Al-Risala · March 2020

فکری آزادی کا فارمولا

Al-Risala, March 2020, pp. 23–25

By Maulana Wahiduddin Khan

سائنس نام ہے نیچرل سائنس کا۔ نیچرل سائنس ساری کی ساری اس پر مبنی ہے کہ خالق کی بنائی ہوئی دنیا کن اصولوں پر کام کرتی ہے ۔ اسی دریافت (discovery) کو جب منظم انداز میں بیان کر دیا جائے، تو اسی کا نام سائنس ہے۔ یہ مبنی بر فطرت قوانین عملاً تقریباً تیرہ بلین سال سے موجود تھے، جب کہ بگ بینگ سے کائنات کا آغاز ہوا۔ پھر کیوں ایسا ہوا کہ فطرت کے ان قوانین کو دریافت کرنے میں بہت زیادہ دیر لگی۔ حالاں کہ اس پر غور وفکر بہت پہلے سے جاری ہے۔ سبب یہ تھا کہ فطرت کا علم یقینی طور پر مدون شکل میں موجود نہ تھا۔ بلکہ اس کو ریسرچ کر کے دریافت دریافت کے اس عمل میں بہت سے دماغ شامل تھے۔ ہر دماغ اپنے مطابق سوچتا تھا، اور اس کو بیان کرتا تھا۔ اس کے باوجود فطرت کا علم آگے نہیں بڑھا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ مختلف دماغوں کو ایک سوچ پر لانے کے لیے کوئی فارمولا موجود نہ تھا۔

آخر کار مغرب کے اہل دماغ نے اس پر غور کیا۔ انھوں نے پایا کہ علوم فطرت کی دریافت کے لیے فری تھنکنگ (free thinking) بہت ضروری ہے۔ لیکن بے قید فری تھنکنگ کی صورت میں اگر یگریمنٹ (agreement) ہونا عملاً نا ممکن بن گیا ہے۔ اس لیے اہل مغرب نے اس معاملے میں ایک قابل عمل اصول دریافت کیا۔ وہ اصول تھا ڈسنٹ (dissent) کا اصول۔ ڈسنٹ کا لفظ ایک نیوٹرل ٹرم (neutral term) ہے۔ جب کہ ہر آدمی کی ایک اوپینین (opinion) ہے۔ اوپینین کوصحیح اور غلط کے معیار سے جانچنے کے بجائے مجرد طور پر آزادی فکر (freedom of opinion) کا اصول تسلیم کیا جائے۔ اس سے ایک نیوٹرل ٹرم وضع ہوا، جس کو ڈسنٹ (dissent) کہا جاتا ہے۔ یعنی یہ نظریہ کہ اپنے آپ کو صحیح سمجھتے ہوئے دوسرے کے لیے یہ امکان تسلیم کرنا کہ وہ یکساں طور پر بر سر حق ہوسکتا ہے۔ اس اصول سے فکری عمل مکمل طور پر آزاد ہو گیا۔ اب ہر آدمی کو یہ موقع مل گیا کہ وہ اپنی رائے کو آزادانہ طور پر ظاہر کرے، بغیر اس کے کہ وہ دوسرے کی رائے کو غلط یا

