تربیت افراد
Al-Risala, January 2019, pp. 7–8
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک صاحب سے ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی ۔ انھوں نے ایک صاحب کا قصہ بتایا۔ ان کا کہنا تھا کہ الرسالہ پڑھنے والے کچھ افراد کو میں نے دیکھا ہے ، وہ بہت مطمئن زندگی گزارتے ہیں۔ کہ میری آمدنی ان سے زیادہ ہے ، مگر مجھے اطمینان والی زندگی حاصل نہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ یہ الرسالہ کا کرشمہ نہیں ، بلکہ وہ اسلام کا کرشمہ ہے۔ مطابق ، اسلام آدمی کو نفس مطمئن (الفجر، 89:27) بناتا ہے۔ اسی نفس مطمئن کا وہ نتیجہ ہے ، جس کا آپ نے ذکر کیا۔ جب بھی کسی انسان کو حقیقی معنوں میں اسلام حاصل ہو جائے ، تو اس کے بعد یہی ہو گا کہ اس کو اتھاہ اطمینان والی زندگی حاصل ہو جائے گی۔ اسی حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : اَلَا بِذِکْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ (13:28)۔ یعنی آگاہ رہو ، اللہ کی یاد ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔
موجودہ زمانہ میں اسلام کے نام پر بہت سی سرگرمیاں جاری ہیں۔ مگر شاید ان میں سے کوئی بھی سرگرمی نہیں جو لوگوں کو حقیقی اسلام کا تحفہ دے رہی ہو۔ کوئی تحریک مسلمانوں کو پر اسرار کہانیاں سنا رہی ہے جس کے نتیجہ میں لوگوں کے اندر خوش عقیدگی کا ذہن بنتا ہے۔ کوئی تحریک حکومت واقتدار کو نشانہ بنائے ہوئے ہے جس کے نتیجہ میں سیاسی ذہن پیدا ہوتا ہے۔ کوئی تحریک غیر مسلموں کے خلاف جہاد کا نعرہ لگا رہی ہے جس سے صرف نفرت کا ذہن بنتا ہے۔ کوئی تحریک ملی مسائل کا اشو اٹھائےہوئے ہے ، جس سے صرف قومی ذہن بنتا ہے۔ کوئی تحریک فقہی مسلک پر زور دے رہی ہے جس کے نتیجہ میں صرف کٹر پن اور تفرق کا ذہن بنتا ہے۔ مگر ان میں سے کوئی بھی ذہن حقیقی معنوں میں اسلامی ذہن نہیں۔
موجودہ مسلم تحریکوں میں مشترک طور پر یہ بات ہے کہ وہ اسلام کو اس طرح پیش کرتی ہیں جیسے کہ اس کا تعلق انسان کی حقیقی زندگی سے نہ ہو۔ ان کے مطابق ، اسلام یا تو فخر کی چیز ہے یا برکت
کی چیز یا شہادت کے نام پر لڑ کر مر جانے کی چیز۔ انسان کو روزمرہ کی زندگی میں جو عملی مسائل پیش آتے ہیں، گویا کہ ان کا کوئی تعلق اسلام سے نہیں، ان کے لیے اسلام میں کوئی رہنمائی نہیں۔ الرسالہ کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ اسلام کی اصل اسپرٹ کو زندہ کرنا چاہتا ہے، اور جن لوگوں کے اندر یہ اسپرٹ زندہ ہو جائے، ان کے لیے اسلام زندگی کا گائیڈ بن جاتا ہے، ایک ایسا گائیڈ جو زندگی کے ہر چھوٹے اور بڑے معاملہ میں اس کا قابل عمل رہنما ہو۔
اسلام اپنے ماننے والے انسان کے اندر اطمینان قلب کا جو مزاج پیدا کرتا ہے، اس کے دو خاص سبب ہیں جن کا میں یہاں ذکر کروں گا۔ یہی دونوں صفتیں اہل ایمان کے اندر وہ مزاج پیدا کر دیتی ہیں جن کا مذکورہ صاحب نے ذکر کیا۔ ایک یہ کہ اسلام اپنے ماننے والوں کو ایک اعلیٰ مشن دیتا ہے، دعوت کا مشن۔ یہ مشن ہر قسم کی مادی چیزوں سے بلند ہے۔ جو لوگ اسلام کو اپنی زندگی میں بطور مقصد شامل کر لیں ان کو اسلام ایک اعلیٰ مشن کا حامل بنا دیتا ہے۔
صاحب مشن ہونے کا یہ احساس آدمی کو اتنا زیادہ اونچا اٹھا دیتا ہے کہ ہر دوسری چیز اس کے لیے حقیر بن جاتی ہے۔ عام لوگ دولت، عزت، شہرت اور عہدہ، وغیرہ کو بڑی چیز سمجھتے ہیں، مگر اسلامی مشن کے حامل ایک شخص کا احساس یہ ہو جاتا ہے کہ اس کو ان تمام چیزوں سے زیادہ بڑی چیز ان چیزوں کا ملنا یا نہ ملنا دونوں اس کی نظر میں برابر ہو جاتے ہیں۔ دوسرے لوگوں کے برعکس، صاحب مشن ایسی چیز میں جیتا ہے، جس میں نہ کھونے کا اندیشہ ہے اور نہ کم ہونے کا خوف۔ احساس اس کو ابدی طور پر مطمئن بنا دیتا ہے۔
اس سلسلہ میں دوسری بات یہ ہے کہ اسلام کو بطور مشن لے کر اٹھنے والے شخص کی زندگی فطری طور پر سادہ اور غیر تکلفانہ ہو جاتی ہے۔ ان کے اندر دنیا کے بارے میں قناعت کا جذبہ پیدا ہو جاتا ہے۔ حرص اور حسد کا جذبہ ان کے سینہ سے نکل جاتا ہے جو تمام بے چینیوں کا اصل سبب صاحبِ اسلام کا مسلک یہ بن جاتا ہے اتنے کم پر راضی رہو کہ جو کچھ تم کو مل جائے وہی تم کو کافی معلوم ہو۔