Al-Risala · April 2020

مطالعہ قرآن کا مہینہ

Al-Risala, April 2020, pp. 4–5

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ شکل میں رمضان کے مہینے میں روزہ رکھنے کا طریقہ تقریباً 1400 سال پہلے شروع ہوا۔ سب سے پہلے رسول اور اصحابِ رسول نے یہ عمل کیا۔ پھر مسلم تاریخ میں یہ عمل مسلسل طور پر چلتا رہا، اور آج تک جاری ہے۔ دنیا میں بسے ہوئے تقریباً تمام مسلمان ہر سال رمضان کے مہینے میں روزہ رکھتے ہیں، اور قرآن پڑھتے ہیں۔ گویا اسلام کی تاریخ میں ایک عمارت بن رہی ہے۔ ہر سال اس کی ایک storey بنتی ہے۔ مشہور قول کے مطابق، ہجرت کے دوسرے سال رمضان کا روزہ فرض کیا اس اعتبار سے اس سال اس بلڈنگ کی 1440 ویں storey تعمیر ہوگی ہے۔ جو لوگ اس رمضان میں سچی اسپرٹ کے ساتھ روزہ رکھیں گے، ان کو اس تاریخی پر اس اس کا حصہ بننے کا موقع ملے گا، جس تاریخ کی ابتدا خود رسول اور اصحابِ رسول نے کی تھی۔

روزہ کیا ہے ۔ روزہ کو عام طور پر ایک پر اسرار عبادت سمجھا جاتا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ صبح سے شام تک بھوکے پیاسے رہ کر روزہ کو ایک رسم کے طور پر گزار لیا جائے، تو اس کا ثواب مل گیا۔ روزہ کا کمتر اندازہ (underestimation) ہے۔ روزہ بظاہر ایک پر مشقت عمل ہے، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ ایک اعلیٰ درجے کی تربیت ہے۔

یہ تربیت کس طرح ہو سکتی ہے۔ انسان یہ تربیت قرآن کے ذریعے حاصل کر سکتا ہے۔ رمضان نزولِ قرآن کا مہینہ ہے (البقرۃ، 185)۔ اس بنا پر علما نے رمضان کے مہینے کو قرآن کا مہینہ کہا ہے (اِلاِسْتِكَثَارِ مِنَ القِرَاءَةِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، وَذَلِكَ لِأَنَّهُ شَهْرُ الْقُرْآن ) شعب الایمان للبیہقی، جلد 2، صفحہ 414۔ یعنی قرآن کی اسٹڈی (study) کرنے کا مہینہ۔ قرآن کی اسٹڈی کا طریقہ کیا ہونا چاہیے۔ مثلاً قرآن میں بتایا گیا ہے: ﴿وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا﴾ (16:18)۔ اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گنو تو تم ان کو گن نہ سکو گے۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے خالق نے ہمارے لیے اتنی زیادہ نعمتیں عطا کی ہیں، جن کی کوئی گنتی نہیں۔ مثلاً سورج کی روشنی، آکسیجن، سوائل

(soil) سے غذا (food) کا نکلنا ، بارش کا برسنا ، وغیرہ۔

یہ سب وہ عطیات (نعمتیں) ہیں ، جو رات دن انسان کو خود بخود ملتی رہتی ہیں۔ لیکن یہ نعمتیں چونکہ یک طرفہ طور (unilateral) پر سپلائی کی جارہی ہیں۔ اس بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ انسان اس کو فار گرانٹیڈ (for granted) لے لیتا ہے ، اور جو اعتراف (acknowledgement) مطلوب ہے ، اس کو وہ کر نہیں پاتا۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہوتا ہے کہ انسان لپ سروس کے طور پر الحمد للہ، وغیرہ زبان سے ادا کر دیتا ہے۔ گہرے سنس میں انسان ان نعمتوں کا اعتراف نہیں کر پاتا۔ روزہ ایک ریگرس (rigorous) ٹریننگ ہے، تا کہ انسان جس چیز کو فار گرانٹیڈ لیے ہوئے ہے، اس کو وہ خالق کے عطیے کے طور پر ڈسکور کرے۔ روزے کی یہ اسپرٹ رسول اللہ کے اس واقعے میں ملتی ہے۔ حدیث کی کتابوں میں آتا ہے کہ رسول اللہ روزہ رکھ کر جب شام کو افطار کرتے، تو آپ کی زبان سے یہ الفاظ نکلتے تھے: ذَهَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوقُ، وَثَبَتَ الأَجْرُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ (سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 2357)۔ یعنی پیاس بجھ گئی، رگیں تر ہو گئیں ، اور اجر ثابت ہو گیا ان شاء اللہ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ کو evaluate کرنے کا تخلیقی (creative) طریقہ کیا وہ یہ ہے کہ روزہ رکھ کر آدمی کے اندر انعامات الہی کے احساس کا طوفان برپا ہو جائے ، روزہ رکھ کر آدمی کے اندر وہ زندہ احساس پیدا ہو، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ سے معلوم ہوتا ورنہ روزہ ایک رسم ہے، جس کا کوئی فائدہ نہ دنیا میں ہے، اور نہ آخرت میں۔ سائنسی مطالعے کے مطابق، تقریباً تیرہ بلین سال پہلے بگ بینگ کے ذریعے موجودہ دنیا کی تاریخ کا آغاز ہوا۔ یہ ستاروں اور کہکشاؤں سے بھری ہوئی ایک وسیع کائنات تھی۔ اس کائنات میں ملکی وے کے اندر وہ دنیا تھی، جس کو ہم سولر سسٹم نام سے جانتے ہیں۔ اسی شمسی نظام کے ایک سیارہ زمین پر انسان آباد ہے۔ یہ ایک پوری طرح کسٹم میڈ ورلڈ ہے۔ اسی بنا پر یہ ممکن ہوا کہ انسان اس زمین پر بسہولت آباد ہو، اور یہاں آزادی کے ساتھ اپنی ایک تہذیب بنائے۔

Printed page