prima facie it stands rejected
Al-Risala, February 2019, pp. 37–39
By Maulana Wahiduddin Khan
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صریح احادیث کے مطابق ، اس مسئلے پر امت کا اجماع مسلسل طور پر جاری رہا۔ بیسویں صدی میں پہلی بار بعض مسلم رہنما مثلاً پاکستان کے سید ابو الاعلیٰ مودودی (وفات: 1979) اور مصر کے سید قطب (وفات: 1966) نے مبینہ طور پر اس معاملے میں اختلافی موقف اختیار کیا ہے۔ پاکستان میں سید ابو الاعلیٰ مودودی نے منتخب صدر جنرل ایوب کے خلاف، اور مصر میں سید قطب نے سابق صدر جمال عبد الناصر کے خلاف سیاسی اپوزیشن کے تحریکیں چلائیں۔ قسم کا اپوزیشن بلا شبہ وہی چیز تھا، جس کو خروج یا بغاوت کہا جاتا ہے۔ ان حضرات کا یہ فعل بلا شبہ شرعی اعتبار سے غلط تھا۔ اس معاملے میں کوئی بھی عذر (excuse) ایک ایسے عمل کے لیے وجہ جواز نہیں بن سکتا، جس کو خود پیغمبر اسلام نے حرام کا درجہ دیا ہو۔
اس معاملے میں سید ابوالاعلیٰ مودودی اور سید قطب، اور ان کے رفقا اور مویدین کو وہی کرنا چاہیے تھا، جو رسول اللہ کے بعد امت کے تمام اسلاف و اخلاف نے اختیار کیا۔ یعنی پولیٹیکل دائرے کو چھوڑ کر نان پولیٹیکل دائرے میں اپنی کوششوں کو صرف کرنا۔ مثلاً رسول اللہ کے بعد کے زمانے میں مسلم حکمرانوں کے اندر وہ تمام بگاڑ پوری طرح آچکا تھا، جس کے حوالے سے پاکستان اور مصر کے مسلم رہنماؤں نے بڑی بڑی سیاسی تحریکیں چلائی تھیں۔ رسول اللہ کے بعد علمائے امت نے صرف یہ کیا کہ سیاسی دائرے سے باہر رہ کر غیر سیاسی دائرے میں اپنی تمام سرگرمیاں محدود کردیں۔ پاکستان اور مصر کے مسلم رہنماؤں پر لازم تھا کہ وہ یہی طریقہ اختیار کریں۔ مثال کے طور پر مصر میں وہاں کے حکمراں جنرل جمال عبد الناصر نے سید قطب کو، جو کہ سیاسی اپوزیشن کے لیڈر تھے، پیش کش کی کہ وہ مصر میں تعلیم کی وزارت سنبھالیں، اور ملک کے نوجوانوں کو اسلامی انداز میں تربیت دیں۔ مگر سید قطب نے اس پیش کش کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ طرح 1962 میں پاکستان کے سابق صدر محمد ایوب خاں نے سید ابوالاعلیٰ مودودی کو یہ پیش کش کی کہ ان کو بہاول پور یونیورسٹی کا وائس چانسلر بنا دیا جائے گا، اور اس کا پورا چارج بلا شرط ان کو دے دیا یہاں سید ابوالاعلیٰ مودودی کے لیے یہ موقع تھا کہ وہ نوجوانوں کی اپنے نہج پر فکری تربیت مگر سید ابوالاعلیٰ مودودی نے اس پیش کش کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ دونوں صاحبان کا انکار رسول اللہ کی ہدایات اور امت کے اجماع کے واضح طور پر خلاف تھا۔ اس معاملے میں ان حضرات کا کوئی بھی عذر ہرگز قابل قبول نہیں۔
رسول اللہ نے حکمرانوں سے خروج کے خلاف جو واضح ہدایات دی تھی، اور جس پر آپ کے بعد تمام علمائے امت نے اجماع کر لیا، وہ کوئی سادہ بات نہ تھی۔ وہ آپ کی اس پیغمبرانہ حیثیت کی بنا پر تھا، جو آپ کو اللہ کی طرف سے دی گئی تھی، یعنی امت کو حکمت کی تعلیم دینا (الجمعة، 62:2)۔ بتاتا ہے کہ آپ کی یہ تعلیم اعلیٰ حکمت (wisdom) پر مبنی تھی۔ اسلامی تاریخ کے ابتدائی دور میں امت اس پیغمبرانہ حکمت پر قائم رہی، اس لیے مسلمان مسلسل طور پر کامیاب رہے۔ مگر بیسویں صدی
میں امت کے رہنماؤں نے اس حکیمانہ تعلیم کو چھوڑ دیا، اور اپنے حکمرانوں سے سیاسی نزاع کا طریقہ اختیار کر لیا، اس کے نتیجے میں ان کی تمام کوششیں حبطِ اعمال (الکہف، 18:105) کا شکار ہوگئیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ تعلیم اعلیٰ حکمت (great wisdom) پر مبنی تھی۔ ثابت کرتے ہیں کہ سیاسی معاملات میں نزاع کا طریقہ ہمیشہ بے نتیجہ ثابت ہوتا ہے۔ برعکس، سیاسی معاملے میں غیر نزاعی طریقہ ہمیشہ کامیابی تک پہنچاتا ہے۔ ایسا فطرت کے مسَلّم قانون کی بنا پر ہوتا ہے۔ یہ فطرت کا قانون ہے، اور اس معاملے میں کسی کے لیے بھی کوئی استثناء نہیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو جو ہدایت دی تھی، وہ بظاہر ایک مذہبی ہدایت تھی، لیکن وہ فطرت کے قانون پر مبنی ایک ہدایت تھی۔ اسی حقیقت کو جرمنی کے مدبر سیاست داں بسمارک (1815-1898) نے اس طرح کہا تھا کہ سیاست ممکنات کا فن ہے:
Politics is the art of the possible, the attainable, the art of the next best. فطرت کے قانون پر مبنی اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا جا سکتا ہے کہ موجودہ دنیا میں آئیڈیل وزڈم کا حصول ممکن نہیں۔ یہاں کسی کے لیے آئیڈیل وزڈم کا انتخاب ممکن نہیں ہے، بلکہ یہاں ہر ایک کے لیے پریکٹیکل وزڈم کا انتخاب ہے۔ کوئی شخص تصوراتی طور پر آئیڈیل کو اپنا گول بنا لیکن جب معاملہ کسی نشانے کو عملی صورت میں ظہور میں لانے کا ہو تو ہر ایک کے لیے صرف پریکٹیکل وزڈم کا انتخاب ممکن ہوتا ہے، نہ کہ آئیڈیل وزڈم کا انتخاب۔
امریکا میں کئی ایسے مسلمانوں سے ملاقات ہوئی جو نظامِ خلافت کی باتیں کرتے ہیں۔ میں نے کہا کہ لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ نظامِ خلافت کی باتیں کرتے ہیں، مگر عملاً وہ نظامِ منافقت پر قائم ہوتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ کیسے ۔ میں نے کہا کہ اگر آپ لوگ واقعۃً نظامِ خلافت قائم کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے آپ امریکا کی شہریت کو ختم کر دیجئے ۔ کیوں کہ شہریت کے فارم پر دستخط کرنے کے بعد اس قسم کی باتیں کرنا اگر بالاعلان ہو تو وہ ملک سے غداری ہے، اور اگر اعلان کے بغیر ہو تو وہ منافقت ہے۔