اس عہد پر قائم رکھے۔ “
Al-Risala, January 2020, pp. 15–21
By Maulana Wahiduddin Khan
اسی طرح حفظ الرحمن عظیم قاسمی 19 نومبر 1978 کو میرے دفتر میں آئے۔ ان کے ساتھی نے بتایا کہ وہ ہر شخص کی تقریر کو دہرا سکتے ہیں۔ چنانچہ انھوں نے قاری طیب صاحب، مولانا انظر شاہ صاحب کی تقریروں کو بالکل انھیں کی آواز میں دہرادیا۔ تاہم مجھے اس سے خوشی نہیں ہوئی۔ کہا کہ جب آپ کا حافظہ اتنا غیر معمولی ہے، تو آپ اس کو نقل کے بجائے کسی زیادہ بہتر کام میں استعمال کریں۔ مثلاً آپ انگریزی پڑھیں۔ اچھا حافظہ ہونے کی وجہ سے آپ بہت آسانی سے نئی زبان سیکھ سکتے ہیں۔ انھوں نے اتفاق کیا اور میری ڈائری پر یہ الفاظ لکھے : ’’میں اللہ کو گواہ بنا کر یہ وعدہ کرتا ہوں کہ اس کے بعد کسی کی تقریر نہیں دہراؤں گا، ان شاء اللہ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں حضرت عائشہ نے فرمایا کہ لوگوں نے آپ کو روند ڈالا تھا (حَطَمَةَ النَّاسِ) صحیح مسلم، حدیث نمبر 732۔ نہیں معلوم کہ اللہ تعالی کی کیا مصلحت ہے، مگر میرے جیسے کمزور آدمی کے ساتھ بھی یہ واقعہ پیش آیا ہے کہ لوگوں نے مجھ کو اتنا زیادہ ستایا ہے کہ اس کے لیے انسانی زبان میں سب سے موزوں لفظ یہی ہے۔ لوگوں نے مجھ کو روند ڈالا۔ پھر بھی میں زندہ ہوں۔ اپنے حال پر مجھے ایک قصہ یاد آتا ہے۔ ایک رسالہ نے ایک بار ایک انعا می سوال نامہ چھاپا۔ سوال یہ تھا کہ ایک عورت کی شادی ایک مرد سے ہوئی۔ عورت اس مرد کو بہت زیادہ چاہتی تھی۔ مگر شادی کے جلد ہی بعد مرد کا انتقال ہو گیا اور اس نے ایک چھوٹا بچہ چھوڑا۔ میں پوچھا گیا تھا کہ بتاؤ کہ یہ عورت اپنے محبوب شوہر کے مرنے کے بعد خود بھی مر جانا چاہے گی یا زندہ رہنا پسند کرے گی۔ بہت سے لوگوں نے اپنے جوابات بھیجے۔ جس آدمی کو انعام ملا، وہ شخص وہ تھا جس نے لکھا کہ وہ عورت اپنے بچے کی خاطر زندہ رہنا چاہے گی۔
ایسا ہی کچھ میرا حال بھی ہے۔ لوگوں نے مجھے جس قدر ستایا ہے، اور ستار ہے ہیں، اس کے بعد مجھے ایک دن کے لیے بھی زندہ نہیں رہنا چاہیے تھا۔ مگر میرے سامنے جو دینی کام ہے وہی وہ چیز
ہے جو مجھے زندہ رکھے ہوئے ہے۔
میں قرآن کی تفسیر مکمل کرنا چاہتا ہوں۔ میں سیرت پر ایک کتاب لکھنا چاہتا ہوں۔ علاوہ کئی ضروری موضوعات پر دینی کتابیں تیار کرنا ہے۔ یہی پیش نظر کام ہے، جو مجھے زندہ رہنے پر مجبور کرتا ہے۔
شاید اللہ تعالیٰ کو بھی منظور ہے کہ میں یہ کام کروں۔ ورنہ لوگوں نے جتنا زیادہ مجھے پریشانی میں مبتلا کیا ہے، اس کے بعد میری راتوں کی نیند اڑ جانی چاہیے تھی۔ مگر یہ اللہ کا خاص فضل ہے کہ میرے ہوش پوری طرح باقی ہیں۔ رات کو مجھے وہ نیند آتی ہے جس کو sound sleep کہا جاتا ہے۔ میری نیند خدانخواستہ اڑ جاتی ، تو اس کے بعد میں کوئی بھی علمی کام نہیں کر سکتا تھا۔ یا اللہ، مجھے بخش دیجیے، دنیا کا ستایا ہوا، آخرت میں نہ ستایا جائے۔
