Al-Risala · April 2020

فطرت کا قانون

Al-Risala, April 2020, pp. 19–20

By Maulana Wahiduddin Khan

انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے غیر معمولی صلاحیت لے کر پیدا ہوتا ہے۔ ان میں سے ایپک صلاحیت یہ ہے۔ اپنی نااہلی کو اہلیت میں کنورٹ کرنا، اپنے نہ ہونے کو ہونا بنانا۔ مثلاً کوئی آدمی اگر دیکھنے یا سننے کی صلاحیت کھودے، تو اس کی فطرت کے اندر ایک نیا عنصر جاگتا ہے۔ جو اس کو زیادہ سوچنے والا انسان بنا دیتا ہے۔ اس طرح وہ اپنی نااہلیت کو اہلیت میں تبدیل کر لیتا ہے۔ اس کی ایک تاریخی مثال معروف انگریزی شاعر جان ملٹن (1674-1608) کی ہے۔ سال کی عمر میں بالکل اندھا (completely blind) ہو گیا تھا۔ مگر اس نااہلی نے اس کے اندر ایک نئی اعلیٰ صلاحیت پیدا کر دی۔ وہ تھی تخیل (imagination) کی غیر معمولی صلاحیت۔ اب وہ لکھ پڑھ نہیں سکتا تھا، لیکن اس نے املا (dictation) کی مدد سے ایک ماسٹر پیس ایک (masterpiece epic)، پیراڈائز لاسٹ (Paradise Lost) تیار کیا۔ اس کی اہمیت کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے: The greatest epic poem in the English language...a work of unparalleled imaginative genius that shapes English literature even now. (www.bbc.com, Why You should Read the Paradise Lost, by Benjamin Ramm, 19 April 2017)

جدید دور میں جو چیزیں دریافت ہوئی ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ انسان کے اندر کچھ مخفی صلاحیتیں ہوتی ہیں۔ حتیٰ کہ اہلیت سے بظاہر محروم لوگوں کے اندر اہلیت کے نئے اسباب موجود ہوتے چنانچہ موجودہ زمانے میں ایک مستقل شعبہ بن گیا ہے کہ انسان کی چھپی ہوئی صلاحیت کو استعمال میں لایا جائے، یعنی ڈس ایبلڈ کوڈ فریٹلی ایبلڈ بنانا۔ موجودہ زمانے میں ترقی یافتہ ملکوں میں ایسے لوگوں کے لیے خصوصی انتظام ہوتا ہے۔

فطرت کے اس عطیے کا ایک پہلو یہ ہے کہ ایسے عورتوں یا مردوں کے اندر اضافی محرک (additional incentive) فطری طور پر پیدا کر دیا جاتا ہے۔ ایسے افراد کی بہترین مدد یہ ہے

کہ ان کی اس چھپی ہوئی صلاحیت کو انھیں یاد دلایا جائے۔ ان کے اندر یہ شعور جگایا جائے کہ وہ اپنی چھپی ہوئی صلاحیت کو تربیت دیں، اور اپنی بظاہر ناکامی کو کامیابی میں تبدیل کر لیں۔ ترقی یافتہ ملکوں میں یہ کام بہت بڑے پیمانے پر انجام دیا جا رہا ہے۔ یونیورسٹیوں اور دوسرے اداروں میں ایسے تربیتی کورس چلائے جاتے ہیں، جن میں ہر پہلو سے یہ کوشش کی جاتی ہے کہ ڈس ایبلڈ پرسن (disabled person) کو ایبلڈ پرسن بنایا جائے۔ انڈیا کے تعلیمی اداروں میں بھی ایسے شعبے قائم کیے گئے ہیں، جو فطری طور پر معذور لوگوں کے لیے ان کی چھپی ہوئی صلاحیتوں کو بیدار کریں، اور بظاہر معذور لوگوں کو غیر معذور بنائیں۔ قرآن میں فطرت کے اس پہلو کو دو مقام پر بیان کیا گیا ان میں سے ایک مقام پر یہ آیت ہے: وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ (51:19) یعنی اور ان کے مال میں سائل اور محروم کا حصہ ہے۔ دوسرے مقام پر یہ آیتیں ہیں: وَالَّذِينَ فِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُومٌ لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ (70:24-25) یعنی اور جن کے مالوں میں متعین حق ہے، سائل اور حدیث میں اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ فَتُرَدُّ عَلَى فَقَرَائِهِمْ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1496) ۔ ان کے مالدار لوگوں سے لیا جائے گا، اور ان کے بے مال لوگوں کی طرف لوٹایا جائے گا۔

وسیع تر انطباق کے اعتبار سے، ان آیات اور حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کے اندر اس قسم کی جو تعلیمات ہیں، ان کا مقصد یہ نہیں ہے کہ سماج میں مستقل طور پر دو قسم کے گروہ پیدا کیے جائیں، ایک محتاج لوگوں کا گروہ، اور دوسرا محتاج لوگوں کی مدد کرنے والا گروہ۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ فطرت کے نظام میں ایسا بار بار ہوتا ہے کہ کچھ لوگ فطری طور پر یا سماجی حالات کی بنا پر بظاہر معذور بن جاتے ہیں۔ اب سماج کا یا سماجی اداروں کا یہ کام ہے کہ وہ تعلیم و تربیت کے ذریعے ایسے لوگوں کی اپ لفٹ (uplift) کا انتظام کریں، ان کو معذور کے درجے سے اٹھا کر غیر معذور کے درجے میں شامل کریں۔ موجودہ زمانے میں ترقی یافتہ ملکوں میں یہ کام بہت بڑے پیمانے پر ہو رہا ہے۔ اسلام کو چاہیے کہ وہ ان کوششوں کو جانیں، اور ان کو اپنے سماجی نظام میں شامل کریں۔

Printed page