کہا جاتا ہے کہ مشرقی دنیا میں فکری جمود کا مسئلہ ہے۔ مشرقی فکر کے مفروضہ جمود کا سبب یہ ہے کہ اہل مشرق آزادی فکر کا کوئی قابل عمل (workable) فارمولا دریافت نہ کر سکے۔ میں فکری عمل بھر پور طور پر جاری ہوا، لیکن مشرق میں فکری عمل تنگ حالت میں پڑا رہا۔ جس چیز کو فکری جمود کہا جاتا ہے، وہ نتیجہ ہے فکری عمل کے ورکبیل (workable) فارمولے کو دریافت کرنے میں ناکام رہنا۔ کیوں کہ مشرق میں تعدد فکر (diversity of thought) کے بجائے تو حد فکر (unity of thought) کو اپنایا گیا۔ اہل مشرق چیزوں کو حلال و حرام کے ٹرم میں دیکھتے رہے، جس کی وجہ سے ان کے یہاں فری تھنکنگ عملاً رواج نہ پاسکی۔ ہر بار جب ایک شخص نے کوئی فکری فارمولا دریافت کیا، تو دوسرا شخص جوابی ذہن لے کر کھڑا ہو گیا کہ یہ غلط ہے، یہ نا جائز ہے، یہ حرام ہے، وغیرہ۔ مشرق میں کسی کے لیے بھی فری تھنکنگ کو اپنا کر جمہور سے الگ رائے اختیار کرنا ممکن نہ تھا۔ چنانچہ ان کے یہاں فکر و تحقیق کا کام تعطل کی حالت میں پڑا رہ گیا۔ مغرب میں فکری آزادی کا ڈیولپمنٹ واقعہ بن گیا، لیکن مشرق میں یہ واقعہ نہیں بن سکا۔ کا سبب یہ تھا کہ اس معاملے میں اصل رکاوٹ اتھارٹی کا نظریہ تھا، یعنی باتوں کو ریزن کی بنیاد پر سننے کے بجائے اکابر کی بنیاد پر سننا۔ قدیم زمانے میں ساری دنیا میں اتھارٹی کا تصور چھایا ہوا تاہم مغرب میں سائنس اور چرچ کے ٹکراؤ کے نتیجے میں اتھارٹی کا تصور کمزور ہوا، پھر اس کا اس کے بعد مغرب نے نسبتاً آسانی کے ساتھ ڈسنٹ (dissent) کا نیوٹرل نظریہ اختیار کر لیا۔ یہی وجہ ہے کہ مغرب میں پوپ ڈم (popedom) کا مستند تصور ایک مدت کے رواج کے بعد ختم ہوگیا۔ اس کے برعکس، مشرق کا حال یہ ہے کہ وہاں اس قسم کا تصور اعتقادی سطح پر مشرق میں اتھارٹی کا تصور عقیدے پر مبنی ہے، یعنی اکابر کی اتھارٹی۔ اس لیے وہ ختم نہ ہوسکا۔ بلکہ آج تک وہ موجود چلا آرہا ہے۔ یہاں ہر آدمی عملاً یہ مانتا ہے کہ اکابر کی رائے عقیدے سے تعلق رکھتی ہے، اور عقیدے کے معاملے میں حرام و حلال کو دیکھا جاتا ہے، نہ کہ ریزن کو۔

آزادی فکر اپنے آپ میں تنوع (diversity) چاہتی ہے۔ اس لیے آزادی فکر اور توحد فکر دونوں یکجا نہیں ہو سکتے۔ دونوں کو یکجا کرنے کا نتیجہ نکلے گا کہ آزادی فکر کا حصول عملاً نا ممکن ہو جائے اس کا واحد حل یہ ہے کہ اس معاملے کے لیے ایک نیوٹرل فارمولا دریافت کیا جائے۔ ایک یہ کرے کہ وہ اپنے آپ کو صحیح سمجھتے ہوئے دوسرے کو بھی یکساں درجے میں صحیح سمجھنے کا حق اسی نیوٹرل آزادی فکر کا نام ہے ڈسنٹ ، جو آزادی فکر کا واحد قابل عمل فارمولا ہے۔ ایک میوچول پراسس (mutual process) ہے، وہ یونی لیٹرل (unilateral) نوعیت کا

دور جدید میں جن مثبت باتوں کا آغاز ہوا ہے، ان میں سے ایک یہ ہے کہ اب بذریعہ تلوار اختلاف کو دور کرنے کا زمانہ ختم ہو چکا ہے، اور بذریعہ ڈسینٹ (dissent) اختلاف کو اوائڈ کرنے آغاز ہوا ہے۔ قدیم زمانے میں جب اختلاف پیدا ہوتا تھا، تو اس کا خاتمہ صرف تلوار کے ذریعے ہوا کرتا تھا۔ مثلاً قدیم عرب میں یہ سمجھا جاتا تھا : القتل انفی للقتل (قتل، قتل کے لیے سب سے بڑا روک ہے۔

مگر اب یہ فریم ورک (framework) بدل چکا ہے۔ موجودہ دور میں اختلاف کے خاتمے کا سپورٹنگ اسٹرکچر (supporting structure) بدل گیا ہے۔ اب وسیع تباہی کے ہتھیاروں (weapons of mass destruction) نے دونوں فریقوں کو اس بات پر مجبور کر دیا ہے کہ دونوں فریق اختلاف کا خاتمہ گفتگو کی میز پر کریں۔ اب جو اختلاف ختم ہوا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کو تلوار کی بنیاد پر فیصلے کا بدل مل گیا ہے، اور وہ ہے ڈسُنٹ انسان کی عقل نے یہ ریلائز کرلیا ہے کہ اختلاف کا خاتمہ ریزن کی سطح پر ہو سکتا پہلے زمانے میں حالت یہ تھی کہ اختلاف کی وجہ سے اگر کوئی فریق نہ لڑنا چاہے، تب بھی اس کو جان و مال کی قربانی دینی پڑتی تھی۔ اس کے برعکس، موجودہ دور میں ریزن (reason) کی سطح پر اختلاف کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔

Printed page