پاکستان کے سفر میں میری ملاقات ایک صاحب سے ہوئی ۔ یہ ایک مشہور شخصیت ہیں، اور پاکستان میں غلبہ اسلام کی تحریک چلا رہے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ پاکستان میں غیر مسلم (ہندو اور عیسائی) قابلِ لحاظ تعداد میں موجود ہیں۔ کیا ان کے درمیان کوئی تبلیغِ اسلام کی تحریک چل میرا یہ سوال سن کر وہ مسکرائے اور پھر کہا: یہاں غیر مسلموں کی فکر کون کرتا ہے۔ مجھے ان کے اس جواب سے بہت دھکا لگا۔ میرے لیے یہ تجربہ بڑا اندوہ ناک تھا کہ جو لوگ غلبہ اسلام کی باتیں کرتے ہیں، ان کو صرف اسلام کے سیاسی غلبہ سے دلچسپی ہے۔ خدا کے بندوں کو جہنم کی آگ سے بچانے کی انھیں کوئی فکر نہیں۔ میرا قطعی یقین ہے کہ غلبہ اسلام کی بات کو اگر دعوت اسلام سے الگ کر دیا جائے تو وہ صرف ایک قومی نعرہ بن جاتا ہے۔ دعوتِ اسلام سے الگ کرنے کے بعد غلبہ اسلام کے نعرے کی کوئی حقیقت نہیں۔
اس قسم کی تحریک عین وہی ہے، جو یہودیوں کے اندر چل رہی ہے۔ یہودیوں کی تحریک صہیو نیت (Zionism) گویا حضرت موسیٰ کے دین سے ہدایت کو الگ کر کے صرف سیاست کو
لے لینا ہے۔ اسی طرح مسلمانوں میں جو لوگ حقیقی معنوں میں دعوتی جذبہ نہیں رکھتے، البتہ غلبہ اسلام کے موضوع پر پر جوش تقریریں کرتے ہیں، وہ در حقیقت قومی دین پر ہیں، نہ کہ خدائی دین پر۔ انھوں نے دین کے دعوتی حصہ کو الگ کر کے اس کے سیاسی حصہ کو لے رکھا ہے، اور یہ عین وہی چیز ہے جو یہودیوں کے یہاں پائی جاتی ہے، فرق صرف یہ ہے کہ یہودی اپنی روایات میں بولتے ہیں، اور مسلمان اپنی روایات میں۔
جو مسلمان غلبۂ اسلام کے علم بردار ہیں، وہ بظاہر دعوت کا لفظ بھی بولتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اسلامی تحریک کے تین مرحلے ہیں۔ دعوت، ہجرت، جہاد۔ مگر دعوت سے ان کی مراد اپنے سیاسی اسلام کے لیے فضا تیار کرنا ہے، نہ کہ اللہ کے بندوں کو جہنم سے نکال کر جنت کے راستہ پر ڈالنا۔ مسلمان واحد قوم ہیں جنھوں نے بحیثیت قوم آج کی دنیا میں سب سے بڑی اقتصادی قربانی یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ مسلمان آج اقتصادیات میں سب سے پیچھے ہیں۔ یورپ کی نشاة ثانیہ سے پہلے وہ ساری دنیا میں اقتصادی اعتبار سے سب سے آگے تھے۔ اس کی وجہ ان کی بے خبری نہیں، جیسا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے، بلکہ بربنائے عقیدہ ان کی قربانی ہے۔ آخر چند سے تو نہیں آئے، وہ بھی انھیں قوموں سے نکل کر اسلام میں داخل ہوئے ہیں، پھر کیا وجہ ہے کہ دوسری قومیں جس جدید اقتصادی تبدیلی کو سمجھ کر اس پر چل پڑیں، مسلمان اس پر نہیں چلے۔ وجہ سود ہے۔ جدید اقتصادیات تمام کی تمام سود پر مبنی ہیں۔ مسلمان سود کی حرمت کی وجہ سے اس سے اور اس کے نتیجے میں اقتصادی اعتبار سے وہ ساری قوموں میں سب سے پیچھے ہو گئے۔ سودی اقتصادیات نے آج ساری دنیا کو تباہ کر رکھا ہے۔ مسلمانوں کے لیے بہترین موقع تھا کہ وہ دنیا کے سامنے غیر سودی نظام کی تبلیغ کرتے۔ اگر وہ صحیح معنوں میں ایسا کرتے تو وہ جدید دنیا کے امام بن سکتے تھے۔ مگر عجیب بات ہے کہ اس معاملہ کا نقصان تو ان کے حصے میں آیا، مگر اس کا فائدہ ان کے حصے میں نہ آسکا۔
موجودہ زمانہ کی دو بنیادی خرابیاں ہیں جنھوں نے ساری انسانیت کو تباہ کر رکھا ہے۔ سودی معاشیات، دوسرے آزادانہ جنسی اختلاط۔ ان دونوں چیزوں کے بارے میں دوسرے مذاہب کے پاس واضح اصول نہیں۔ تحریف (distortion) نے ان کی تعلیمات میں صحیح اور غلط کی آمیزش کر رکھی ہے۔ آج صرف اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے، جس میں ان امور کے بارے میں واضح احکام موجود ہیں۔ ان کو لے کر دنیا کے سامنے کھڑا ہونے کے لیے دعوتی ذہن اور علم درکار ہے، اور یہی دونوں چیزیں ہیں جو مسلمانوں کے پاس موجود نہیں۔
ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ الرسالہ کے پرانے قاری ہیں۔ میں نے الرسالہ کے بارے میں ان کا تاثر پوچھا۔ انھوں نے کہا کہ میں سب سے پہلے سفر نامہ پڑھتا ہوں۔ آپ کا سفر نامہ بہت دل چسپ ہوتا ہے۔
اس قسم کا تبصرہ ذاتی طور پر مجھے پسند نہیں۔ کیوں کہ الرسالہ ذہنی تفریح کے لیے نہیں نکالا گیا ہے کہ لوگ اس کو دلچسپی کے لیے پڑھ لیا کریں۔ چنانچہ موصوف کی زبان سے یہ جملہ سن کر مجھے سخت مگر میں نے ناگواری کو برداشت کیا، اور اس کا اثر اپنی گفتگو یا ظاہری رویہ میں آنے اس کے بعد انھوں نے مزید اپنے تاثرات بیان کیے ۔ الرسالہ کے بارے میں بھی اور مکتبہ الرسالہ کی مطبوعات کے بارے میں بھی۔ ان کی مزید گفتگو سننے کے بعد اندازہ ہوا کہ ان کے بارے میں میرا وہ تاثر صحیح نہ تھا، جو ان کے ابتدائی فقرہ کو سن کر ہوا تھا۔ وہ الرسالہ کو محض دلچسپی کے لیے بلکہ وہ ان کے دل میں اتر چکا ہے، اور وہ اس کو اپنے حلقہ میں پھیلانے کی بھی برابر کوشش کرتے رہتے ہیں۔
اس سے میں نے یہ سبق لیا کہ آدمی کے بارے میں رائے قائم کرنے میں جلدی نہیں کرنی اس سلسلہ میں ایک بات یہ ہے کہ بیشتر آدمی یہ نہیں جانتے کہ کسی بات کو کہنے کے لیے موزوں ترین لفظ کیا ہے۔ وہ اکثر ایک موزوں بات کو غیر موزوں الفاظ میں بیان کرتے ہیں۔
