Al-Risala · February 2019

فرضی ماڈل کا نمونہ

Al-Risala, February 2019, pp. 15–16

By Maulana Wahiduddin Khan

28 جون 2004 کو میں دہلی کے ایک ٹی وی پروگرام میں تھا۔ یہاں میری ملاقات ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمان سے ہوئی۔ گفتگو کے دوران انہوں نے بتایا کہ وہ ڈاکٹر ذاکر حسین (1897-1969) کے فین ہیں۔ آج کل وہ ان کی مشہور کہانی ”ابو خاں کی بکری“ کا ترجمہ انگریزی زبان میں کر رہے ہیں۔ اچانک میری زبان سے نکلا کہ وہ تو اسٹون ایج کی کہانی ہے۔ حالات میں اس کا کیا ریونس۔ اس پر وہ غصہ ہو گئے اور کہا کہ ابوخاں کی بکری تو ایک ادبی شاہکار اس کے اندر ایک ابدی پیغام ہے، وغیرہ۔

ڈاکٹر ذاکر حسین کی اس کہانی میں آزادی اور بہادری کی اہمیت کو بتایا گیا ہے۔ اس کا پیغام یہ ہے کہ آزادی کے لیے بڑی سے بڑی طاقت سے لڑ جاؤ، خواہ اس راہ میں تم کو اپنی جان دینی کہانی کا خلاصہ یہ ہے کہ الموڑا کے ایک شخص، ابوخاں، کی بکری آزادی کی تلاش میں اپنے مالک سے بھاگ کر پہاڑوں میں چلی جاتی ہے۔ وہاں اس کو ایک بھیڑیا ملتا ہے۔ بکری خوب جانتی تھی کہ میں بھیڑیے کو نہیں مار سکتی مگر اس نے مقابلہ کا فیصلہ کیا۔ مقابلہ ضروری ہے، خواہ اس راہ میں جان دینی کہانی کے مطابق، بکری ساری رات بھیڑیے سے لڑتی رہی یہاں تک کہ وہ لہولہان ہوگئی۔ ہوئی تو قریب کی مسجد سے مؤذن کی اللہ اکبر کی آواز آرہی تھی۔ بکری نے کہا کہ اللہ تیرا شکر ہے اور پھر وہ سخت زخمی ہو کر زمین پر گرگئی اور مرگئی۔ اس وقت پاس کے درخت پر کچھ چڑیاں بیٹھی ہوئی تھیں۔ چڑیوں نے کہا کہ بھیڑیا جیت گیا۔ مگر ایک بوڑھی چڑیا نے کہا کہ نہیں، بکری کی جیت ہوئی۔ بکری کی یہ لڑائی بلاشبہ بے مقصد بھی تھی اور بے فائدہ بھی۔ کہانی کے مطابق، بظاہر اس لڑائی کا کوئی واقعی مقصد نہ تھا۔ مزید یہ کہ اس لڑائی سے کوئی فائدہ نکلنے والا نہ تھا۔ کہانی اس لڑائی کا کوئی مثبت فائدہ نہیں بتاتی۔ گویا کہ یہ لڑائی برائے لڑائی تھی، اور ظاہر ہے کہ اس قسم کی لڑائی کوئی قابل تعریف کام نہیں۔

حقیقت کے اعتبار سے دیکھیے تو مذکورہ قسم کی لڑائی بکری کی فطرت کے بالکل خلاف ہے۔

کوئی بکری کبھی اس طرح بھیڑیے سے لڑ کر اپنی جان نہیں دیتی۔ بکری کا طریقہ بھیڑیے سے ٹکراؤ کو اوائڈ کرنا ہے نہ کہ جان بوجھ کر اس سے لڑ جانا۔ اس فرضی کہانی کو اس کے مصنف نے الموڑا کے ایک واقعہ کے طور پر پیش کیا ہے، مگر اس کا تعلق نہ حقیقۃً سے ہے اور نہ اسلام سے۔ کسی بکری نے کبھی ایسا نہیں کیا کہ وہ رات بھر بھیڑیے سے لڑے اور اس طرح جان بوجھ کر اپنے کو ہلاک کردے۔ کہانی کی مذکورہ بکری ڈاکٹر ذاکر حسین کی مفروضہ بکری ہے، وہ نہ کسی ابوخاں کی بکری تھی اور نہ خدا نے کبھی کسی ایسی بکری کو پیدا کیا۔

اسلامی نقطہ نظر سے دیکھئے تو اس قسم کی لڑائی سراسر نا جائز ہے۔ اسلامی تعلیم کے مطابق، یہ تو ممکن ہے کہ کوئی شخص اچانک کسی طاقتور دشمن کی زد میں آجائے اور قتل کرنے والا اس کو قتل کردے۔ مگر جان بوجھ کر ایک ایسے دشمن سے ٹکرانا بلا شبہ غلط ہے جس سے مقابلہ کرنے کی طاقت آدمی کے اندر نہ ہو اور جس کا یقینی نتیجہ یک طرفہ تباہی ہو۔ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: لا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ، وَسَلُوا اللهَ العَافِيَةَ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2965) یعنی تم دشمن سے مڈبھیڑ کی تمنا نہ کرو اور تم اللہ سے عافیت مانگو۔

اپنی حقیقت کے اعتبار سے اس قسم کا ٹکراؤ خود کشی ہے، اور خود کشی اسلام میں جائز نہیں۔ اکثر ایک مہلک غلطی میں مبتلا رہتے ہیں۔ وہ بطور خود ایک مفروضہ ماڈل بناتے ہیں اور پھر اس مفروضہ ماڈل کے ذریعہ ایک ایسے عمل کو جسٹی فائی (justify) کرنے لگتے ہیں جو حقیقت قابل جواز (justifiable) نہیں ۔ اس کی ایک مثال امام حسین کے معاملہ میں ملتی ہے۔ خطیبوں اور شاعروں نے امام حسین کا ایک خود ساختہ ماڈل بنایا ۔ وہ ماڈل یہ تھا کہ امام حسین نے اپنا سر کٹوادیا مگر وہ یزید کے ہاتھ پر بیعت کے لیے تیار نہیں ہوئے :

Printed page