Al-Risala · February 2019

خبر نامه اسلامی مرکز - 266

Al-Risala, February 2019, pp. 48–51

By Maulana Wahiduddin Khan

• 30 جولائی 2018 کو امریکن سنٹر (کولکاتا) نے آورانُس اور جرنی، اے کنورسیشن ود وومن چینج میکرز کے عنوان سے ایک پینل ڈسکشن کا انعقاد کیا۔ شرکاء میں عالمی شہرت یافتہ شخصیات کافی تعداد میں موجود تھیں۔ شبینہ علی (سی پی ایس ٹیم ممبر، کولکاتا) نے اس میں شرکت کی۔ انھوں نے شرکاء سے ملاقات کرکے ان تمام لوگوں کے درمیان قرآن (ترجمہ)، اسپرٹ آف اسلام، ایچ آف پیس، لیڈنگ اسپرچول لائف وغیرہ دیے۔ تمام لوگوں نے خوشی کے ساتھ ان کو قبول کیا۔

• سی پی ایس (جمشید پور) نے ایک نیا سلسلہ شروع کیا ہے۔ اس کے تحت ترجمہ قرآن اور دعوتی لٹریچر مساجد اور لائبریریوں میں لوگوں کو پڑھنے کی غرض سے رکھا جاتا ہے۔ اس پر سی پی ایس جمشید پور کا اسٹمپ لگا ہواہوتا ہے۔ اس کے بعد یہ واقعہ ہوا کہ سی پی ایس (جمشید پور) کو ایک فون آیا۔ کال کرنے والے نے بتایا کہ تلکو (جمشید پور) کی ایک مسجد میں اس نے قرآن کا ہندی ترجمہ دیکھا ہے جس پر یہ فون نمبر تھا، اور اس پر فری ڈسٹریبیوشن کا اسٹمپ لگا ہوا ہے، تو کیا میں اسے حاصل کر سکتا ہوں۔ انھوں نے مزید یہ بتایا کہ میں ملٹری میں سروس کرتا ہوں۔ یہ تھے مسٹر شیخ صادق جو انڈین ملٹری کے میکینیکل ڈیپارٹمنٹ میں ٹیکنیشین ہیں۔ 2018 کو مسٹر شیخ صادق اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ قرآن کے لیے آئے۔ انھوں نے بتایا کہ وہ مولانا کو پچھلے کئی سالوں سے جانتے ہیں اور انٹرنیٹ پر ان کو بھی کبھی سنتے ہیں۔ ان کو قرآن کے ہندی اور انگریزی ترجمہ، ہندی کی سیرت کی کتابیں اور پمفلٹس دیے گئے۔ ان کو پا کر ان لوگوں نے خوشی کا اظہار کیا، اور شکریہ ادا کر کے رخصت ہوئے۔ • سی پی ایس ٹیم (سہارنپور) نے مشہور دینی ادارہ مظاہر العلوم اور دار العلوم کے علماء سے 12 اگست 2018 کو ملاقات کی اور انھیں دعوت کی اہمیت بتائی۔ تمام لوگوں نے اس کا اظہار کیا کہ وہ دعوت کا کام کریں گے۔ • سی پی ایس مشن کے تحت جیلوں میں بھی دعو ہ لٹریچر خاص طور پر قرآن تقسیم کیے جاتے ہیں۔ اس سلسلے کا ایک ای میل یہاں شائع کیا جا رہا ہے:

I am wanting to get at least 25 copies of the Quran for a jail in the city of Marion, Indiana. They have requested for Quran copies and have a high need of them, as the prisoners have asked for the Quran. I am the President of the Women's Committee at the Islamic Center of Bloomington in Bloomington, Indiana. I am a convert to Islam. I would like to help these people by providing them the Quran. We have some copies of your translation of the Quran and they are wonderful. If you could send some more so that we can distribute as a form of dawah, it would be greatly appreciated. (Katherine Barrus, Bloomington, Indiana, USA).

ذیل میں چند تاثرات نقل کئے جاتے ہیں :

میں پچھلے 20 سال سے درس و تدریس کا کام کرتا ہوں۔ تفسیر جلالین، تفسیر نسفی کا طلبہ کو درس دے چکا ہوں، تفسیر القرطبی وغیرہ مطالعے میں رہتی ہیں، لیکن یہ سب تفاسیر صرف فنی معلومات دیتی ہیں۔ نصیحت کہیں کہیں مل بھی جاتی ہے تو فنی معلومات کے بالمقابل نہ کے برابر ہے۔ اس کے برعکس، تذکیر القرآن ایک ایسی تفسیر ہے جس میں صرف پیغام الہی پر فوکس کیا گیا ہے، جس میں ناصحانہ پہلو، داعیانہ پہلو مرکزی موضوع ہے۔ ایک اور بات یہ کہ ایک کم پڑھا لکھا شخص بھی اس تفسیر سے اصل پیغام الہی کو اچھی طرح سمجھ سکتا ہے۔ یہ خصوصیت کسی اور تفسیر میں واللہ اعلم (مولانا محمد جمیل صدیقی، گلبرگہ، کرناٹک)۔

