Al-Risala · March 2020

آج کی نوجوان نسلیں

Al-Risala, March 2020, p. 17

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ زمانے کے نوجوانوں کا مسئلہ صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ ان کے ذہن میں کچھ مثبت سوالات ہیں۔ مگر ہمارے رہنما ان سوالات کے جوابات منفی انداز میں پیش کر رہے ہیں۔ تضاد کی صورت حال ہے، اور یہی تضاد آج کے نوجوانوں کا اصل مسئلہ ہے۔ آج کا نوجوان بھٹکا ہوا نوجوان نہیں ہے، بلکہ وہ متلاشی (seeker) نوجوان ہے۔

بے لاگ تجزیہ بتاتا ہے کہ آج کل کے نوجوانوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان کے بزرگوں نے ان کو یہ بتایا کہ دورِ جدید ایک مخالف مذہب دور ہے۔ اس سوچ کے تحت ہمارے بزرگوں نے نوجوانوں کو یہ ٹارگٹ دیا کہ وہ دورِ جدید کو بدلیں۔ اس بنا پر ہماری کئی نسلیں خود ساختہ نظریے کے تحت دورِ جدید سے لڑتی رہیں۔ لیکن عملاً ان کو نا کامی کے سوا کچھ اور نہیں ملا۔ اس مسئلے کا حل صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ ہمارے بزرگ کھلے طور پر اعتراف کریں کہ ان کی نشاندہی غلط تھی ۔ وہ اعلان کریں کہ دورِ جدید جو سائنس کی دریافتوں کے تحت بنا ہے، وہ ایک موافق مذہب دور تھا، لیکن ہمارے بزرگوں نے خلاف واقعہ طور پر اس کو مخالف مذہب دور کی حیثیت دے دی، اور ہماری جدید نسل نے بے فائدہ طور پر اس کے خلاف نظری یا عملی جنگ چھیڑ اس کے نتیجہ میں مایوسی کے سوا ان کو کچھ اور نہیں ملا۔

اب کرنے کا کام صرف یہ ہے کہ آج کے نوجوانوں کو یہ بتایا جائے کہ جدید دور ایک موافق مذہب دور ہے۔ جدید تہذیب ایک موافق مذہب تہذیب ہے۔ جدید دور نے ہمارے لیے نئے مواقع کھول دیے ہیں، جن کو اویل کر کے ہم تاریخ کی سب سے بڑی کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ مثلاً قدیم دور تو ہمات کا دور (age of superstitions) تھا، آج کا دور حقائق کا دور ہے۔ قدیم دور جبر کا دور تھا، آج کا دور آزادی کا دور ہے، وغیرہ۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سے ہم نوجوانوں کو ایک امید بھرانیا آغاز دے سکتے ہیں۔

Printed page