مسلح جہاد
Al-Risala, March 2020, p. 31
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام کے کچھ احکام وقتی ہوتے ہیں، یعنی وقتی حالات کی نسبت سے مطلوب ہوتے ہیں۔ قرآن میں حج کے سفر کے ذیل میں یہ آیا ہے: وَأَذِّنْ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَأْتُوكَ رِجَالاً وَعَلَى كُلِّ ضَامِرٍ يَأْتِينَ مِنْ كُلِّ فَجِّ عَمِيقٍ (27: ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بروقت پیدل اور اونٹ پر سفر کر کے حج کیا جائے ۔ لیکن جب ہوائی جہاز کا زمانہ آجائے، تو ہوائی جہاز کے ذریعے سفر کر کے حج
اسی طرح قرآن میں مسلح جہاد کا حکم وقتی ہے، یعنی جب تک دنیا میں وائلنٹ ایکٹوزم کا دور ہے، تو تم بھی بطور دفاع وائلنٹ ایکٹوزم کا طریقہ اختیار کرو۔ جب دنیا میں پیس فل ایکٹوزم کا دور آجائے ، تو اس وقت مسلح جہاد مطلوب نہیں رہے گا۔ اس وقت زمانے کے تقاضے کے لحاظ سے پیس فل جہاد مطلوب ہو جائے گا۔ کیوں کہ بعد کے زمانے میں ایسے اسباب پیدا ہوں گے کہ مسلح جدوجہد غیر مطلوب ہو جائے گا۔ اس وقت سے پہلے کے دور میں مسلح عمل سے جو چیز حاصل کی جاتی تھی، وہ سب مزید اضافے کے ساتھ پیس فل طریقہ کار کے ذریعہ قابل حصول ہو جائے گا۔
پہلے زمانے میں طاقت کا نشان صرف تلوار ہوتی تھی۔ چنانچہ کہا جاتا تھا: ہر کہ شمشیر زند سکہ مگر سائنسی انقلاب کے بعد ساری اہمیت علم، ٹکنالوجی اور انڈسٹری کو حاصل ہو گئی ہے۔ واقعہ جنگ عظیم ثانی (1945-1939) کے بعد پیش آیا ہے۔ اس حقیقت کی طرف ایک حدیث رسول میں ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے: لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْح (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2783)۔ یعنی فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہجرت کے بعد ایک ایسا دور آنے والا تھا، جب کہ اسلام پر عمل کرنے کے لیے ہجرت کرنا غیر ضروری ہو جائے گا۔ کیوں کہ اس کے بعد سب کچھ پر امن ذرائع سے حل کرنا ممکن ہو جائے گا، یعنی وہ دور ایسا ہوگا کہ اس میں دعوتی جہاد کا عمل پر امن طریقے سے انجام دیا جائے گا— اسلام میں اصل مطلوب مقصد ہے، نہ کہ ذریعہ۔