وجہ سے غیر ضروری قسم کی غلط فہمیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ ہم کو چاہیے کہ ہم آدمی کو زیادہ سے زیادہ رعایت اجتماعی زندگی کو فساد سے بچانے کا یہی واحد کامیاب طریقہ ہے۔
قرآن کی سورہ المؤمن میں ان لوگوں کا ذکر ہے، جن کے لیے آخرت میں سزا کا فیصلہ ہو گا۔ ان کے اس برے انجام کی وجہ بتاتے ہوئے آیا ہے: ذَلِكُمْ بِأَنَّهُ إِذَا دُعِيَ اللَّهُ وَحْدَهُ كَفَرْتُمْ وَإِنْ يُشْرَكْ بِهِ تُؤْمِنُوا (40:12) ۔ یعنی یہ تم پر اس لیے ہے کہ جب اکیلے اللہ کی طرف بلایا جاتا تھا تو تم انکار کرتے تھے، اور جب اس کے ساتھ شریک کیا جاتا تو تم مان لیتے۔
یہی موجودہ دنیا میں انسان کی اصل گمراہی ہے ۔ انسان کبھی ایسا نہیں کرتا کہ وہ مکمل طور پر ناحق کا علم بردار بن جائے ۔ وہ ہمیشہ ایسا کرتا ہے کہ حق کے ساتھ ناحق کو ملاتا ہے، اور ملاوٹی حق کو اختیار اس کے مقابلے میں پیغمبروں کی دعوت بے آمیز حق کی دعوت ہوتی ہے۔ پیغمبر اور غیر پیغمبر کی دعوت میں خالص منطقی اعتبار سے، حق اور ناحق کا فرق نہیں ہے۔ بلکہ بے آمیز حق اور آمیزش والے حق کا یہی فرق ایک گروہ کو قابل انعام بناتا ہے، اور دوسرے گروہ کو قابلِ سزا۔ ملاوٹی حق سے انسان کو اتنی زیادہ دلچسپی کیوں ہے۔ اس کی وجہ صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ اس طریقہ کو استعمال کرنے میں آدمی کے اپنے جھوٹے دین کی نفی نہیں ہوتی۔ وہ خدا کو مانتے ہوئے بتوں کی پرستش کو بھی جاری رکھ سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جو لوگ ملاوٹی حق کو پیش کریں، وہ فوراً عوام کے اندر مقبولیت حاصل کر لیتے ان کی باتوں میں ہر ایک اپنا recognition recognitionپالیتا ہے۔ ایسے لوگ ایک طرف اصول پرستی کی باتیں کرتے ہیں، اور دوسری طرف مفاد پرستی کی ۔ ایک طرف وہ آفاقیت کا قصیدہ پڑھتے ہیں، اور دوسری طرف قوم پرستی کا ترانہ گاتے ہیں ۔ وہ ایک طرف آخرت کا نام لیتے ہیں اور دوسری طرف دنیوی جھگڑوں میں بھی لوگوں کے ساتھ شریک رہتے ہیں۔
پیغمبر کی دعوت کے انکار کی وجہ یہ ہے کہ اس میں ہر ایک اپنی نفی محسوس کرنے لگتا ہے۔
کے مقابلہ میں ”مشرک“ لیڈر کو ماننے میں کسی کو اپنی نفی نظر نہیں آتی۔ اس میں کسی کو اپنی جگہ سے ہٹنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ ہر آدمی جہاں ہے، وہیں وہ اپنے مفروضہ حق کو بھی پالیتا ہے۔ ہے کہ مشرک کے ساتھ بھیڑ جمع ہوجاتی ہے، اور موحد اس دنیا میں اکیلا رہ جاتا ہے۔ ایک شریر آدمی نے موقع پا کر ایک بزرگ کے مکان پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد اس نے مزید یہ کیا کہ بزرگ کے اوپر جھوٹے مقدمے قائم کر دیے تا کہ وہ دباؤ میں آکر اس کے ناجائز قبضہ کو مان لیں۔ عدالت کی پیشیاں ہونے لگیں، اور بزرگ کی توجہ اور پیسہ غیر ضروری طور پر اس میں ضائع ہونے لگے۔ تاہم بزرگ اس سے پریشان نہیں ہوئے۔ مذکورہ شخص سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے کہا:
