Al-Risala · March 2020

فرقان کیا ہے

Al-Risala, March 2020, p. 7

By Maulana Wahiduddin Khan

مومن کے لیے ایک خدائی عطیہ وہ ہے، جس کو قرآن میں فرقان کہا گیا ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی متعلق آیت ان الفاظ میں آئی ہے: یَاأَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا إِنْ تَتَّقُوا اللَّهَ يَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا یعنی اے ایمان والو، اگر تم اللہ سے ڈرو، تو اللہ تمہارے لیے فرقان عطا کرے گا۔ فرقان کا لفظی مطلب ہے فرق کرنے والا، یعنی انسان کی یہ صلاحیت جس کے ذریعے وہ ایک چیز اور دوسری چیز کے درمیان فرق (differentiate) کر سکے۔ یہ فرق دو قسم کا ہوتا ہے۔ مادی فرق اور دوسرا، معنوی فرق۔ مادی فرق کو جاننا بہت آسان ہے۔ کیوں کہ اس معاملے میں ایک چیز سخت ہوتی ہے، اور دوسری چیز نرم، ایک چیز گرم ہوتی ہے، اور دوسری چیز ٹھنڈی، ایک چیز کھانے کے قابل ہوتی ہے، اور دوسری چیز کھانے کے قابل نہیں ہوتی۔ لیکن معنوی فرق کا معاملہ بالکل الگ ہے۔ یہاں فرق کو جاننے کا صرف ایک ہی ذریعہ ہے۔ وہ یہ ہے کہ آدمی کے اندر فرق کو سمجھنے کا اکیوٹ سنس (acute sense) موجود ہو۔ اسی کے ساتھ آدمی کے اندر وہ ذوق موجود ہو، جو اس کو مجبور کرے کہ وہ اس فرق کو اپنے معاملات میں استعمال کرے۔

مثلاً مبنی بر عداوت تحریک، اور مبنی بر دعوت تحریک۔ دونوں ایک دوسرے سے بالکل مختلف کیوں کہ دعوتی عمل خیر خواہی کی بنیاد پر چلتا ہے، اور خیر خواہی عداوت کی ضد ہے۔ جو آدمی اس معاملے میں حساس (sensitive) نہ ہو، وہ دعوت کی بات کرے گا، اور اسی کے ساتھ وہ عداوت کا طریقہ بھی اختیار کرے گا۔ اس کے برعکس، جو آدمی اس معاملے میں حساس ہو، وہ اس کا تحمل نہیں کر سکتا کہ وہ صاحب دعوت ہونے کا دعویٰ کرے، اور اسی کے ساتھ وہ لوگوں کے خلاف عداوت کی باتیں بھی وہ یہ بھی کہے کہ مسلمان کو لوگوں کے درمیان نافع (giver group) بن کر رہنا چاہیے، اور اسی کے ساتھ وہ شکایت اور ظلم کی باتیں لے کر پرجوش تقریریں بھی کرے۔ فرقان کی یہ صلاحیت صحیح معنوں میں اس وقت پیدا ہوتی ہے، جب کہ آدمی اپنے آپ کو اللہ کے سامنے جواب دہ سمجھتا ہو۔

Printed page