تطفیف پرویل
Al-Risala, April 2020, pp. 26–27
By Maulana Wahiduddin Khan
تجارت کو منصفانہ بنیاد پر قائم کرنا، شریعت الہی کا ایک اہم اصول ہے۔ اس سلسلے میں قرآن میں ایک بنیادی حکم یہ دیا گیا ہے کہ تجارتی سودے میں کوئی تاجر نہ کم تولے، اور نہ کم ناپے، بلکہ ناپ اور تول میں پوری طرح عدل سے کام لے۔ اس سلسلے میں قرآن کے چند حوالے یہ ہیں: وَلا تَنْقُصُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيْزَانَ (11:84)۔ یعنی ناپ اور تول میں کمی نہ کرو۔ وَلا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ (26:183)۔ یعنی لوگوں کو ان کی چیزیں گھٹا کر نہ دو۔ وَلا تُخْسِرُوا الْمِيْزَانَ (55:9)۔ یعنی اور تول میں نہ گھٹاؤ۔
اس کے علاوہ قرآن کی سورہ المطففین میں ایک اور حکم آیا ہے۔ وہ آیات یہ ہیں: وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ - الَّذِينَ إِذَا اكْتَالُوا عَلَى النَّاسِ يَسْتَوْفُونَ - وَإِذَا كَالُوهُمْ أَوْ وَزَنُوهُمْ يُخْسِرُونَ - أَلَا يَظُنُّ أُولَئِكَ أَنَّهُمْ مَبْعُوثُونَ - لِيَوْمٍ عَظِيمٍ - يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ (83:1-6) یعنی خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے، جو لوگوں سے ناپ کر لیں تو پورا لیں، اور جب اُن کو ناپ کر یا تول کر دیں تو گھٹا کر دیں۔ کیا یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ وہ اٹھائے جانے والے ہیں، ایک بڑے دن کے لیے، جس دن تمام لوگ خداوند عالم کے سامنے کھڑے ہوں گے۔
تطفیف کا لفظی معنی ہے ناپ تول میں کمی کرنا۔ سورہ المطففین کے حکم اور دوسری سورتوں کے حکم میں بظاہر لفظی اعتبار سے مشابہت ہے، یعنی دونوں میں ناپ اور تول کی زبان استعمال کی گئی مگر دونوں میں ایک بنیادی فرق ہے۔ وہ یہ کہ دوسری سورتوں میں دینے کے وقت یک طرفہ طور پر کم تولنے یا کم ناپنے کا ذکر ہے۔ مگر سورہ المطففین میں اس کے برعکس یہ کہا گیا ہے— وہ لوگ جو دوسروں سے ناپ کر لیں تو پورا لیں، اور جب اُن کو ناپ کر یا تول کر دیں تو گھٹا کر دیں۔ اس فرق پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دوسری سورتوں میں تاجرانہ بد معاملگی سے منع کیا مگر سورہ المطففین میں جو بات ہے، اُس کا تعلق تجارتی معاملے سے نہیں ہے۔ یہ دراصل ایک
انسانی کردار ہے، جس کو ناپ اور تول کی زبان میں بیان کیا گیا ہے۔ اس سے مراد وہ لوگ ہیں، جن کا مزاج یہ ہوا کہ اپنے معاملے میں اُن کا معیار کچھ ہو، اور دوسروں کے معاملے میں اُن کا معیار کچھ اور۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ جب اُن کی اپنی ذات کا ذکر ہو تو وہ صرف اپنی خوبیاں بیان کریں، اور جب دوسرے کا معاملہ ہو تو وہ اُس کی صرف برائیاں بیان کریں۔ اپنے معاملے کو بیان کرنے کے لیے اُن کو ہمیشہ خوب صورت الفاظ مل جائیں، اور دوسرے کے معاملے کو بیان کرنے کے لیے اُن کے پاس صرف برے الفاظ ہوں۔ وہ اپنے آپ کو تو ہمیشہ خوش نام رکھنا چاہتے ہوں، مگر دوسروں کے معاملے میں انھیں صرف اُن کی بدنامی سے دلچسپی ہو۔ ایک طرف وہ اپنے کارناموں کا بھر پور اعتراف چاہتے ہوں، اور دوسری طرف اُن کے سوا جو لوگ ہیں، اُن کا ذکر اس طرح کریں، جیسے کہ انھوں نے کوئی اچھا کام ہی انجام نہیں دیا۔
ان آیات میں ناپ اور تول کی زبان بطور تمثیل استعمال کی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی جس پیمانے سے دوسروں سے لے رہا ہے، اسی پیمانے سے اُسے دوسروں کو دینا بھی چاہیے۔ دوسروں سے وہ اپنا اعتراف چاہتا ہے تو اُس کو بھی دوسروں کا اعتراف کرنا چاہیے۔ دوسروں سے وہ چاہتا ہے کہ وہ اُس کو بدنام نہ کریں، تو اُس کو بھی چاہیے کہ وہ دوسروں کو بدنام کرنے سے پرہیز وہ چاہتا ہے کہ دوسرے لوگ حق کے معاملے میں اُس کا ساتھ دیں تو اُس کو بھی اسی طرح دوسروں کا ساتھ دینا چاہیے۔ وہ چاہتا ہے کہ دوسرے لوگ اُس کے بارے میں وہی بات کہیں جو واقعہ کے مطابق ہو تو اُس کو بھی دوسروں کے بارے میں ہمیشہ مطابق واقعہ کہنا چاہیے۔ تاریخ کے اکثر نزاعات بدگمانی کی بنیاد پر ہوئے ہیں، اور بدگمانی کا سبب ہمیشہ یہی تطفیف دو افراد یا دو گروہوں کے درمیان جب بھی نزاع ہوئی، تو اُس کا سبب ہمیشہ یہی تطفیف لوگوں نے جس کو اپنا حریف سمجھ لیا، اُس کی اچھائیوں کو بالکل نظر انداز کر دیا۔ البتہ اُس کی حقیقی یا غیر حقیقی برائیوں کو ڈھونڈھ کر نکالا، اور اُس کو عوام کے درمیان خوب پھیلا دیا۔ گھر کی انفرادی لڑائی سے لے کر باہر کی قومی لڑائیوں تک ہر جگہ یہی تطفیف کا معاملہ کام کرتا ہو نظر آئے گا۔