اختلاط کی اہمیت
Al-Risala, February 2019, p. 34
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک حدیث رسول مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: اَلْمُؤْمِنُ اَلَّذِي يُخَالِطُ النَّاسَ وَيَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُمْ، أَعْظَمُ أَجْرًا مِنَ الَّذِي لَا يُخَالِطُ النَّاسَ وَلَا يَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُمْ ( مسند احمد، حدیث نمبر 23098)۔ یعنی وہ مومن جو لوگوں سنے میل جول رکھتا ہے، اور ان کی اذیت پر صبر کرتا ہے، اس کا اجر اس سے زیادہ ہے جو لوگوں سے میل جول نہیں رکھتا، اور ان کی اذیت پر صبر اس حدیث میں اختلاط کا مطلب میل جول (interaction) ہے۔ حدیث نے اس کی شرح کرتے ہوئے کہا کہ ان الخلطة أفضل من العزلة (تحفة الاحوذی، جلد7، یعنی تنہائی کی زندگی کے مقابلے میں میل جول کی زندگی زیادہ افضل ہے۔ زندگی کا افضل ہونا صرف اخلاق کے معنی میں نہیں ہے۔ اس سے زیادہ وہ پرسنالٹی کے ڈیولپمنٹ کے معنی میں ہے۔
یہ فائدہ اس وقت ہوتا ہے جب کہ انسان کے اندر سنجیدگی ہو۔ اس کے اندر سوچنے اور نصیحت لینے کا مزاج ہو۔ تو ہر اختلاط اس کے لیے ذہنی ارتقا کا ذریعہ بن جائے گا۔ لوگوں سے انٹرایکشن کے درمیان اس کو طرح طرح کے تجربات پیش آتے ہیں۔ وہ لوگوں سے نئی نئی باتیں سیکھتا ہے۔ دوران اس کو موقع ملتا ہے کہ وہ اپنی فکری اصلاح کرے۔ اس کو موقع ملتا ہے کہ وہ لوگوں کی معلومات سے اپنے علم میں اضافہ کرے۔ اس کو موقع ملتا ہے کہ وہ اپنی فکری محدودیت کو عالمی فکر میں تبدیل کر سکے۔ انٹراکشن کا یہ فائدہ اس انسان کو ملتا ہے جس کے اندر سیکھنے کا مزاج (spirit of learning) ہو۔ جو باتوں کو غیر متعصبانہ انداز میں دیکھ سکے۔ وہ جو کچھ سے اس کو آبجیکٹیو (objective) انداز میں لے، نہ کہ سبجیکٹیو (subjective) انداز میں۔ اس کے اندر اعتراف کا مادہ ہو۔ وہ کسی رائے کو سچائی کے اعتبار سے دیکھے، نہ یہ کہ وہ کس شخص کی رائے ہے۔ وہ پورے معنوں میں نفس مطمئنہ (complex-free soul) کی حیثیت رکھتا ہو۔