دین کا خود ساختہ ماڈل
Al-Risala, February 2019, p. 14
By Maulana Wahiduddin Khan
حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کی یہ آیت پڑھی: (ترجمہ) جنھوں نے اپنے دین میں راہیں نکالیں اور گروہ گروہ بن گئے (6:159)، اور کہا: اے عائشہ۔ یہ لوگ بدعت والے، یہ لوگ خواہشات والے ہیں۔ ان لوگوں کے لیے توبہ نہیں ہے، میں ان سے بری ہوں، اور وہ مجھ سے بری ہیں (أَنَا مِنْهُمْ بَرِيءٌ، وَهُمْ مِنِّي بِرَاءٌ) المعجم الصغير للطبرانی، حدیث نمبر 560۔ یہ کون لوگ ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دین کے نام پر دین کا خود ساختہ ماڈل بنا لیتے ہیں، اور یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ یہی خدا کا دین ہے۔ یہ ایک ناقابل معافی جرم ہے۔ ایسا کیوں کر ہوتا ہے کہ انسان ایک خود ساختہ دین کو اصل دین سمجھ لے۔ انسان ایک ماحول میں پیدا ہوتا ہے۔ ماحول کے اثر سے اس کی ایک شخصیت بن جاتی ہے۔ اس شخصیت کے بننے میں مختلف قسم کے تعلقات کا دخل ہوتا ہے۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر اپنے ماحول کا پروڈکٹ (product) بن جاتا ہے۔ دھیرے دھیرے اتنا زیادہ پختہ ہو جاتے ہیں کہ انسان اسی کو اصل دین سمجھنے لگتا ہے۔ وہ سختی کے ساتھ اسی خود ساختہ دین پر قائم ہو جاتا ہے۔ انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنا محاسبہ کرے۔ وہ اپنی شخصیت کی ڈی کنڈیشننگ کرے۔ وہ اپنے آپ کو دوبارہ فطرت کے تقاضوں پر کھڑا کرے۔ کنڈیشننگ اور ڈی کنڈیشننگ کا معاملہ ہر انسان کا معاملہ ہے۔ ہر انسان کے ساتھ یہ پیش آتا ہے کہ وہ اپنے ماحول کے اثرات کے تحت ایک کنڈیشنڈ (conditioned) انسان بن آدمی کو چاہیے کہ وہ اس کنڈیشننگ کو دریافت کرے ۔ بے رحم ڈی کنڈیشننگ (merciless de-conditioning) کے تحت وہ اپنے بناوٹی مولڈ کو توڑے، اور دوبارہ اپنے آپ کو فطرت کے مولڈ (mould) پر قائم کرے۔ یہ عمل ہر انسان کو لازمی طور پر کرنا ہے۔ ڈی کنڈیشننگ کے اس عمل میں ناکام رہے، اس کا وہی حال ہوگا، جس کی تصویر مذکورہ حدیث میں بتائی گئی ہے، یعنی دین کے نام پر بے دین شخصیت۔