اجتہاد کیا ہے
Al-Risala, March 2020, pp. 11–12
By Maulana Wahiduddin Khan
اجتہاد کیا ہے۔ اجتہاد یہ ہے_ کسی حکم شرعی پر عمل کرنے میں جب حالات کی تبدیلی کی بنا پر فرق واقع ہو جائے، تو اس وقت حکم کو ظاہری صورت کے اعتبار سے دیکھنے کے بجائے حکم کو ری ڈیفائن کرنا تاکہ اسپرٹ پوری طرح باقی رہے، لیکن فارم کو اس طرح بدلا جائے کہ وہ مطابق حال ہو جائے۔ اس کی ایک رہنما مثال پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مدنی دور کا ایک واقعہ ہے۔ نے ایک بار مدینہ سے صحابہ کی ایک جماعت کو بنو قریظہ کی طرف بھیجا۔ بنو قریظہ ایک یہودی قبیلہ (Jewish tribe) تھا۔ یہ قبیلہ مدینہ سے جنوب کی جانب آباد تھا۔ اس واقعے کا ذکر روایتوں میں آیا ہے، اس کا متعلق جزیہ ہے: لما انصرف المشركون عن الخندق وَرَجَعَ رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَخَلَ بيت عَائِشَة أتاه جبريل فوقف عند موضع الجنائز فَقَالَ : عذيرك من محارب ! فخرج إليه رَسُولِ الله - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ -[فزعا فَقَالَ:إن : إن الله يأمرك أن تسير إلى بني قريظة فإني عامد إليهم فمزلزل بهم حصونهم . فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عليا - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ . فدفع إِلَيْهِ لواءه وبعث بلالا ] فنادى في النَّاسِ إِنَّ رسول الله - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يأمركم ألا تصلوا العصر إلا في بني قريظة ( الطبقات الكبرى لابن سعد، 2/57)_ بعض روایتوں میں یہ اضافہ ہے : فَأَدْرَكَ بَعْضُهُمُ العَصْرَ فِي الطَّرِيقِ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : لاَ نُصَلِّی حَتَّى نَأْتِيَهَا ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : بَلْ نُصَلِّي ، لَمْ يُرِدْ مِنَّا ذَلِكَ ، فَذُكِرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يُعَنِّفْ وَاحِدًا مِنْهُمْ ( صحیح البخاری، حدیث نمبر 946)۔ ان میں جن لوگوں نے نماز پڑھی ان لوگوں نے یہ کہا : لم يرد رسول الله ترك الصلاة، إنما أراد تعجيل السير (الفصول فی السيرة، أبو الفداء ابن کثیر، 1/171)۔
ان روایتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ نے صحابہ کی ایک جماعت کو غزوہ خندق کے بعد بنو قریظہ کی طرف بھیجا، اور بھیجتے ہوئے آپ نے تاکید کے ساتھ یہ کہا کہ تم لوگ عصر کی نماز بنو قریظہ
کی بستی میں پہنچ کر ہی ادا کرنا۔ مگر بنو قریظہ کی بستی تک پہنچنے سے پہلے عصر کی نماز کا وقت آگیا۔ تک کہ ایسا لگنے لگا کہ بنو قریظہ تک پہنچنے سے پہلے عصر کا وقت ختم ہو جائے گا۔ اس لیے کچھ لوگوں نے بنو قریظہ تک پہنچنے سے پہلے ہی عصر کی نماز پڑھ لی۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو جب معلوم ہوا تو آپ نے کسی کے خلاف کچھ نہیں کہا۔ نماز پڑھنے والے صحابہ نے کہا: رسول اللہ کی مراد نماز ترک کرنا نہیں تھا، بلکہ آپ کی مراد تیزی کے ساتھ سفر کرنا تھا۔
فَذُكِرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يُعَنِّفْ وَاحِداً مِنْهُمْ (پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو جب معلوم ہوا تو آپ نے کسی کے خلاف کچھ نہیں کہا)۔ رسول اللہ کے اس عمل سے یہ اخذ ہوتا ہے کہ آپ نے جو کچھ کیا، اس کا مفہوم یہ تھا کہ تم دونوں درست ہو کہ تم میں سے ایک گروہ نے حکم کی لفظی پیروی کی، اور تم میں سے دوسرے گروہ نے حکم کی اجتہادی پیروی کی ہے۔