یاد رکھو، آخری پیشی خدا کے یہاں ہونے والی ہے۔ موجودہ دنیا میں انسان کا حال یہ ہے کہ وہ جھوٹی تدبیریں کر کے دوسرے کے مال پر قبضہ کرتا ہے اور پھر فتح کا قہقہہ لگاتا ہے۔ کارروائیاں کر کے دوسرے کی جائداد کو اپنے نام لکھوا لیتا ہے اور پھر اپنے دوستوں میں اس کا تذکرہ اس طرح کرتا ہے گویا اس نے کوئی بہت بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔
مگر اس قسم کی فتوحات اور کامیابی جھوٹی فتوحات اور کامیابیاں ہیں۔ وہ خدا کے یہاں پیشی کے وقت اتنی بے معنی ثابت ہوں گی کہ آدمی کے پاس الفاظ بھی نہ ہوں گے کہ وہ اپنی حمایت میں کچھ وہ وہاں خود ہی اپنے جرم کا اعتراف کرے گا۔ اگر چہ اس وقت اعتراف کرنا، اس کے کچھ کام نہ آئے گا۔
ضمام بن ثعلبہ ایک صحابی ہیں۔ وہ اپنے قبیلہ سعد بن بکر کی طرف سے نمائندہ بن کر مدینہ آئے، اور اسلام قبول کیا۔ اس کے بعد وہ اسلام کے داعی بن کر اپنے قبیلہ کی طرف لوٹے ۔ پہنچ کر انھوں نے پہلی بات جو کہی وہ یہ تھی: کتنے برے ہیں، یہ لات اور عزیٰ، جن کی تم پرستش کرتے
قبیلہ کے اندر لات اور عزی کی عظمت بیٹھی ہوئی تھی، انھوں نے کہا: ضمام چپ رہو، لات اور عزی کو اس طرح برامت کہو۔ اس سے ڈرو کہ تم کو برص ہو جائے، تم کو جذام ہو جائے، تم کو جنون ہو جائے ۔ ضمام نے کہا خدا کی قسم یہ لات اور عزی نہ ہمارا کچھ بگاڑ سکتے ہیں، اور نہ ہم کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے (سیرت ابن ہشام ، جلد 2 ، صفحہ 574)۔
لات اور عزی بظاہر پتھر کے بت تھے۔ پھر قوم کے لوگوں نے ایسی بات کیوں کہی۔ وجہ یہ ہے کہ یہ پتھر کے مجسمے حقیقتًا ان کے قدیم بزرگوں کے مجسمے تھے۔ ان پتھروں کے ذریعہ وہ اپنے بزرگوں کو پوج رہے تھے۔ حضرت ضمام سے جو کچھ انھوں نے کہا وہ بدلے ہوئے الفاظ میں یہ تھا: ’’ ہمارے بزرگوں کو برامت کہو، ورنہ تم پر آفت آجائے گی‘‘۔
یہی قوموں کی خاص گمراہی ہے۔ وہ پہلے بھی تھی، اور آج بھی پوری طرح باقی ہے۔ یقین جب خدا سے ہٹتا ہے، تو وہ اکابر اور بزرگوں پر آکر رک جاتا ہے۔ لوگ اپنے اکابر سے وہ عقیدت وابستہ کر لیتے ہیں، جو عقیدت صرف ایک خدا سے ہونی چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں لوگ سب سے زیادہ جس چیز سے برہم ہوتے ہیں، وہ یہ ہے کہ ان کے بزرگوں اور اکابر پر تنقید کی جائے۔ رومن امپائر 117ء میں شمالی برطانیہ سے لے کر بحر احمر اور خلیج فارس تک پھیلی ہوئی تھی ۔ مثل مشہور ہو گئی تھی :