نظری تبلیغ، عملی اقدام
Al-Risala, February 2019, p. 25
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک حدیثِ رسول ان الفاظ میں آئی ہے: إِذَا رَأَيْتُمْ أَمْرًا لَا تَسْتَطِيعُونَ تَغْیِیرَہُ، فَاصْبِرُوا حَتَّى يَكُونَ اللَّهُ هُوَ الَّذِي يُغَيِّرُهُ (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 7685)۔ یعنی اگر تم ایک ایسا معاملہ دیکھو، جس کو بدلنے کی طاقت تم کو نہ ہو تو صبر کرو، یہاں تک کہ اللہ خود اس میں کوئی اس حدیثِ رسول میں اسلام کا طریق عمل بتایا گیا ہے۔ اسلام کا طریقہ نظری تبلیغ اور عملی اقدام میں فرق کرتا ہے۔ اسلام کا طریقہ یہ ہے کہ ممکن کے درجے میں پر امن طریقے سے تبلیغ کا کام کیا جائے۔ خود اپنی طرف سے ہرگز کوئی عملی ٹکراؤ نہ شروع کیا جائے۔ اسی اسلامی اصول کا نام مومن کے لیے فرض ہے کہ وہ ایک خود ساختہ عذر لے کر موجود اٹھار بیٹی کے ساتھ ٹکراؤ سے اپنا کام شروع نہ کرے۔
تحریک کا ایک مرحلہ عملی تبدیلی ہے۔ مگر عملی تبدیلی کے لیے کوئی اقدام صرف اس وقت کیا جائے گا، جب کہ حالات میں کوئی ایسا واضح فرق واقع ہو، جو بتائے کہ اب اگر عملی اقدام کیا گیا تو وہ مثبت (positive) رزلٹ کا سبب بن سکتا ہے۔ گویا کہ آدمی اگر کسی چیز کو حق سمجھے تو وہ صرف پر امن طور پر نظری تبلیغ کر سکتا ہے، لیکن عملی اقدام کے لیے صرف یہ کافی نہیں کہ آدمی کو اس کا اپنا اقدام بطورِ خود درست نظر آتا ہو۔ عملی اقدام کی لازمی شرط ہے کہ وہ باعتبار نتیجہ مفید ثابت ہو سکتا ہو۔ جس عملی اقدام سے مثبت نتیجہ نکلنے والا نہ ہو، وہ اقدام اسلام کے مطابق ہرگز جائز نہیں۔ اس حدیث میں تبدیلی کو اللہ کی طرف منسوب کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اللہ خود آ کر حالات کو بدل دے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ فطری حالات کے مطابق خود اس میں تبدیلی واقع فطری حالات کے مطابق تبدیلی کا واقع ہونا، اس بات کا اشارہ ہے کہ اب درست طور پر وہ وقت آگیا ہے، جب کہ اپنے مقصد کی طرف عملی اقدام کیا جائے ۔ نظری تبلیغ میں، پہنچنا نا معیار ہے، اور عملی اقدام میں، مثبت نتیجہ کا نکلنا۔