شخصیت کا فریب
Al-Risala, February 2019, p. 21
By Maulana Wahiduddin Khan
مولانا عبد الماجد دریا بادی نے لکھا ہے کہ انھوں نے پہلی بار مولانا ابوالکلام آزاد کو لکھنؤ کے ریلوے اسٹیشن پر دیکھا۔ اس وقت ان کو ایسا محسوس ہوا جیسے ان کے سامنے کوئی ایرانی پرنس کھڑا ہوا حقیقت یہ ہے کہ تاریخ مسحور کن شخصیتوں کی داستان کا نام ہے۔ کوئی کسی انسان کی شاندار شخصیت کے سحر میں مبتلا ہو گیا، تو اس نے اسی کو بڑا انسان سمجھ لیا۔ کوئی کسی کے غیر معمولی حافظہ کو دیکھ کر اس سے مسحور ہو گیا۔ کوئی کسی کی خطابت کا گرویدہ ہو گیا، وغیرہ۔ بعض افراد میں کچھ ظاہر فریب خصوصیات ہوتی ہیں۔ لوگ ان ظاہر فریب خصوصیات کو دیکھ کر مسحور ہو جاتے ہیں، اور ان کو بڑا آدمی سمجھنے لگتے ہیں۔ مگر تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ان مسحور کن شخصیتوں نے حقیقی معنوں میں کبھی کوئی بڑا کام نہیں کیا۔ مثلاً جرمنی کا ہٹلر اپنی تقریر سے لوگوں کو سحر میں مبتلا کر دیتا تھا۔ لیکن 56 سال کی عمر میں جب وہ مرا تو اس نے تعمیر و ترقی کی کوئی یادگار نہیں چھوڑی۔ حقیقت یہ ہے کہ بڑے آدمی کی پہچان نہ شاندار شخصیت ہے، اور نہ شاندار خطابت، حتیٰ کہ شاندار حافظہ بھی کسی آدمی کے بڑے ہونے کی پہچان نہیں۔ کسی آدمی کے بڑے ہونے کی پہچان یہ ہے کہ آدمی کے اندر اللہ کا خوف پایا جاتا ہو۔ یہ معیار ایک حدیث رسول سے معلوم ہوتا ہے۔ ترجمہ یہ ہے: اللہ کا خوف حکمت کا سرا ہے (شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر (730)۔ خوف آدمی کو متواضع (modest) بناتا ہے۔ اللہ کا خوف آدمی کو سنجیدہ (sincere) بناتا ہے۔ اللہ کا خوف آدمی کو محتاط (cautious) بناتا ہے۔ اللہ کا خوف آدمی کے اندر وہ صفت پیدا کرتا ہے، جس کو حدیث میں اس طرح بیان کیا گیا ہے۔ اس حدیث کا ترجمہ یہ ہے: جو اللہ اور آخرت کے دن پر یقین رکھتا ہے، وہ بھلی بات کہے یا وہ چپ رہے (صحیح البخاری، حدیث نمبر (6018)۔ آدمی کو مین آف وزڈم (man of wisdom) بناتی ہے، اور جو آدمی مین آف وزڈم ہو، وہی آدمی جانتا ہے کہ سوچنے کے وقت وہ کیا سوچے اور بولنے کے وقت وہ کیا بولے۔