فرقان کیا ہے
Al-Risala, April 2020, pp. 9–11
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: یٰاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَتَّقُوا اللَّهَ يَجْعَلْ لَكُمْ یعنی اے ایمان والو، اگر تم اللہ سے ڈرو گے تو وہ تمہارے لیے فرقان عطا کرے گا۔ فرقان کا لفظی مطلب ہے فرق کرنے والا۔ یہ لفظ جب دین کے معاملے میں بولا جائے، تو اس سے مراد ہوگا حق اور باطل کے درمیان فرق کرنے والا۔ اس معاملے میں تقویٰ کا رول یہ ہے کہ تقویٰ آدمی کے اندر حساسیت (sensitivity) پیدا کرتا ہے۔ متقی انسان حق اور ناحق کے معاملے میں بے حد حساس (sensitive) بن جاتا ہے۔
مفسر طبری نے فرقان کا مطلب ان الفاظ میں بیان کیا ہے: فُرْقَانُ يُفَرِّقُ فِي قُلُوبِهِمْ بَيْنَ الْحَقِّ وَالْبَاطِلِ، حَتَّى يَعْرِفُوهُ وَيَهْتَدُوا بِذَلِكَ الْفُرْقَانِ (تفسیر الطبری، 13/490)۔ وہ چیز ہے، جس سے انسان کے دلوں میں حق اور باطل کے درمیان فرق کیا جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ اس کی معرفت حاصل کرتے ہیں، اور اس فرقان کے ذریعے ہدایت حاصل کرتے ہیں۔
فرقان کا مطلب بصیرت یا معیار (criterion) ہے۔ بصیرت کسی آدمی میں وہ اندرونی روشنی پیدا کرتی ہے کہ وہ ظاہری پہلوؤں سے دھوکا کھائے بغیر ہر بات کو اس کے اصل روپ میں دیکھ سکے، وہ ادھر ادھر کے مغالطوں میں الجھے بغیر اصل حقیقت تک پہنچ جائے۔ فرقان کا یہ معاملہ ہر ایک کے ساتھ پیش آتا ہے، خواہ وہ ایک مذہبی آدمی ہو یا ایک تاجر اور ڈاکٹر اور انجینئر۔ اصلاً ایک انفرادی صفت ہے، یعنی حق و باطل میں امتیاز کی یہ صفت ابتدا میں فرد مومن میں پیدا ہوتی پھر بڑھ کر وہ گروہ مومن کی جماعتی صفت بن جاتی ہے۔ یہ صفت اس بات کی ضامن ہے کہ فرد مومن یا جماعت مومن ہر حال میں سچے راستے پر قائم رہے۔ کوئی خارجی واقعہ اس کو حق کے راستے سے ہٹانے والا نہ بنے۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ یہ صفت کسی آدمی کے اندر تقویٰ کے ذریعے پیدا ہوتی ہے۔
سے آدمی کے اندر اللہ کا ڈر پیدا ہوتا ہے۔ یہ ڈر ایک صاحب ایمان کو اللہ کے معاملے میں بہت زیادہ محتاط (cautious) بنا دیتا ہے۔ یہ صفت آدمی کو حق و باطل کے معاملے میں بہت زیادہ حساس بنا دیتی ہے۔ وہ ہر معاملے میں بہت زیادہ جان لیتا ہے کہ کہاں وہ حق پر قائم ہے، اور کہاں وہ حق سے تجاوز (deviate) کرنے والا بن گیا ہے۔ اس معاملے میں اس کی حساسیت اس کے لیے ایک ایسی داخلی صفت بن جاتی ہے، جو اس کو ہر موقعے پر چوکنا کردے۔ وہ حق سے بھٹکنے کے قریب پہنچ کر اس سے باخبر ہو جائے، اور دوبارہ حق کے راستے پر آ جائے۔
