلکہ صرف یہ کیا کہ مصر کے خزائن ارض (زرعی معاملہ agricultural land) کا انتظام حضرت یوسف کے حوالے کر دیا جائے۔ وہ انتظام کیا تھا، اس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: یوسف نے کہا کہ تم سات سال تک برابر کھیتی کرو پس جو فصل تم کاٹو، اس کو اس کی بالیوں میں چھوڑ دو مگر تھوڑا سا جو تم کھاؤ۔ اس کے بعد سات سخت سال آئیں گے ۔ اس زمانہ میں وہ غلہ کھا لیا جائے گا جو تم اس وقت کے لیے جمع کرو گے، بجز تھوڑا سا جو تم محفوظ کر لو گے۔ پھر اس کے بعد ایک سال آئے گا جس میں لوگوں پر میٹھ برسے گا۔ اس میں رس نچوڑیں گے ۔
بادشاہ مصر کے ساتھ حضرت یوسف کا معاملہ کیا تھا، اس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: اور بادشاہ نے کہا، اس کو میرے پاس لاؤ۔ میں اس کو خاص اپنے لیے رکھوں گا۔
یوسف نے اس سے بات کی تو بادشاہ نے کہا: ائْتُونِي بِهِ أَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِي فَلَمَّا كَلَّمَهُ قَالَ إِنَّكَ الْيَوْمَ لَدَيْنَا مَكِينٌ أَمِينٌ- قَالَ اجْعَلْنِي عَلَى خَزَائِنِ الْأَرْضِ إِنِّي حَفِيظٌ عَلِيمٌ یعنی اس کو میرے پاس لاؤ۔ میں اس کو خاص اپنے لیے رکھوں گا۔ پھر جب یوسف نے اس سے بات کی تو بادشاہ نے کہا: آج سے تم ہمارے یہاں معزز اور معتمد ہوئے۔ یوسف نے کہا : مجھ کو ملک کے خزانوں پر مقرر کر دو۔ میں نگہبان ہوں اور جاننے والا ہوں۔ بائبل (پیدائش، 41:40) میں اس طریقے کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ سو تُو میرے گھر کا مختار ہوگا، اور میری ساری رعایا تیرے حکم پر چلے گی۔ فقط تخت کا مالک ہونے کے سبب سے میں بزرگ تر ہوں گا:
You shall be in charge of my house, and all my people are to obey your commands. Only with regard to the throne will I be greater than you. (Genesis 41:40)
مجھے نہیں معلوم میں کہاں سے شروع کروں۔ میں جب سولہ سال کی تھی، تو میں نے اپنے اکیس سالہ بھائی کو کھو دیا، اس کے فوراً بعد میرے والدین فوت ہوگئے۔ شادی کے بعد میرے دوبھائی (brothers in law) اپنے پیچھے دو لڑکیوں کو چھوڑ کر انتقال کرگئے۔ ایسی کٹھن صورت حال میں میں کیا آپ مجھے کوئی دعا پڑھنے کی نصیحت کریں گے ۔ (مز ثنا خان، پاکستان) آپ کو جو صورت حال پیش آئی ہے، وہ آپ کے لیے ایک نعمت ہے۔ دنیا کے سہارے کا رہنا یا نہ رہنا، دونوں اللہ کے فیصلے ہیں۔ جب آپ دیکھیں کہ دنیا کے سہارے آپ سے ٹوٹ رہے ہیں، تو اس کو پازیٹیوونس میں لیں۔ اس کو یہ سمجھ لیجیے کہ یہ اللہ رب العالمین کا آپ کے لیے منصوبہ ہے کہ آپ رب العالمین سے جڑیں، زیادہ سے زیادہ آپ اس کی رحمت کے مستحق بنیں۔ آپ کے اندر زیادہ سے زیادہ اسپرچول ڈیولپمنٹ ہو۔ یہ سب باتیں شکر کی باتیں ہیں، نہ کہ شکایت کی باتیں ۔