Al-Risala · March 2020

فریم ورک کا مسئلہ

Al-Risala, March 2020, pp. 41–42

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ مصنف کی کتاب ہے، جس کا نام یہ ہے :

A Modern Approach to Islam by Dr A. A. Faizi (1899-1981)

میں نے اس کتاب کو مکمل طور پر پڑھا ہے۔ اس پر ایک تبصرہ بھی لکھا ہے۔ کے مطابق، اس کتاب میں مسئلہ کی صحیح ترجمانی نہیں ہے۔ موجودہ زمانے میں اسلام کا اصل مسئلہ ماڈرن اپروچ کا مسئلہ نہیں ہے۔ بلکہ یہ ہے کہ سائنٹفک انقلاب کے بعد اسلوب کے اعتبار سے فریم ورک (framework) بدل گیا ہے۔ ضرورت ہے کہ اسلام کی دعوت کو جدید فریم ورک کے اعتبار سے پیش کیا جائے۔ مثلاً موجودہ زمانے میں ادبی اسلوب ایک متروک اسلوب بن چکا اب دنیا میں سائنٹفک اسلوب کا رواج ہے۔ تبدیلیٔ اسلوب کے سلسلہ میں تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو حسبِ ذیل کتاب :

The Great Intellectual Revolution by John Frederick West (J. Murray, 1965, pp.132)

اس کتاب کا ایک چیپٹر اس عنوان سے ہے: تمثیلی اسلوب کا خاتمہ (The Death of یہ چیپٹر اس موضوع پر بحث کرتا ہے۔ تمثیلی اسلوب (metaphor) میں ادبی اسلوب بھی شامل ہے۔ یہاں ادبی اسلوب کی ایک مثال درج کی جاتی ہے۔ ایک معروف عالم دین اور مورخ نے اپنی دینی کتاب سیرت النبی کے دیباچہ میں یہ بتایا ہے کہ اسلام عرب میں کیوں آیا۔ اس میں وہ لکھتے ہیں: معمورۂ عالم کے صفحےنقشہائے باطل سے ڈھک چکے تھے۔ اب ایک سادہ، بے رنگ، ہر قسم کے نقش و نگار سے معریٰ ورق درکار تھا، جس پر طُغرائے حق لکھا جائے۔ یہ ادبی اسلوب کی مثال تھی۔ اب ماڈرن سائنٹفک فریم ورک کے اعتبار سے یہ کہا جائے گا کہ یہ پوری عبارت ادبی اسلوب میں ہے۔ اس سے متعین (specific) انداز میں معلوم نہیں ہوتا کہ جو واقعہ ہوا، وہ کیا تھا۔ اس کے برعکس، اس واقعہ کو سائنٹفک اسلوب میں کہا جائے تو وہ یہ ہوگا کہ

اسلام کے ظہور کا معاملہ دو فیزز (phases) سے تعلق رکھتا ہے۔ پیغمبر ابراہیم نے اپنی اہلیہ ہاجرہ اور اپنے بیٹے اسماعیل کو اس صحرائی مقام پر بسایا جہاں اب مکہ واقع ہے۔ یہ گویا ڈزرٹ تھرپی ( desert therapy) کا معاملہ تھا۔ اس صحرائی ماحول میں دوہزار سالہ توالد و تناسل کے ذریعہ ایک نسل بنو اسماعیل تیار ہوئی، جو ماحول کی کنڈیشننگ سے پاک تھی۔ یہ ڈی کنڈیشنڈ قوم ( deconditioned nation) بڑی حد تک اپنی فطرت پر قائم تھی۔ اس ڈی کنڈیشنڈ نسل میں پیغمبر اسلام نے اپنا مشن پیغمبر ابراہیم نے اس مشن کو باعتبار تربیت شروع کیا، اور پیغمبر اسلام نے اس مشن کو عملی اعتبار سے تکمیل تک پہنچایا۔

مذکورہ عالم دین نے عرب قوم کے بارے میں جو کچھ کہا، وہ ایک ادبی اسلوب تھا، اور ادبی اسلوب جدید فریم ورک کے خلاف ہے۔ اس کے برعکس، اوپر جو لکھا گیا، وہ جدید فریم ورک کے اسلوب کی مثال ہے۔ ہمارے مصنفین کی کتابوں میں اصل کمی یہی ہے۔ میرے تجربے کے مطابق، ان میں سے کوئی کتاب ایسی نہیں ہے، جو جدید فریم ورک کے مطابق ہو۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کتابیں عصری ذہن کو ایڈریس نہیں کرتیں۔ ان کتابوں میں عصری ذہن کو کوئی ٹھیک اوے (takeaway) اور جب پڑھنے والے کو ٹھیک اوے نہ ملے تو ایسی تحریروں کو پڑھنا، اور نہ پڑھنا برابر ہو جاتا ہے۔ مسلم مصنفین کی جو کتابیں ہمارے کتب خانے میں موجود ہیں، ان کا بڑا حصہ اسی قسم کا ہے جو جدید علمی معیار پر پورا نہیں اترتا۔

Printed page