سائنسی ترازو (scientific balance) بے حد دقت (precision) کے ساتھ دو چیزوں میں وزن کے فرق کو بتا دیتا ہے۔ اسی طرح تقویٰ سے بننے والا فرقان گویا حق و باطل کا سائنٹفک ترازو وہ ادنیٰ فرق کے بغیر یہ بتا دیتا ہے کہ کس چیز میں حق کا پہلو کتنا ہے، اور باطل کا پہلو کتنا ہے۔ اس معاملے کا ایک اظہار انسان کے کلام میں ہوتا ہے۔ جن لوگوں کے اندر مبنی بر تقویٰ فرقان نہ بنا ہو، وہ الفاظ بولیں گے، لیکن ان کے الفاظ گہری معنویت سے خالی ہوتے ہیں۔ ان کے کلام میں وضوح (clarity) نہیں ہوتا۔ ان کے کلام میں لوگوں کو کوئی ٹیک اوے (takeaway) نہیں ملتا۔ کمیوں سے پاک صرف وہ کلام ہوتا ہے، جو صحیح معنوں میں کلام فرقان ہو۔
اگر آدمی کے اندر فرقان موجود ہو، تو اس کے اندر کرائٹیرین (criterion) موجود ہوگا، اس کے اندر وہ حساسیت پائی جائے گی، جو اس کے کلام کو چھانٹ کر اس قابل بنائے گی کہ وہ صرف وہ بات کہے، جو حقیقت واقعہ کے عین مطابق ہو۔ جس کلام میں باطل کا ادنیٰ شائبہ بھی موجود ہو، تو صاحب فرقان انسان کا نفیس ذوق اس کو قبول کرنے سے انکار کر دے گا۔
قرآن کی مذکورہ آیت میں فرقان سے مراد معنوی تفریق ہے۔ دوسرے لفظوں میں متعلق (relevant) اور غیر متعلق (irrelevant) کے فرق کا جاننا۔ تقویٰ کا رول اس معاملے میں یہ ہے کہ اللہ سے خوف کی بنا پر آدمی کے اندر حساسیت پیدا ہوتی ہے۔ وہ اس میں مانع بن جاتی ہے کہ وہ حق کے معاملے میں متعلق اور غیر متعلق بات کو ملا دے۔ وہ صرف الفاظ کو جانے، وہ اس بات کو نہ
جانے کہ ایک قسم کی بات، اور دوسری قسم کی بات میں کیا فرق ہے۔ یہی معنوی تفریق یا معنوی امتیاز کا دوسرا نام فرقان ہے۔
معنوی تفریق کے لیے داخلی حساسیت کے علاوہ کوئی اور چیز مؤثر نہیں بن سکتی۔ حساسیت کا واحد راز تقویٰ، یعنی اللہ کا خوف ہے۔ جس آدمی کے اندر اللہ کی پکڑ کا ڈر پیدا ہو جائے، تو وہ اس سے بچے گا کہ وہ ایسی کوئی بات کہے، جو اللہ کے یہاں قابلِ قبول نہ ہو۔ مثلاً قرآن میں اس نوعیت کی ایک مثال وہ ہے، جو اس آیت میں بیان کی گئی ہے: اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰو ۙ وَ اَحَلَّ اللَّهُ الْبَیْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا (2:275)۔ یعنی انھوں نے کہا کہ تجارت کرنا بھی ویسا ہی ہے جیسا سود لینا ۔ حالاں کہ اللہ نے تجارت کو حلال ٹھہرایا ہے، اور سود کو حرام کیا ہے۔ دونوں میں یہ فرق ہے کہ تجارت میں آدمی کسی کو کچھ دے کر اس سے کچھ لیتا ہے، جب کہ ربا (usury) میں آدمی کسی حاجت مند کا استحصال(exploit) کرتا ہے۔
اصل یہ ہے کہ تقویٰ کے نہ ہونے سے انسان کے اندر سے حساسیت ختم ہو جاتی ہے، اور جب حساسیت نہ ہو، تو وہ اسی قسم کی بات بولنے لگتا ہے۔ مثلاً لوہا اور روئی کے درمیان مادی فرق ہوتا ہے، اس فرق کو وہ ہاتھ سے چھو کر جان لیتا ہے۔ لیکن معنوی فرق اس سے مختلف ہے۔ معنوی فرق کو وہی انسان جان سکتا ہے، جو اللہ سے ڈرتا ہے، اور اللہ کے سامنے پیش ہونے سے کانپتا ہے۔ فرق کو انسان ہاتھ سے چھو کر جان سکتا ہے۔ لیکن معنوی فرق کا مسئلہ پہچان کا ہے۔ یہ پہچان صرف داخلی حساسیت کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