جدید اسلوب کا ایک پہلو
Al-Risala, March 2020, p. 40
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک مسلم رائٹر کسی شخص کے بارے میں لکھے گا تو وہ اس طرح لکھے گا کہ شیخ الاسلام تقی الدین احمد بن عبد الحلیم ابن تیمیہ ان ذی علم ہستیوں میں سے ایک تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی تجدید کے لیے پیدا فرمایا۔ دین کے مجددین کی فہرست میں انہیں خصوصی مقام حاصل ہے۔ لیکن سیکولر رائٹر کی زبان یہ نہیں ہوتی۔ سیکولر رائٹر کسی چیز کو اس کے میرٹ پر جانچتا ہے، وہ اس کو اس کے تاریخی پہلو سے دیکھتا ہے۔ اس کا معیار یہ ہوتا ہے کہ آبجیکٹیو (objective) انداز میں جو کچھ ثابت ہو، وہی قابل حوالہ ہے، اور جو چیز آبجیکٹیو انداز میں ثابت نہ ہو، وہ عقیدے کا موضوع ہے، نہ کہ علم کا۔ رائٹر (writer) کے لیے اس اصول کو ملحوظ رکھنا بہت ضروری ہے۔ ورنہ اس کی تحریر میں کچھ صاحبِ عقیدہ لوگوں کے لیے قابل مطالعہ ہو سکتی ہیں، لیکن دوسرے لوگوں کے لیے ان کی کوئی حیثیت نہ ہوگی۔
عام دینی علما اور مستشرق اہل علم کے درمیان یہی فرق ہے۔ مستشرق عالم ایسی باتوں کی بنیاد پر لکھتا ہے، جو دینی مآخذ کے باہر آزادانہ حوالوں سے ثابت شدہ قرار پاتی ہوں۔ جو باتیں آزادانہ حوالوں سے ثابت شدہ نہ ہوں، وہ مستشرقین کے لیے قابل حوالہ نہیں۔
خواہ لکھنے کا معاملہ ہو، یا بولنے کا معاملہ۔ صحیح اسلوب یہ ہے کہ آدمی حقیقت نگاری کا طریقہ تعریف نگاری اور بلا دلیل تنقید، دونوں سے وہ دور رہے۔ اس معاملے میں سب سے زیادہ غلط رواج وہ ہے، جس میں افراد کو فضیلت کی زبان میں بیان کیا جاتا ہے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ افراد کو اسی نام سے یاد کیا جائے، جو ان کا اصل نام ہے۔ ان کے نام کے ساتھ بڑے بڑے القاب اور فضیلت کا اسلوب ہرگز اختیار نہ کیا جائے۔ صحابہ کے زمانے میں یہی طریقہ رائج تھا۔ کر نام لینا، اور نام کے ساتھ فضیلت کے القاب شامل کرنا، یہ سب صحابہ کے زمانے میں نہیں تھا۔ اسلوبِ حقیقت نگاری کا اسلوب ہے، نہ کم، نہ زیادہ۔