تذکیر القرآن کا فوکس معرفت اور دعوت ہے۔ مولانا کی چاہے کوئی کتاب ہو، یا تفسیر، یا لکچر، یہ تمام معرفت اور دعوت پر مبنی ہیں۔ جو آدمی بھی مولانا کی کتابیں اور لکچرس مسلسل پڑھتا اور سنتا رہے گا، امید ہے کہ وہ کنفیوژن سے بچ جائے گا۔ (مولانا عبد الباسط عمری، قطر)۔

تذکیر القرآن ایک ایسی تفسیر ہے، جو دوسروں کے یہاں نہیں ہے۔ خدا اور آخرت کا پیغام، دعوت کا پیغام کسی دوسری جگہ نہیں ملتا ہے۔ یہی تذکیر القرآن کی امتیازی خصوصیت ہے۔ قرآن کا جو اصل پیغام ہے تذکیر القرآن اس کو بتاتا ہے، یعنی خدا اور آخرت رخی زندگی۔ اس کے پڑھنے والے کو ہر جگہ معرفت، دعوت اور ربانیت کی ہی باتیں ملتی ہیں۔ (حافظ سید اقبال احمد عمری، تامل ناڈو)

مولانا صاحب کی تحریریں کس طرح ہمیں سوچنے میں مدد کرتی ہیں۔ اس حوالے سے عرض ہے کہ 1992 میں میں نے کسی کے کہنے پر مولانا کی کتاب ”کتاب زندگی“ خریدی تھی۔ اُس وقت میں مولانا کے نام سے بھی واقف نہ تھا۔ میرا مطالعہ زیادہ تر ناولوں، افسانوں یا سفر ناموں پر مشتمل تھا۔ اُس وقت میری عادت تھی جب کوئی کتاب پڑھنے بیٹھتا، چالیس پچاس صفحے ایک نشست میں ختم کر دیتا تھا۔ اسی عادت کے تحت میں نے مولانا کی مذکورہ کتاب بھی پکڑی، اور پڑھنے بیٹھ گیا، صرف پانچ چھ صفحات پڑھ کر مجھے احساس ہوا کہ یہ کتاب ویسی نہیں جیسی کتابیں میں نے پہلے پڑھی ہیں۔ اس کا ہر صفحہ اپنے دامن میں حکمت و دانائی کے موتیوں کو سمیٹے ہوا یہ کتاب تو کا یا پلٹ (game changer) کتاب ہے۔ پھر میں نے فیصلہ کیا کہ ہر روز اس کتاب کا ہر روز ایک صفحہ پڑھوں گا۔ پھر اس صفحہ میں جو پیغام ہے اُس کو اچھی طرح سے ذہین نشین کرنے کے لیے باتوں باتوں میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ اُس پیغام کو زیر گفتگو لاؤں گا۔ کتاب زندگی کو میں نے ایسے ہی ختم کیا تھا۔ اس کتاب نے مجھے سنجیدگی دی، اور ایک با مقصد زندگی کی طرف راغب کیا۔ پھر مولانا کی کتابوں کا ایسا ذوق پیدا ہوا کہ ایک کے بعد ایک کتاب زیر مطالعہ رہی۔ تاہم کبھی بھی مولانا کی کتاب کے دو تین صفحے سے زیادہ پڑھنے کی کوشش نہ کی۔ کیونکہ مجھے ایسا لگتا ہے کہ مولانا کی دعوت گہرے غور وفکر کا تقا ضہ کرتی ہے۔ سرسری مطالعہ اس

