انعام، یا آزمائش
Al-Risala, February 2019, p. 24
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک صنعتی شہر کا واقعہ ہے۔ وہاں کے ایک مسلم نوجوان نے ٹیکنکل ایجوکیشن حاصل کی۔ کے بعد ان کو مقامی طور پر ایک اچھا جاب (job) مل گیا۔ اس درمیان ان کا ربط ایک دینی حلقے سے قائم ہوا۔ انھوں نے دینی کتابیں پڑھیں اور دینی شخصیتوں سے استفادہ کیا۔ وہ کافی متاثر ہوئے، یہاں تک کہ انھوں نے رو کر کہا۔ میں نے اپنی عمر کا ایک حصہ ضائع کر دیا۔ دینی ماحول مجھے اور پہلے مل گیا ہوتا۔
اس کے بعد مذکورہ نوجوان کے اندر ایک تبدیلی واقع ہوئی۔ مذکورہ نوجوان کے ایک رشتے دار ایک ”فارین‘، کنٹری میں رہتے تھے۔ انھوں نے ان کے لیے ہوائی جہاز کا ایک ٹکٹ بھیج دیا اور کہا کہ تم وزٹ ویزا (visitor visa) لے کر یہاں میرے پاس آ جاؤ اور جاب ہنٹنگ (jobhunting) ہو سکتا ہے، تم کو یہاں زیادہ اچھا جاب مل جائے۔ اس کے بعد نوجوان کا ذہن بدل گیا۔ فرصت میں باہر کے ملک میں جاب ہنٹنگ کے لیے چلے گئے۔
یہ کسی ایک نوجوان کی بات نہیں۔ یہی موجودہ زمانے میں تقریباً تمام لوگوں کا حال ہے۔ بظاہر ایک آدمی دین داری کی بات کرے گا۔ وہ اسلام کو اپنی منزل بتائے گا۔ لیکن اگر اس کو کسی قسم کی مادی ترقی (worldly progress) حاصل ہو جائے، تو اچانک وہ بدل جائے گا۔ باتوں کو بھلا کر مادی ترقی ہی کو اپنا سب کچھ بنا لے گا۔
ایسے کسی آدمی کے سامنے جب کوئی مادی ترقی کا موقع آتا ہے، تو وہ اس کے لیے کوئی انعام کی بات نہیں ہوتی، بلکہ وہ تمام تر اس کی آزمائش (test) کے لیے ہوتی ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ تمام لوگ اُس کو انعام کا معاملہ سمجھ لیتے ہیں، تمام لوگ اس خدائی آزمائش میں ناکام ثابت ہوتے دین داری کسی روٹین (routine) کا نام نہیں، دین دار وہ ہے جو اس جانچ (test) میں پورا اپنے دین کی حفاظت کیجئے، ورنہ شیطان کسی بھی وقت اس کو اچک لے جائے گا۔