Al-Risala · March 2020

تجدیدی کام

Al-Risala, March 2020, pp. 12–13

By Maulana Wahiduddin Khan

مشہور حنفی فقیہ زین الدین ابن نجیم (926-970ھ) نے اپنی کتاب الْأَشْبَاهُ وَالنَّظَائِرِ میں لکھا ہے: قَالَ بَعْضُ الْمَشَايِخِ: الْعُلُومُ ثَلَاثَةٌ: عِلْمٌ نَضِجَ وَمَا احْتَرَقَ؛ وَهُوَ عِلْمُ النَّحْوِ، وَعِلْمُ الْأُصُولِ. وَعِلْمٌ لَا نَضِجَ وَلَا احْتَرَقَ؛ وَهُوَ عِلْمُ الْبَيَانِ وَالتَّفْسِيرِ. وَعِلْمٌ نَضِجَ وَاحْتَرَقَ؛ وَهُوَ عِلْمُ الْفِقْهِ وَالْحَدِيثِ (الأشباه والنظائر على مَذْهَبِ أَبِي حَنِيفَةَ النُّعْمَان لابن نجيم المصري، دار الكتب العلمية، بيروت، 1999 ، صفحه 330)۔ یعنی بعض مشائخ نے کہا ہے کہ علم تین ہیں، ایک وہ علم، جو نضج کو پہنچ گیا، مگر فنا نہیں ہوا۔ یہ نحو اور اصول کا علم ہے۔ دوسرا وہ علم ہے، جو نضج کو پہنچا، اور نہ فنا ہوا۔ بیان اور تفسیر کا علم ہے۔ تیسرا وہ علم جو نضج کو پہنچ گیا، اور فنا ہو گیا۔ یہ فقہ اور حدیث کا علم ہے۔ شافعی فقیہ بدر الدین محمد بن عبد اللہ الزرکشی (وفات 794ھ) نے بھی اپنی کتاب میں لکھا ہے (المنثور في القواعد الفقهية، وزارة الأوقاف الكويتية، 1985، جلد 1، صفحه 72)۔

نضج کا مطلب ہے پختگی کی حد کو پہنچ جانا (fully developed)۔ راقم الحروف کا اپنے مطالعے کے مطابق، یہ خیال ہے کہ تمام وہ علوم جو اسلامی علوم کہے جاتے ہیں، انطباق کے اعتبار سے

ان کے دو درجے ہیں ۔ روایتی انطباق (traditional application)، عصری انطباق یہ کہنا صحیح ہوگا کہ روایتی اعتبار سے تمام علوم پر اتنا کام ہوا ہے کہ وہ نضج کے درجے تک پہنچ گئے ہیں۔ لیکن دورِ سائنس، جو روایتی دور سے بالکل مختلف ہے، اس دور کے اعتبار سے یہ ضرورت ابھی باقی ہے کہ تمام علوم کو دورِ جدید کے معیار پر دوبارہ مدون کیا اس دوسرے پہلو سے تمام علوم ابھی تک غیر نضج کی حالت میں ہیں۔ غالباً کوئی بھی علم نضج کے درجے تک نہیں پہنچا۔

مثلاً عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ فقہ کا علم نضج کے درجے تک پہنچ چکا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ فقہ اس معاملے میں مستثنیٰ (exception) نہیں۔ مثال کے طور پر کئی عمل ایسے ہیں، جن کے بارے میں فقہاء یہ کہتے ہیں کہ یہ قتل حد (بہ طور حد قتل کیا جائے گا)۔ جیسے ترک صلاۃ، ارتداد، شتم رسول، اسی طرح فقہانے دنیا کو دار الاسلام اور دار الحرب کے خانوں میں تقسیم کر رکھا ہے، وغیرہ۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے اس قسم کے فتاویٰ زمانی تقاضے کے تحت بنے ہیں، جو موجودہ زمانے میں غیر متعلق (irrelevant) ہو چکے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ خود علما کے عمومی مسلک کے مطابق اس قسم کے فتاویٰ پر نظر ثانی کی جائے۔ علما کے اس مسلک کی نمائندگی کرتے ہوئے ابن القیم (1292-1350ء) نے اپنی کتاب إعلام الموقعین عن رب العالمین میں ایک مستقل باب لکھا ہے، اس باب کا عنوان یہ ہے: فَصْلٌ فِي تَغْیِیرِالْفَتْوَى،وَاخْتِلَافِہَا وَاخْتِلَافِهَا بِحَسَبِ تَغَيُّرِ الْأَزْمِنَةِ وَالْأَمْكِنَةِ وَالْأَحْوَالِ وَالنِّيَّاتِ وَالْعَوَائِد (فصل: زمانہ، مقامات، حالات، نیتوں اور ضروریات کے بدل جانے کی بنیاد پر فتویٰ کی تبدیلی، اور ان میں فرق)۔

Printed page