فکر کے ساتھ نا انصافی ہے۔ مولانا کی تحریر نے مجھے احساس دیا کہ اگر میں کسی کی طرف ایک انگلی اٹھاتا ہوں تو باقی انگلیوں کا رخ میری طرف ہوتا ہے۔ پہلے مجھے اپنے آپ کو ٹھیک کرنا ہے۔ کامیابی کوئی خارجی چیز نہیں ہے ، یہ داخلی معاملہ ہے۔ کامیاب وہ نہیں ہے، جو دوسروں کا سر کاٹ لے، کامیاب وہ ہے جو دوسروں کے دلوں کو جیت لے ۔ مولانا کی تحریر سے مجھے معلوم ہوا کہ میں صرف لڑنے کی اہمیت کو جانتا ہوں ، امن اور صلح کی اہمیت سے بے خبر ہوں، جب کہ میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم امن کے لیے حدیبیہ میں فریق مخالف کی تمام ثمرائط کو یک طرفہ طور پر تسلیم کر لیتے ہیں، تا کہ کسی طرح امن قائم ہو جائے ۔ میں اُن کا امتی ہو کر بھی امن کی اہمیت سے بے خبر یہ مولانا کی تحریروں کا فیض تھا کہ میرے لیے امن (peace) کی اہمیت اجا گر ہوئی۔ اسی طرح مولانا سے یہ بھی سیکھا کہ اللہ بتانے سے نہیں ملتا، اللہ کو ذاتی طور پر تلاش (discover) کرنا پڑتا ہے۔ جب داخلی طور پر اللہ کی دریافت ہوتی ہے، تو پھر ایمان و یقین شر بار ہوتا ہے۔ اس لیے اپنے ارد گرد مظاہرِ فطرت پر غور کرو۔ اللہ کی موجودگی کا احساس اندر سے پیدا ہوگا۔ اسی طرح مولانا کی کتاب ”فکرِ اسلامی“ جب میں نے پڑھی، یقین جانیے میری تو آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ اس میں مولانا نے بڑی بڑی اسلامی قداور شخصیات کے فکر و نظریات پر قلم اٹھایا تھا۔ پہلے پہل تو میں ہکا بکا رہ گیا۔ لیکن جب ٹھنڈے دل سے غور کیا تو مولانا کے نقطہ نظر میں مجھے توازن نظر آیا، ہم پچھلے کئی سو سال سے خوار ہو رہے ہیں۔ اس کی آخر کوئی تو وجہ ہوگی۔ کہیں تو ہم سے چوک ہوئی ہوگی۔ کوئی شخص تو ہمت کر کے جائزہ لے کہ ہم کیوں دنیا میں ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ مولانا نے جس چیز کو صحیح سمجھا اس کو بیان کر دیا۔ جہاں کوئی غلطی نظر آئی اس کا برملا اظہار کر دیا۔ نتیجتاً اُن کو سقراط بن کر لوگوں کی زہریلی باتوں کے جام پینے پڑے، لیکن حرف شکایت زبان پر نہ لائے ۔ ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ ہم نے محمد بن قاسم اور صلاح الدین ایوبی کی تلواروں کی تعریف کی ہے۔ لیکن کبھی اپنے احتساب کے لیے اٹھنے والے قلم کی تعریف نہ ہماری عقلوں کو نہ جانے کس کی نظر لگی ہے کہ جب تک کوئی رہنما اس دنیا سے چلا نہیں جاتا، تب تک ہم اُس کا اعتراف نہیں کرتے۔ ہماری آنکھوں میں ایسی کجی آئی کہ عصر حاضر کے آئینہ میں ہم کو کسی کی خوبی نظر نہیں دعا کریں اللہ میرے اندر ایک داعی کی خوبیاں پیدا کرے ۔ آمین (محمد فاروق، لاہور، پاکستان) ➤ The Quran: An Abiding Wonder was the first book by Maulana that I read about 30 years ago. It helped me understand the reason for the fall of various Muslim rulers and their dynasties over centuries. At a personal level, it has been a constant source of learning for all facets of life. I have also learnt from the Maulana that dawah is not merely one of the activities of a believer, rather it should reflect in all of one’s dealings and behaviour. (Azhar Rizvi, Karachi)

➤The real subject of Maulana’s books is to see things scientifically and understand their logical end. (Qamar Abbas, Lahore)

عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر مولانا وحید الدین خاں کے قلم سے مولانا وحیدالدین خاں اسلامی فکرکی مجمل اور جامع مطالعہ مولانا وحیدالدین خاں مولانا وحیدالدین خاں مولانا وحیدالدین خاں قرآنی آیات کا مطالعہ سائنس کی روشنی میں مولانا وحیدالدین خاں مولانا وحیدالدین خاں مولانا وحیدالدین خاں مولانا وحیدالدین خاں مولانا وحیدالدین خاں سیرت رسول کا علمی اور تاریخی مطالعہ مولانا وحیدالدین خاں اسلام ایک ابدی حقیقت ہے، لیکن ہر دور میں ضرورت ہوتی ہے کہ اسلامی تعلیمات کو جدید اسلوب میں بیان کیا جائے، تاکہ بدلے ہوئے حالات میں لوگ اسلام کی اہمیت کو دوبارہ دریافت کر سکیں۔ اس مقصد کے لئے مختلف موضوعات پر تیار کردہ ان کتابوں کا مطالعہ کریں، نیز قرآن کے ترجمے اور دعوتی لٹریچر برادران وطن تک پہنچا کر اپنا دعوتی رول ادا کریں۔ مولانا وحیدالدین خاں مولانا وحیدالدین خاں مولانا وحیدالدین خاں مومن کے عمل کا رخ ہمیشہ خدا کی طرف ہوتا ہے۔

Printed page